tariq iqbal haavi

  1. Tariq Iqbal Haavi

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ تم چاند سے، پھولوں سے، کہیں خوبصورت ہو میرا پہلا ارماں ہو، تم میری ضرورت ہو مہکا ڈالو من کی کلیاں، اِک بار مسکراﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ میری شاعری میں تم ہو، میری گفتگو میں تم ہو دِل میں...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے اگرچہ بھرپور ہے خاروں کے سو درجے بہتر ہے حاوی کیکر بھی میرے یاروں سے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  3. Tariq Iqbal Haavi

    ایک شعر: وابستہ اس سال نو سے، کوئی امید مت کرنا

    وابستہ اس سال نو سے، کوئی امید مت کرنا صرف فرق ہے انیس بیس کا، اور کچھ نہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  4. Tariq Iqbal Haavi

    ایک شعر: راکھ کر دے گا اک دن

    راکھ کر دے گا اک دن، حاوی یوں تجھے رہنا دہکتے رہنا اندر سے، اور باہر سے بجھے رہنا (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  5. Tariq Iqbal Haavi

    کبھی تم سوچنا مت یہ

    محبت میں دغا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ تمھیں اک دن بھلا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ میری جتنی محبت ہے، سبھی تیری امانت ہے میں چاہت یہ گھٹا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ محبت سے تمھیں مل کے، کسی مورت کو میں دل کے مندر میں سجا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ نہیں یہ وقت گزاری ہے، عمر یہ وقف ساری ہے...
  6. Tariq Iqbal Haavi

    تنہا جینا بہترہے

    سنو۔۔۔ کچھ کہنا ہے تم سے میں نے کل رات دیکھی ہے اک آخری قسط ڈرامے کی کہ جس میں یہ دکھایا ہے مرتا ہے آخر میں، بہت جو پیار کرتا ہے یقیں جانو میرا دل بھی بہت ہی ڈر گیا ہے اب کہ اب یہ پھوٹنا چاہے بہت ہی بھر گیا ہے اب محبت نے ، وفاﺅں نے مجھے جھنجھوڑ ڈالا ہے اس آخری قسط نے مجھ کو بہت ہی توڑ ڈالا ہے کہ...
  7. Tariq Iqbal Haavi

    مٹی دا ایہہ جسا جس دن، مٹی وچ رُل جانا اے

    رسے ساہنوں یاد نہیں کردے، تے راضیاں وی بھل جانا اے مٹی دا ایہہ جسا جس دن، مٹی وچ رل جانا اے کیہ کھویا ای، کیہ کھٹیا ای، کیہ لٹیا ای، کیہ وٹیا ای عملاں والا کھاتہ تیرا، وچ قبریں کھل جانا اے کاہدی آکڑ، کاہدی پھو۔ پھاں، چھڈ دے بندیا کرنی تو۔ تاں جیویں لون کھرے وچ پانی، سبھ اوہداں گھل جانا اے...
  8. Tariq Iqbal Haavi

    ایویں ای اکھاں بھر نہ جھلئی

    پٹھیاں گلاں کر نہ جھلئی ایویں ای اکھاں بھر نہ جھلئی تیرا ساں میں، تیرا ای آں سونہہ کھانا واں، ڈر نہ جھلئی لوک تے پھرن اجاڑن نوں کن لوکاں ول، دھر نہ جھلئی کجھ حوصلے کر، ہتھ پیر وی مار بس گھڑے بھروسے، تر نہ جھلئی عشق اے ناں ازمائشاں دا ایہنی چھیتی، ہر نہ جھلئی (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  9. Tariq Iqbal Haavi

    کدی کلھیاں بہہ کے سوچی ہاں

    کدی کلھیاں بہہ کے سوچی ہاں تیرے وچ کاہدی آکڑ اے بس اکوں جھٹکے مک جانی جیہڑی چلدے ساہ دی آکڑ اے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  10. Tariq Iqbal Haavi

    مرشد مجھے کوئی آج ایسی چیز دیجئے

    مرشد مجھے کوئی آج ایسی چیز دیجئے بھلانے کا ہنر، یا کوئی تجویز دیجئے مرشد مجھے عشق سا لاحق ہوگیا مرشد بچا لیجئے، تعویز دیجئے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  11. Tariq Iqbal Haavi

