اس عید پہ میں نے سوچا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو کرنا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو دِکھنا ہے
کچھ الگ سا اب سنورنا ہے
میں نے پوری کیں ہمیشہ ہی
اپنی دولت سے اُمیدیں اپنی
گزاری ہیں پہلے کتنی ہی
نئے کپڑوں میں عیدیں اپنی
مگر اب جو دَورِ وبا آیا
تو مجھے بھی یاد خدا آیا
فکریں جو حد سے بڑھ جائیں
جب قرضے سر پر چڑھ...
محبت میں دغا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
تمھیں اک دن بھلا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
میری جتنی محبت ہے، سبھی تیری امانت ہے
میں چاہت یہ گھٹا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
محبت سے تمھیں مل کے، کسی مورت کو میں دل کے
مندر میں سجا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ
نہیں یہ وقت گزاری ہے، عمر یہ وقف ساری ہے...
سنو۔۔۔
کچھ کہنا ہے تم سے
میں نے کل رات دیکھی ہے
اک آخری قسط ڈرامے کی
کہ جس میں یہ دکھایا ہے
مرتا ہے آخر میں، بہت جو پیار کرتا ہے
یقیں جانو میرا دل بھی
بہت ہی ڈر گیا ہے اب
کہ اب یہ پھوٹنا چاہے
بہت ہی بھر گیا ہے اب
محبت نے ، وفاﺅں نے
مجھے جھنجھوڑ ڈالا ہے
اس آخری قسط نے مجھ کو
بہت ہی توڑ ڈالا ہے
کہ...
رسے ساہنوں یاد نہیں کردے، تے راضیاں وی بھل جانا اے
مٹی دا ایہہ جسا جس دن، مٹی وچ رل جانا اے
کیہ کھویا ای، کیہ کھٹیا ای، کیہ لٹیا ای، کیہ وٹیا ای
عملاں والا کھاتہ تیرا، وچ قبریں کھل جانا اے
کاہدی آکڑ، کاہدی پھو۔ پھاں، چھڈ دے بندیا کرنی تو۔ تاں
جیویں لون کھرے وچ پانی، سبھ اوہداں گھل جانا اے...
پٹھیاں گلاں کر نہ جھلئی
ایویں ای اکھاں بھر نہ جھلئی
تیرا ساں میں، تیرا ای آں
سونہہ کھانا واں، ڈر نہ جھلئی
لوک تے پھرن اجاڑن نوں
کن لوکاں ول، دھر نہ جھلئی
کجھ حوصلے کر، ہتھ پیر وی مار
بس گھڑے بھروسے، تر نہ جھلئی
عشق اے ناں ازمائشاں دا
ایہنی چھیتی، ہر نہ جھلئی
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
چلو اک کام کرتے ہیں
اس جاتی رت کی کسی شام
سنگ چائے پینے کا
کوئی اہتمام کرتے ہیں
شاید کہ پھر نہ پلٹے
یہ حسیں رت
شاید کہ پھر نہ لوٹیں
یہ حسین پل
باقی رہیں نہ شاید
خوشگواریاں بھی کل
چلو ہم خوشگوار رت میں
کچھ لمحے جی لیتے ہیں
ٓآﺅ جاناں کسی شام
اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.