سنگت بہہ کے چا پیندا واں
چُسکے لے کے چا پیندا واں
****
اُٹھدا بہندا، چلدا پِھردا
میں رہ رہ کے چا پیندا واں
****
مُشک تیری میرے سینے اُترے
جُوٹھی لے کے چا پیندا واں
****
دارُو ورگا کم جے کر دی
غم وچ ڈیہہ کے چا پیندا واں
****
وچ پردیسے یاد یاراں دی
دوری سہہ کے چا پیندا واں
****
اگلی وار اوہ نال...
جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں
ایسے لوگوں کا تو، بس علاج پتھر ہیں
****
واہ ری دولت، تو نہ رہی، تو میرے اپنے
کبھی جو موم تھے، وہ سارے آج پتھر ہیں
****
جس نے اِینٹیں اُٹھا کر، بنایا ہے بیٹا ڈاکٹر
اُس مزدور کے تو، سر کا تاج پتھر ہیں
****
کسی کا نام لکھنا، اور جھیل میں پھینکے جانا
اِن دنوں...
وجود ھے ناتواں، ھمت مگر ضرور کرتا ھے
جلا کر نفس کو جگنو، اندھیرا دُور کرتا ھے
****
سفرِ تیرگی میں اِک، بھلی اُمید ھے جگنو
ظلمت کے نگر میں، ساعتِ سعید ھے جگنو
****
کہنے کو یہ جگنو اِک، بہت حقیر پیکر ھے
قریب اہلِ نظر کے یہ، مگر فقیر پیکر ھے
****
ھے کتنی بے ضرر ھستی، کاسِ مدام ھو کر بھی
نہیں شعلہ...
جوگی رنگ وچ، رنگ جا جَھلیا، لگ جا ھُو دے ناویں
شاہ رگ تَوں وی، نیڑے مِلسی، جے تُوں جوگ جگاویں
مسجد مندر، جھگڑا جگ تے، کوئی وی بھید نہ جانے
سچے من نال، اکھ جے مِیٹیں، رب پاویں گا ساہنویں
یار منافق، سپ دی فطرت، ڈنگنوں باز نہ آوندے
اَگ تے اَگ وے، سیک دیوے گی، بھانویں بالو چھانویں
رب دے گھر...
جنت جیہیاں ٹھنڈیاں مِٹھیاں چھانواں نوں
رب میریا کیوں کھو لینا ایں ماواں نوں
روواں تَک تَک گھر دیاں ساریاں تھانواں نوں
رب میریا کیوں کھو لینا ایں ماواں نوں
*
جھوٹے مُنہ نال سانوں جِھڑکاں ماردی سی
رُس کے وی ماں ساڈے کم سنوار دی سی
چَیتے کر کر روئیے اُسدی وفاواں نوں
رب میریا کیوں کھو لینا ایں ماواں...
ہیں سردیاں پلٹنے کو۔۔۔
اب تم بھی پلٹنے کا سوچو
تنہا گزرے کتنے موسم
تم لوٹے نہ میرے ھمدم
جن پر ھم سنگ سنگ چلتے تھے
وہ راہیں ادھوری ھیں جاناں
والہانہ لپٹنے کو تم سے۔۔۔
میری بانہیں ادھوری ھیں جاناں
میری آنکھیں رستہ تکتی ہیں
اب پتھر بھی ہو سکتی ہیں
اب اِتنا مجھے ستاٶ نہ
تم جلدی لوٹ کے آٶ نا
ہیں...
یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم
مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے
کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*...
میرا پرچم فخر میرا، میری پہچان پاکستان
دھڑکن ہے میرے دل کی، میری جند جان پاکستان
****
بن کے لہو میری، ہر اِک رَگ میں بستا ہے
وفا و پاسداری ہے، میرا ایمان پاکستان
****
دفاع تیرا مقدم ہے، جو تُو ہے ، تو سب کچھ ہے
تیری حرمت کی خاطر سب، کروں قربان پاکستان
****
وطن تُو جب پکارے گا، مجھے موجود پائے گا...
سنو جاناں، سمجھ لو تم۔۔۔
محبت قرض ہوتی ہے
یہ ہو جائے تو ہر صورت
نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔
”محبت “ دو دلوں کا
ایک دھڑکن ، بن کے دھڑکنا ہے
”محبت “ دو بُتوں کا
ایک دوجے بِن تڑپنا ہے
شفا ہیں قربتیں اس میں
جدائی مرض ہوتی ہے
یہ ہو جائے تو ہر صورت
نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔
نفی اس میں نہیں ہوتی
یہ بس دھیان...
ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی
بیتے لمحوں کو سوچو کم دیوانی
نہیں یہ عشق ہے، نادانیاں ہیں
بہت کہتے تھے تم سے، ہم دیوانی
بگڑ جائیں جو گھاﺅ عشق کے تو
کوئی مِلتا نہیں مرہم دیوانی
لوگ پڑھ لیں گے تو رسوا کریں گے
کبھی آنکھیں نہ رکھنا نم دیوانی
چلی جانا نہیں روکونگا پھر میں
ذرا بارش تو جائے تھم دیوانی...
