tariq iqbal haavi

  1. Tariq Iqbal Haavi

    حسن و دولت ہیں عارضی آخر

    حسن و دولت ہیں عارضی آخر خاک ہونی ہے دلکشی آخر نام، منصب، عروج، شہرت بھی سب یہ ہوتے ہیں موسمی آخر کیوں رنجیدہ ہو انکے جانے پر پنچھی ہوتے ہیں ہجرتی آخر ایک جگنو میرا ہم نفس بنا چھٹ گئی ساری تیرگی آخر تلخ گوؤں کی ہار لازم تھی میں نے سادھی تھی خامشی آخر شام مجھ سے ادھار مانگی ہے تم بھی نکلے ہو...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    محسنِ پاکستان ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان“ کی وفات پر کہا گیا ایک قطعہ۔۔۔

    سبھی اعزاز چھوٹے ہیں تیرے احسان کے آگے بھلا یہ قوم تیرے حق میں کیا اعزاز رکھے گی سلام اے میرے قائد.... تیری ہمت و جرات کو میرے محسن تیری خدمت تجھے ممتاز رکھے گی (طارق اقبال حاوی)
  3. Tariq Iqbal Haavi

    اساتذہ کرام کے عالمی دن پر چندسطریں ۔۔۔

    "استاد ایک ایسی ہستی کا نام ہے جو کہ ایک آفتاب کی مانند ہوتی ہے، اور آفتاب بھی ایسا جو غروب ہونے سے پہلے اپنی ہستی کے ذروں یعنی تعلیمات، خدمات اور تربیت سے حقیر ذروں یعنی شاگردوں میں روشنی بھر کر انہیں روشن ستاروں میں تبدیل کر جاتا ہے" اللہ کریم میرے اساتذہ کرام کو اچھی صحت والی لمبی عمر عطا...
  4. Tariq Iqbal Haavi

    اساتذہ کرام کے عالمی دن پر ایک شعر ۔۔۔

    جتنی بھی زمانے سے مجھے داد مِلی ہے میرا ایماں ہے کہ سب باعثِ استاد مِلی ہے (طارق اقبال حاوی)
  5. Tariq Iqbal Haavi

    رونق میلے مُک جاندے نیں

    رونق میلے مُک جاندے نیں ساہ جس ویلے رُک جاندے نیں **** جیہڑے کہندے جان توں پیارا لَوڑ پوے تے لک جاندے نیں **** بیج کے جے نہ راکھی رَکھیئے طوطے فصلاں ٹک جاندے نیں **** موڈھے چوڑے نہ رَکھ بندیا پچھلی عُمرے جھک جاندے نیں **** جُھک جا جَھلیا، بچیا رہیں گا آکڑے کل سبھ ٹھک جاندے نیں **** کجھ نہیں...
  6. Tariq Iqbal Haavi

    محبت روشنی بن کر دِلوں میں جگمگاتی ہے

    محبت روشنی بن کر دِلوں میں جگمگاتی ہے مٹا دیتی ہے رنج و غم ہمیں جینا سکھاتی ہے کبھی جب رات بھاری ہو ذہن پہ کرب طاری ہو چھائی بدحواسی ہو اُداسی ہی اُداسی ہو سکوں اِک پل نہ حاصل ہو سانس لینا بھی مشکل ہو کوئی جب بات نہ سمجھے تیرے جذبات نہ سمجھے کسی جانب سے راحت کی کوئی نگاہ نہ آئے ۔۔۔ نفرت کے...
  7. Tariq Iqbal Haavi

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم کچی...
  8. Tariq Iqbal Haavi

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم * بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم * بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم *...
  9. Tariq Iqbal Haavi

    میرا پرچم فخر میرا، میری پہچان پاکستان

    میرا پرچم فخر میرا، میری پہچان پاکستان دھڑکن ہے میرے دل کی، میری جند جان پاکستان **** بن کے لہو میری، ہر اِک رَگ میں بستا ہے وفا و پاسداری ہے، میرا ایمان پاکستان **** دفاع تیرا مقدم ہے، جو تُو ہے ، تو سب کچھ ہے تیری حرمت کی خاطر سب، کروں قربان پاکستان **** وطن تُو جب پکارے گا، مجھے موجود پائے گا...
  10. Tariq Iqbal Haavi

    محبت قرض ہوتی ہے۔۔۔

    سنو جاناں، سمجھ لو تم۔۔۔ محبت قرض ہوتی ہے یہ ہو جائے تو ہر صورت نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔ ”محبت “ دو دلوں کا ایک دھڑکن ، بن کے دھڑکنا ہے ”محبت “ دو بُتوں کا ایک دوجے بِن تڑپنا ہے شفا ہیں قربتیں اس میں جدائی مرض ہوتی ہے یہ ہو جائے تو ہر صورت نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔ نفی اس میں نہیں ہوتی یہ بس دھیان...
  11. Tariq Iqbal Haavi

    ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی

    ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی بیتے لمحوں کو سوچو کم دیوانی نہیں یہ عشق ہے، نادانیاں ہیں بہت کہتے تھے تم سے، ہم دیوانی بگڑ جائیں جو گھاﺅ عشق کے تو کوئی مِلتا نہیں مرہم دیوانی لوگ پڑھ لیں گے تو رسوا کریں گے کبھی آنکھیں نہ رکھنا نم دیوانی چلی جانا نہیں روکونگا پھر میں ذرا بارش تو جائے تھم دیوانی...
  12. Tariq Iqbal Haavi

