ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی

Tariq Iqbal Haavi

Member
New Member
ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی
بیتے لمحوں کو سوچو کم دیوانی

نہیں یہ عشق ہے، نادانیاں ہیں
بہت کہتے تھے تم سے، ہم دیوانی

بگڑ جائیں جو گھاﺅ عشق کے تو
کوئی مِلتا نہیں مرہم دیوانی

لوگ پڑھ لیں گے تو رسوا کریں گے
کبھی آنکھیں نہ رکھنا نم دیوانی

چلی جانا نہیں روکونگا پھر میں
ذرا بارش تو جائے تھم دیوانی

دیکھ کر ہونٹ تیرے کپکپاتے
میرا گُھٹنے لگا ہے دم دیوانی

ہمیں کہہ دو جو دل میں ہے تمہارے
بھرم رکھ لیں گے تیرا ہم دیوانی

(طارق اقبال حاوی)​
 
Back
Top