(نعت رسول مقبول ﷺ)
خدا کے بعد برتر، آپ ہی کی، ذات ہے آقا ﷺ
میں کیا لِکھوں، نہ لِکھنے کی، میری اوقات ہے آقا ﷺ
درود آپ پر بھیجوں، تو سب، بِگڑا سنورتا ہے
آپ ہی کی نسبت سے، بنے ہر بات ہے آقا ﷺ
تخلیقِ جہاں جو ہے، یہ سب ہے، آپ کی خاطر
آپ کے نام کا صدقہ، یہ کائنات ہے آقا ﷺ
ہو نظرِ کرم آقا، میں...
عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
میری سانسیں اَٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
محبت مر چُکی لیکن ، دل و دماغ میں اب تک
تیری یادیں بھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
نہیں تعلق کوئی باقی، تو رُک کر کیوں میری جانب
تیری آنکھیں مٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
نہیں پرواہ زمانے کی، مگر جو...
لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی
بنا کر دے ذرا اِک جام ساقی
پِلا وہ جام جو مدہوش کر دے
مِلے دل کو بھی کچھ آرام ساقی
چلا آیا ہوں تیرے پاس جو میں
نہیں مرنے سوا کچھ کام ساقی
نہ اُس کا اور نہ اپنا بنا میں
نہیں مجھ سا کوئی ناکام ساقی
یونہی گِر کے سنبھلنا سیکھنا ہے
سہارا دے مجھے نہ تھام ساقی
دَورِ...
حق دا نعرہ وَجنا حق اے
ظالم اَگے گجنا حق اے
چُپ جے سادھی جابر اَگے
تِیر تینوں وی وَجنا حق اے
یتیماں دا جے پِنڈا ڈھکیا
فیر تیرا وی سجنا حق اے
گیم شو وِچ کاراں ونڈن
دِھی ماڑے دی کجنا حق اے
گوانڈھی جے نہیں بھُکھے سُتے
بندیا تیرا رجنا حق اے
جے توُں ماپے راضی رکھے
سجناں دا وی سجنا حق اے
مار کے...
میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے
بہت بکھرا ہُوا ہوں میں، اور اب ترتیب لازم ہے
عجب وادی ہے وحشت کی، اَٹی ہے دُھول نفرت کی
گھر کو گھر بنانے کو، نئی ترکیب لازم ہے
مدھر سے راگنی گائیں، چلو کہ جام چھلکائیں
میرے گھر میں ہو آئے تم، کوئی تقریب لازم ہے
جہاں پر چار ذہنوں میں، بھرا شر ہو، کدورت...
سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں
ابھی بھی منتظر ہے وہ، یہی سُراغ ملتے ہیں
فاصلے ہوں یا فیصلے ہوں، اُنہیں جُدا نہیں کرتے
جنکے مخلص محبت میں، دِل و دماغ ملتے ہیں
محبت کا اور رنجش کا، جہاں آغاز ثابت ہے
وہیں پر بات کرتے ہیں، چلو اُس باغ ملتے ہیں
لگ کے دامن پہ دِکھلائیں، حقیقی عکس رشتوں کا...
یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو
سدا رہتے ہیں تیرے ہجر سے منسوب یہ آنسو
مے سے بھی کہیں بڑھ کر، مجھے مخمور رکھتے ہیں
پسندیدہ ہے ان دنوں میرا مشروب یہ آنسو
تمھارے ذکر ہو تو راز سارے کھول دیتے ہیں
میری آنکھوں میں رہتے ہیں، کہاں مجذوب یہ آنسو
کسی کی راہ کو تکتے، جب آنکھیں خشک ہو جاٸیں
تو لے...
ظلم یہ انتہا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا
کون حق و خطا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا
تیرے محبوب کی حرمت، کی خاطر کون نکلا ہے
کون مستعد جفا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا
یہاں عشق نبی میں جو، ڈٹے ہیں جبر کے آگے
نظر انکی جزا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا
شرابوں کو شہد بولے، وہ جو منصف اعلیٰ
مہرباں اقربا پر...
شاخوں سے جب روٹھے پتے
ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے
پھل اور پھول کو رنگت دے کر
پیلے پڑ گئے بھوکے پتے
کڑواہٹ کا بھید نہ پائے
جو بھی چکھ کر تھوکے پتے
سانس میں اپنی جی اٹھتے ہیں
جب بھی دیکھوں چھو کے پتے
ہواؤں میں اڑتے کرب سنائیں
شاخ سےبچھڑے روکھے پتے
زرد اور خستہ کب جیتے ہیں؟
ہوں جس بھی رنگ و بو کے پتے...
ابھی موجود ہوں زندہ ہوں، سلجھا لو جو الجھن ہے
غلط فہمی یا شکوے ہیں، جو میری ذات کے بارے
یہ کیا رسمی سا لکھتے ہو کہ مجھکو معاف کردینا
کبھی یکطرفہ نہ سلجھیں گے حقوق العباد ہیں پیارے
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.