poet of feelings

  1. Tariq Iqbal Haavi

    بیٹے حاتم طارق کے لئے ایک قطعہ (پہلے سکول رزلٹ پر اول پوزیشن آنے پر)

    اِمتحانِ زندگی میں یہ، پہلی کامیابی ہے سدا ایسے مقدر میں، تمھارے کامرانی ہو دُعا ہے سب مراحل میں، ہمیشہ فاتح ٹھہرو میرے "حاتم" تم پہ خاص، رب کی مہربانی ہو (طارق اقبال حاوی)
  2. Tariq Iqbal Haavi

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر ایک نظم

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر ایک نظم میرے مولا تیرا صد شکر تیرا صد شکر، بے حد شکر اِک رونق دَر میں بھیجی ہے اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے تیری رحمت کا سایہ مولا اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا یہ حیات جو تُو نے دی مولا اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا اے کاتبِ تقدیر میری ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    میری دنیا الگ ہے اب

    جو مجھ سے پوچھتے ہو تم کہاں مصروف رہتا ہوں؟ نہیں کوئی رابطہ رکھتا نہ تم کو وقت دیتا ہوں ہاں بالکل سچ ہے یہ تو گلہ تم جائز کرتے ہو بہت بدل گیا ہوں میں میری دنیا الگ ہے اب تمھیں تشویش تو ہوگی؟ کہ ایسی کیا تبدیلی ہے؟ سنو تم کو بتانا ہے کسی سے عشق کرتا ہوں کہ اب میں آفس سے آکر اسی کو وقت دیتا ہوں...
  4. Tariq Iqbal Haavi

    ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا

    ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا سبھی یادیں مٹا دیتے، مٹانا جو آساں ہوتا محبتیں وقف ھیں میری، اب بھی اسکے لٸے ورنہ نیا کوٸی عشق جما لیتے، جمانا جو آساں ہوتا پکڑ ہے عشق کی ایسی، کہ دامن تار تار ہے جھٹ سے دامن چھڑا لیتے، چھڑانا جو آساں ہوتا انا کے ہم بھی قیدی تھے، بلا کے وہ بھی ضدی...
  5. Tariq Iqbal Haavi

    اپنے جنم دن پر ایک نظم ۔۔۔

    سلامت رہو، رب عمریں بڑھائے کرو جو تمنا، وہ پوری ہو جائے جنم دن مبارک۔۔۔ جنم دن مبارک۔۔۔ بچپن سے لے کر، آج تلک میں یہ رسمی جملے، سنتا آیا اِن اُڑتے جَھڑتے سالوں میں بہت سے سپنے بُنتا آیا بچپن سے اچھے جیون کے جو سپنے ذہن پہ لادے ہیں نِصف عمر کٹی اور یہ اب تک ادھورے ہیں اور آدھے ہیں تعبیروں کی...
  6. Tariq Iqbal Haavi

    بہت ہی سرد ہے موسم

    کھلے نہ بال چھوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم گرم کوٸی شال اوڑھو تم، بہت ہی سرد ہے موسم برسی ہے باغیچے میں، پوری رات ہی شبنم نہ ننگے پاٶں دوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم بہت نازک طبیعت ہو، میری مانو یہ مت کرنا نہ گیلے پھول توڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم برف پہ دل بنانا یوں، تمھیں بیمار کردے گا میری...
  7. Tariq Iqbal Haavi

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں جو دیکھے اِنھیں شکار بَنے، یہ داﺅ کہاں سے سیکھے ہیں؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  8. Tariq Iqbal Haavi

    موسم نے بدلی اَدا ، میرے پاس چلے آﺅ

    موسم نے بدلی اَدا ، میرے پاس چلے آﺅ مجھے کچھ نہ لگے اچھا، میرے پاس چلے آﺅ میرے پاس چلے آﺅ، مجھے تم سے ملے راحت ہے دِل کی یہی صدا، میرے پاس چلے آﺅ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  9. Tariq Iqbal Haavi

    ...سنوں جو خواب بچے کا

    سنوں جو خواب بچے کا، تو میری آنکھ بھر آئے مجھے کیوں روز سپنے میں، اَمّاں روٹی نظر آئے؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  10. Tariq Iqbal Haavi