    خدا کے بعد برتر، آپ ہی کی، ذات ہے آقا ﷺ

    (نعت رسول مقبول ﷺ) خدا کے بعد برتر، آپ ہی کی، ذات ہے آقا ﷺ میں کیا لِکھوں، نہ لِکھنے کی، میری اوقات ہے آقا ﷺ درود آپ پر بھیجوں، تو سب، بِگڑا سنورتا ہے آپ ہی کی نسبت سے، بنے ہر بات ہے آقا ﷺ تخلیقِ جہاں جو ہے، یہ سب ہے، آپ کی خاطر آپ کے نام کا صدقہ، یہ کائنات ہے آقا ﷺ ہو نظرِ کرم آقا، میں...
  13. Tariq Iqbal Haavi

    عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں

    عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں میری سانسیں اَٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں محبت مر چُکی لیکن ، دل و دماغ میں اب تک تیری یادیں بھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں نہیں تعلق کوئی باقی، تو رُک کر کیوں میری جانب تیری آنکھیں مٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں نہیں پرواہ زمانے کی، مگر جو...
  14. Tariq Iqbal Haavi

    لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی

    لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی بنا کر دے ذرا اِک جام ساقی پِلا وہ جام جو مدہوش کر دے مِلے دل کو بھی کچھ آرام ساقی چلا آیا ہوں تیرے پاس جو میں نہیں مرنے سوا کچھ کام ساقی نہ اُس کا اور نہ اپنا بنا میں نہیں مجھ سا کوئی ناکام ساقی یونہی گِر کے سنبھلنا سیکھنا ہے سہارا دے مجھے نہ تھام ساقی دَورِ...
  15. Tariq Iqbal Haavi

    حق دا نعرہ وَجنا حق اے

    حق دا نعرہ وَجنا حق اے ظالم اَگے گجنا حق اے چُپ جے سادھی جابر اَگے تِیر تینوں وی وَجنا حق اے یتیماں دا جے پِنڈا ڈھکیا فیر تیرا وی سجنا حق اے گیم شو وِچ کاراں ونڈن دِھی ماڑے دی کجنا حق اے گوانڈھی جے نہیں بھُکھے سُتے بندیا تیرا رجنا حق اے جے توُں ماپے راضی رکھے سجناں دا وی سجنا حق اے مار کے...
  16. Tariq Iqbal Haavi

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے بہت بکھرا ہُوا ہوں میں، اور اب ترتیب لازم ہے عجب وادی ہے وحشت کی، اَٹی ہے دُھول نفرت کی گھر کو گھر بنانے کو، نئی ترکیب لازم ہے مدھر سے راگنی گائیں، چلو کہ جام چھلکائیں میرے گھر میں ہو آئے تم، کوئی تقریب لازم ہے جہاں پر چار ذہنوں میں، بھرا شر ہو، کدورت...
  17. Tariq Iqbal Haavi

    سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں

    سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں ابھی بھی منتظر ہے وہ، یہی سُراغ ملتے ہیں فاصلے ہوں یا فیصلے ہوں، اُنہیں جُدا نہیں کرتے جنکے مخلص محبت میں، دِل و دماغ ملتے ہیں محبت کا اور رنجش کا، جہاں آغاز ثابت ہے وہیں پر بات کرتے ہیں، چلو اُس باغ ملتے ہیں لگ کے دامن پہ دِکھلائیں، حقیقی عکس رشتوں کا...
  18. Tariq Iqbal Haavi

    یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو

    یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو سدا رہتے ہیں تیرے ہجر سے منسوب یہ آنسو مے سے بھی کہیں بڑھ کر، مجھے مخمور رکھتے ہیں پسندیدہ ہے ان دنوں میرا مشروب یہ آنسو تمھارے ذکر ہو تو راز سارے کھول دیتے ہیں میری آنکھوں میں رہتے ہیں، کہاں مجذوب یہ آنسو کسی کی راہ کو تکتے، جب آنکھیں خشک ہو جاٸیں تو لے...
  19. Tariq Iqbal Haavi

    میرے مالک گواہ رہنا

    ظلم یہ انتہا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا کون حق و خطا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا تیرے محبوب کی حرمت، کی خاطر کون نکلا ہے کون مستعد جفا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا یہاں عشق نبی میں جو، ڈٹے ہیں جبر کے آگے نظر انکی جزا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا شرابوں کو شہد بولے، وہ جو منصف اعلیٰ مہرباں اقربا پر...
  20. Tariq Iqbal Haavi

    ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے

    شاخوں سے جب روٹھے پتے ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے پھل اور پھول کو رنگت دے کر پیلے پڑ گئے بھوکے پتے کڑواہٹ کا بھید نہ پائے جو بھی چکھ کر تھوکے پتے سانس میں اپنی جی اٹھتے ہیں جب بھی دیکھوں چھو کے پتے ہواؤں میں اڑتے کرب سنائیں شاخ سےبچھڑے روکھے پتے زرد اور خستہ کب جیتے ہیں؟ ہوں جس بھی رنگ و بو کے پتے...
Back
Top