    وبائیں ہم پہ غالب ہیں

    گناہوں پرہیں ہم نادم، تیری رحمت کے طالب ہیں الٰہی کر کرم اپنا، وبائیں ہم پہ غالب ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  12. Tariq Iqbal Haavi

    اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں

    چلو اک کام کرتے ہیں اس جاتی رت کی کسی شام سنگ چائے پینے کا کوئی اہتمام کرتے ہیں شاید کہ پھر نہ پلٹے یہ حسیں رت شاید کہ پھر نہ لوٹیں یہ حسین پل باقی رہیں نہ شاید خوشگواریاں بھی کل چلو ہم خوشگوار رت میں کچھ لمحے جی لیتے ہیں ٓآﺅ جاناں کسی شام اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  13. Tariq Iqbal Haavi

    بڑا موسم سہانا ہے

    فضاء بھی دلربا سی ہے، سماں بھی عاشقانہ ہے کوئی تدبیر ڈھونڈو نا، بڑا موسم سہانا ہے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  14. Tariq Iqbal Haavi

    موسم بدل رہا ہے۔۔۔

    سنو جاناں موسم بدل رہا ہے اور موسم کے بدلنے پر بہت سی تبدیلیاں رونما ہونے لگی ہیں ہواﺅں نے اپنے مزاج میں دُھند بھر لی ہے۔۔۔ اور پیڑوں کی قسمت میں بھی اُداسی کا موسم شروع ہونے کو ہے یوں موسم بدلنے پر بہت کچھ بدلتا ہے ہمارے لباس، انداز، مشروب اوڑھنا، بچھونا، چال ،ڈھال اور بہت کچھ مگر میرے جذبات کی...
  15. Tariq Iqbal Haavi

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟ تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے ”عاجز“ و ”شاکر“ ہو کر ہی ملے ہے ”قربت“ عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے اس...
  16. Tariq Iqbal Haavi

    اور زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا

    اور زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا، عقل کو بھی لگ جاتا ہے ۔ اور ایسا تب ہوتا ہے جب ہم بہت سے معاملات میں بجائے حقیقت کو دیکھنے کے اپنی آنکھیں محض اس لئے بند کر لینا مناسب سمجھ لیتے ہیں کہ بات ہمارے پیاروں کی ہوتی ہے۔ اور پھر یوں آنکھوں کو مسلسل بند کئے رکھنا عقل کو زنگ آلود کرتا رہتا ہے اور جب عقل...
  17. Tariq Iqbal Haavi

    خدارا کچھ ذرا سمجھو

    یہ ہے تو رب کی جانب سے، رضا سمجھو، سزا سمجھو نہیں ہے بات معمولی، خدارا کچھ ذرا سمجھو سانس لینا اذیت ہو، سوچو کیسی طبیعت ہو ہے یہ موت کی دستک، محض نہ عارضہ سمجھو جو لقمہ بن چکے اِسکا، انہی سے کچھ سبق سیکھو بہت تکلیف دہ ہے یہ، اسے موذی وَبا سمجھو بناﺅ لوگوں سے دُوری، اِسی میں ہے سمجھداری موت ہے...
  18. Tariq Iqbal Haavi

    اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر لکھی ایک نظم میرے مولا تیرا صد شکر تیرا صد شکر، بے حد شکر اِک رونق دَر میں بھیجی ہے اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے تیری رحمت کا سایہ مولا اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا یہ حیات جو تُو نے دی مولا اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا اے کاتبِ تقدیر میری ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
  19. Tariq Iqbal Haavi

    میں انساں ہوں، اس دنیا میں ۔ ۔ ۔

    میں انساں ہوں، اس دنیا میں سبھی مخلوقوں میں اشرف ہوں جدت کے صلاحیت کے، سبھی گن مجھ میں بستے ہیں ہر مسئلے سے نمٹنے کو، ذہن میں لاکھوں رستے ہیں میں جو چاہوں بنا ڈالوں، میں جو چاہوں مٹا ڈالوں چاہوں تو چاہتیں بانٹوں، چاہوں تو راحتیں بانٹوں چاہوں تو نفرتیں بو دوں، یوں اکثر قدریں بھی کھو دوں مگر میں...
Back
Top