چلو اک کام کرتے ہیں
اس جاتی رت کی کسی شام
سنگ چائے پینے کا
کوئی اہتمام کرتے ہیں
شاید کہ پھر نہ پلٹے
یہ حسیں رت
شاید کہ پھر نہ لوٹیں
یہ حسین پل
باقی رہیں نہ شاید
خوشگواریاں بھی کل
چلو ہم خوشگوار رت میں
کچھ لمحے جی لیتے ہیں
ٓآﺅ جاناں کسی شام
اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
سنو جاناں
موسم بدل رہا ہے
اور موسم کے بدلنے پر
بہت سی تبدیلیاں
رونما ہونے لگی ہیں
ہواﺅں نے اپنے مزاج میں
دُھند بھر لی ہے۔۔۔
اور پیڑوں کی قسمت میں بھی
اُداسی کا موسم شروع ہونے کو ہے
یوں موسم بدلنے پر
بہت کچھ بدلتا ہے
ہمارے لباس، انداز، مشروب
اوڑھنا، بچھونا، چال ،ڈھال
اور بہت کچھ
مگر میرے جذبات کی...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.