اِمتحانِ زندگی میں یہ، پہلی کامیابی ہے
سدا ایسے مقدر میں، تمھارے کامرانی ہو
دُعا ہے سب مراحل میں، ہمیشہ فاتح ٹھہرو
میرے "حاتم" تم پہ خاص، رب کی مہربانی ہو
(طارق اقبال حاوی)
اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر ایک نظم
میرے مولا تیرا صد شکر
تیرا صد شکر، بے حد شکر
اِک رونق دَر میں بھیجی ہے
اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے
تیری رحمت کا سایہ مولا
اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا
یہ حیات جو تُو نے دی مولا
اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا
اے کاتبِ تقدیر میری
ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
جو مجھ سے پوچھتے ہو تم
کہاں مصروف رہتا ہوں؟
نہیں کوئی رابطہ رکھتا
نہ تم کو وقت دیتا ہوں
ہاں بالکل سچ ہے یہ تو
گلہ تم جائز کرتے ہو
بہت بدل گیا ہوں میں
میری دنیا الگ ہے اب
تمھیں تشویش تو ہوگی؟
کہ ایسی کیا تبدیلی ہے؟
سنو تم کو بتانا ہے
کسی سے عشق کرتا ہوں
کہ اب میں آفس سے آکر
اسی کو وقت دیتا ہوں...
ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا
سبھی یادیں مٹا دیتے، مٹانا جو آساں ہوتا
محبتیں وقف ھیں میری، اب بھی اسکے لٸے ورنہ
نیا کوٸی عشق جما لیتے، جمانا جو آساں ہوتا
پکڑ ہے عشق کی ایسی، کہ دامن تار تار ہے
جھٹ سے دامن چھڑا لیتے، چھڑانا جو آساں ہوتا
انا کے ہم بھی قیدی تھے، بلا کے وہ بھی ضدی...
سلامت رہو، رب عمریں بڑھائے
کرو جو تمنا، وہ پوری ہو جائے
جنم دن مبارک۔۔۔
جنم دن مبارک۔۔۔
بچپن سے لے کر، آج تلک میں
یہ رسمی جملے، سنتا آیا
اِن اُڑتے جَھڑتے سالوں میں
بہت سے سپنے بُنتا آیا
بچپن سے اچھے جیون کے
جو سپنے ذہن پہ لادے ہیں
نِصف عمر کٹی اور یہ اب تک
ادھورے ہیں اور آدھے ہیں
تعبیروں کی...
موسم نے بدلی اَدا ، میرے پاس چلے آﺅ
مجھے کچھ نہ لگے اچھا، میرے پاس چلے آﺅ
میرے پاس چلے آﺅ، مجھے تم سے ملے راحت
ہے دِل کی یہی صدا، میرے پاس چلے آﺅ
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
اے پی ایس شہدا کی یاد میں ۔ ۔ ۔
16 دسمبر2014 کو پاکستان کے شہر پشاور میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا- اس روز بزدل دہشت گردوں نے پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے 141 افراد کو شہید کردیا- شہید ہونے والے افراد میں 132 معصوم پھول جبکہ 9 اساتذہ شامل تھے- یہ حملہ...
بڑی عجیب لڑکی ہے
کسی سے کچھ نہیں کہتی
زندگی کی تلخیوں کو
چپ چاپ ہے سہتی
بڑا ہے حوصلہ اس کا
جو اتنے دُکھ چھپاتی ہے
غموں سے چور ہو کر بھی
ہمیشہ مسکراتی ہے
صبر جب حد سے بڑھ جائے
درد جب سر کو چڑھ جائے
تو وائیلن تھام لیتی ہے
اور اکثر ایسا کرتی ہے
بجاتی ہے دُھنیں دِلسوز
اور من کو ہلکا کرتی ہے
نہیں...
اس عید پہ میں نے سوچا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو کرنا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو دِکھنا ہے
کچھ الگ سا اب سنورنا ہے
میں نے پوری کیں ہمیشہ ہی
اپنی دولت سے اُمیدیں اپنی
گزاری ہیں پہلے کتنی ہی
نئے کپڑوں میں عیدیں اپنی
مگر اب جو دَورِ وبا آیا
تو مجھے بھی یاد خدا آیا
فکریں جو حد سے بڑھ جائیں
جب قرضے سر پر چڑھ...
محبت میں دغا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
تمھیں اک دن بھلا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
میری جتنی محبت ہے، سبھی تیری امانت ہے
میں چاہت یہ گھٹا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
محبت سے تمھیں مل کے، کسی مورت کو میں دل کے
مندر میں سجا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
نہیں یہ وقت گزاری ہے، عمر یہ وقف ساری ہے...
رسے ساہنوں یاد نہیں کردے، تے راضیاں وی بھل جانا اے
مٹی دا ایہہ جسا جس دن، مٹی وچ رل جانا اے
کیہ کھویا ای، کیہ کھٹیا ای، کیہ لٹیا ای، کیہ وٹیا ای
عملاں والا کھاتہ تیرا، وچ قبریں کھل جانا اے
کاہدی آکڑ، کاہدی پھو۔ پھاں، چھڈ دے بندیا کرنی تو۔ تاں
جیویں لون کھرے وچ پانی، سبھ اوہداں گھل جانا اے...
پٹھیاں گلاں کر نہ جھلئی
ایویں ای اکھاں بھر نہ جھلئی
تیرا ساں میں، تیرا ای آں
سونہہ کھانا واں، ڈر نہ جھلئی
لوک تے پھرن اجاڑن نوں
کن لوکاں ول، دھر نہ جھلئی
کجھ حوصلے کر، ہتھ پیر وی مار
بس گھڑے بھروسے، تر نہ جھلئی
عشق اے ناں ازمائشاں دا
ایہنی چھیتی، ہر نہ جھلئی
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.