جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں

Tariq Iqbal Haavi

Member
New Member
جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں
ایسے لوگوں کا تو، بس علاج پتھر ہیں
****
واہ ری دولت، تو نہ رہی، تو میرے اپنے
کبھی جو موم تھے، وہ سارے آج پتھر ہیں
****
جس نے اِینٹیں اُٹھا کر، بنایا ہے بیٹا ڈاکٹر
اُس مزدور کے تو، سر کا تاج پتھر ہیں
****
کسی کا نام لکھنا، اور جھیل میں پھینکے جانا
اِن دنوں میرا یہی، کام کاج پتھر ہیں
****
برسے مجنوں پہ کبھی، کبھی بَن کے تاج محل
اَمر رہتے ہیں، محبت کی لاج پتھر ہیں
****
ہماری سوچ بھی حاوی، ہے اُس ماہی سی جو
قید شیشے میں ہے، جسکا اناج پتھر ہیں
****
(طارق اقبال حاوی)​
 
Urdu Ghazal

شعر کے پردے میں،میں نے غم سنایا بھی تو بہت ہے
کر کے عشق، میں نے خود کو ستایا بھی تو بہت ہے
آمادہ ہجرت ہی نہیں ہوتا ہےـــــــــــــــــــ،یہ تیرا درد جدائی
عطائے محبوب، سمجھ کے سینے سے لگایا بھی تو بہت ہے
یہ تیرا ہجر زندگی کے کھا گیا کئی ماہ وسال
دن رات میں نے یہ غم، منایا بھی تو بہت ہے
تجھ کو سجدوں میں بھی مانگا،مگر رہا لاحاصل۔۔!
اپنے خدا کویہ شکوہ ،میں نےسنایا بھی تو بہت ہے
تیرے کن پہ یقیں،"عادل"کو اب بھی ہے میرے مولا۔
معافی کے اس طلبگار نے تجھے بھلایا بھی تو بہت ہے
 
Back
Top