میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ
کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ
تم چاند سے، پھولوں سے، کہیں خوبصورت ہو
میرا پہلا ارماں ہو، تم میری ضرورت ہو
مہکا ڈالو من کی کلیاں، اِک بار مسکراﺅ
کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ
میری شاعری میں تم ہو، میری گفتگو میں تم ہو
دِل میں...
محبت میں دغا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
تمھیں اک دن بھلا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
میری جتنی محبت ہے، سبھی تیری امانت ہے
میں چاہت یہ گھٹا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
محبت سے تمھیں مل کے، کسی مورت کو میں دل کے
مندر میں سجا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
نہیں یہ وقت گزاری ہے، عمر یہ وقف ساری ہے...
سنو۔۔۔
کچھ کہنا ہے تم سے
میں نے کل رات دیکھی ہے
اک آخری قسط ڈرامے کی
کہ جس میں یہ دکھایا ہے
مرتا ہے آخر میں، بہت جو پیار کرتا ہے
یقیں جانو میرا دل بھی
بہت ہی ڈر گیا ہے اب
کہ اب یہ پھوٹنا چاہے
بہت ہی بھر گیا ہے اب
محبت نے ، وفاﺅں نے
مجھے جھنجھوڑ ڈالا ہے
اس آخری قسط نے مجھ کو
بہت ہی توڑ ڈالا ہے
کہ...
رسے ساہنوں یاد نہیں کردے، تے راضیاں وی بھل جانا اے
مٹی دا ایہہ جسا جس دن، مٹی وچ رل جانا اے
کیہ کھویا ای، کیہ کھٹیا ای، کیہ لٹیا ای، کیہ وٹیا ای
عملاں والا کھاتہ تیرا، وچ قبریں کھل جانا اے
کاہدی آکڑ، کاہدی پھو۔ پھاں، چھڈ دے بندیا کرنی تو۔ تاں
جیویں لون کھرے وچ پانی، سبھ اوہداں گھل جانا اے...
پٹھیاں گلاں کر نہ جھلئی
ایویں ای اکھاں بھر نہ جھلئی
تیرا ساں میں، تیرا ای آں
سونہہ کھانا واں، ڈر نہ جھلئی
لوک تے پھرن اجاڑن نوں
کن لوکاں ول، دھر نہ جھلئی
کجھ حوصلے کر، ہتھ پیر وی مار
بس گھڑے بھروسے، تر نہ جھلئی
عشق اے ناں ازمائشاں دا
ایہنی چھیتی، ہر نہ جھلئی
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
چلو اک کام کرتے ہیں
اس جاتی رت کی کسی شام
سنگ چائے پینے کا
کوئی اہتمام کرتے ہیں
شاید کہ پھر نہ پلٹے
یہ حسیں رت
شاید کہ پھر نہ لوٹیں
یہ حسین پل
باقی رہیں نہ شاید
خوشگواریاں بھی کل
چلو ہم خوشگوار رت میں
کچھ لمحے جی لیتے ہیں
ٓآﺅ جاناں کسی شام
اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
سنو جاناں
موسم بدل رہا ہے
اور موسم کے بدلنے پر
بہت سی تبدیلیاں
رونما ہونے لگی ہیں
ہواﺅں نے اپنے مزاج میں
دُھند بھر لی ہے۔۔۔
اور پیڑوں کی قسمت میں بھی
اُداسی کا موسم شروع ہونے کو ہے
یوں موسم بدلنے پر
بہت کچھ بدلتا ہے
ہمارے لباس، انداز، مشروب
اوڑھنا، بچھونا، چال ،ڈھال
اور بہت کچھ
مگر میرے جذبات کی...
ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے
کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے
یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں
ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے
پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟
تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے
”عاجز“ و ”شاکر“ ہو کر ہی ملے ہے ”قربت“
عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے
اس...
اور زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا، عقل کو بھی لگ جاتا ہے ۔ اور ایسا تب ہوتا ہے جب ہم بہت سے معاملات میں بجائے حقیقت کو دیکھنے کے اپنی آنکھیں محض اس لئے بند کر لینا مناسب سمجھ لیتے ہیں کہ بات ہمارے پیاروں کی ہوتی ہے۔ اور پھر یوں آنکھوں کو مسلسل بند کئے رکھنا عقل کو زنگ آلود کرتا رہتا ہے اور جب عقل...
یہ ہے تو رب کی جانب سے، رضا سمجھو، سزا سمجھو
نہیں ہے بات معمولی، خدارا کچھ ذرا سمجھو
سانس لینا اذیت ہو، سوچو کیسی طبیعت ہو
ہے یہ موت کی دستک، محض نہ عارضہ سمجھو
جو لقمہ بن چکے اِسکا، انہی سے کچھ سبق سیکھو
بہت تکلیف دہ ہے یہ، اسے موذی وَبا سمجھو
بناﺅ لوگوں سے دُوری، اِسی میں ہے سمجھداری
موت ہے...
اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر لکھی ایک نظم
میرے مولا تیرا صد شکر
تیرا صد شکر، بے حد شکر
اِک رونق دَر میں بھیجی ہے
اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے
تیری رحمت کا سایہ مولا
اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا
یہ حیات جو تُو نے دی مولا
اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا
اے کاتبِ تقدیر میری
ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
میں انساں ہوں، اس دنیا میں
سبھی مخلوقوں میں اشرف ہوں
جدت کے صلاحیت کے، سبھی گن مجھ میں بستے ہیں
ہر مسئلے سے نمٹنے کو، ذہن میں لاکھوں رستے ہیں
میں جو چاہوں بنا ڈالوں، میں جو چاہوں مٹا ڈالوں
چاہوں تو چاہتیں بانٹوں، چاہوں تو راحتیں بانٹوں
چاہوں تو نفرتیں بو دوں، یوں اکثر قدریں بھی کھو دوں
مگر میں...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.