    یوں سنگ چاٸے پیتے عمر بیت جاٸے

    بھلے کوٸی کتنی بھی اچھی بناٸے مگر دل کو بھاٸے، تمھاری ہی چاٸے تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگاٸے یہ ٹھنڈی ھواٸیں، بیتابی بڑھاٸیں ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آٸے یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر بھلا کوٸی تنہا یہ کیسے بیتاٸے تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے اک کپ...
  11. Tariq Iqbal Haavi

    بڑی عجیب لڑکی ہے

    بڑی عجیب لڑکی ہے کسی سے کچھ نہیں کہتی زندگی کی تلخیوں کو چپ چاپ ہے سہتی بڑا ہے حوصلہ اس کا جو اتنے دُکھ چھپاتی ہے غموں سے چور ہو کر بھی ہمیشہ مسکراتی ہے صبر جب حد سے بڑھ جائے درد جب سر کو چڑھ جائے تو وائیلن تھام لیتی ہے اور اکثر ایسا کرتی ہے بجاتی ہے دُھنیں دِلسوز اور من کو ہلکا کرتی ہے نہیں...
  12. Tariq Iqbal Haavi

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں جو دیکھے اِنھیں شکار بَنے، یہ داﺅ کہاں سے سیکھے ہیں؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  13. Tariq Iqbal Haavi

    خوب جانتا ہے حاوی وہ میرے شعر وں کی حقیقت

    خوب جانتا ہے حاوی وہ میرے شعر وں کی حقیقت واہ۔۔۔ واہ۔۔۔ کہہ کر تو محفل کا بھرم رکھتا ہے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  14. Tariq Iqbal Haavi

    ایک شعر ۔ ۔ ۔ سنوں جو خواب بچے کا

    سنوں جو خواب بچے کا، تو میری آنکھ بھر آئے مجھے کیوں روز سپنے میں، اَمّاں روٹی نظر آئے؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  15. Tariq Iqbal Haavi

    تمھارے بن ادھورے ہیں

    تمھیں ہم کیسے سمجھائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں کیسے ہم دل کو بہلائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں گزارش یہ ذرا سی ہے، تمھارے بن اُداسی ہے کہو تو ملنے آجائیں، ، تمھارے بن ادھورے ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  16. Tariq Iqbal Haavi

    اہل کشمیر کے نام ۔ ۔ ۔

    آگ چھوئے گی آشیاں، تب نکلیں گے ظلم ہے انتہا پر، کب نکلیں گے؟ دردِ انسانیت کا اب احساس نہیں جنکو کوئی اپنا جب مرے گا، تب نکلیں گے (شاعر:طارق اقبال حاوی)
  17. Tariq Iqbal Haavi

    دادا کی گھڑی

    کچھ پرانی سنبھالی چیزوں میں پڑی نکلی پکڑ کے چوما جو میرے دادا کی گھڑی نکلی اٹھا کے فوراً ہی ہاتھ میں ڈالی میں نے مجھے نہ آئی مگر پھر بھی پھنسالی میں نے یہی حرکت میں بچپن میں کیا کرتا تھا گھڑی یہ چھین میں دادا سے لیا کرتا تھا بہت پیار سے کہتے تھے اپنے پوتے سے میرے دادا کے الفاظ پھر یہ ہوتے تھے...
  18. Tariq Iqbal Haavi

    ذرا احساس ہونے دو

    مجھے وہ خود پکارے گا، ذرا احساس ہونے دو سبھی مسئلے سدھارے گا، ، ذرا احساس ہونے دو ابھی تو دیکھ کر مجھ کو، جو سر پہ خاک ڈالے ہے وہ خود کو پھر نکھارے گا، ذرا احساس ہونے دو ابھی جو اوڑھے پھرتا ہے ، پرائی عیش و عشرت کے لبادے سب اُتارے گا، ذرا احساس ہونے دو تمہیدیں باندھ کر اُلٹی، سدا جیتا ہے...
  19. Tariq Iqbal Haavi

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ تم چاند سے، پھولوں سے، کہیں خوبصورت ہو میرا پہلا ارماں ہو، تم میری ضرورت ہو مہکا ڈالو من کی کلیاں، اِک بار مسکراﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ میری شاعری میں تم ہو، میری گفتگو میں تم ہو دِل میں...
  20. Tariq Iqbal Haavi

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے اگرچہ بھرپور ہے خاروں کے سو درجے بہتر ہے حاوی کیکر بھی میرے یاروں سے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
Back
Top