haavi poetry

  1. Tariq Iqbal Haavi

    میرا پرچم فخر میرا، میری پہچان پاکستان

    میرا پرچم فخر میرا، میری پہچان پاکستان دھڑکن ہے میرے دل کی، میری جند جان پاکستان **** بن کے لہو میری، ہر اِک رَگ میں بستا ہے وفا و پاسداری ہے، میرا ایمان پاکستان **** دفاع تیرا مقدم ہے، جو تُو ہے ، تو سب کچھ ہے تیری حرمت کی خاطر سب، کروں قربان پاکستان **** وطن تُو جب پکارے گا، مجھے موجود پائے گا...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    محبت قرض ہوتی ہے۔۔۔

    سنو جاناں، سمجھ لو تم۔۔۔ محبت قرض ہوتی ہے یہ ہو جائے تو ہر صورت نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔ ”محبت “ دو دلوں کا ایک دھڑکن ، بن کے دھڑکنا ہے ”محبت “ دو بُتوں کا ایک دوجے بِن تڑپنا ہے شفا ہیں قربتیں اس میں جدائی مرض ہوتی ہے یہ ہو جائے تو ہر صورت نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔ نفی اس میں نہیں ہوتی یہ بس دھیان...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی

    ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی بیتے لمحوں کو سوچو کم دیوانی نہیں یہ عشق ہے، نادانیاں ہیں بہت کہتے تھے تم سے، ہم دیوانی بگڑ جائیں جو گھاﺅ عشق کے تو کوئی مِلتا نہیں مرہم دیوانی لوگ پڑھ لیں گے تو رسوا کریں گے کبھی آنکھیں نہ رکھنا نم دیوانی چلی جانا نہیں روکونگا پھر میں ذرا بارش تو جائے تھم دیوانی...
  4. Tariq Iqbal Haavi

    خدا کے بعد برتر، آپ ہی کی، ذات ہے آقا ﷺ

    (نعت رسول مقبول ﷺ) خدا کے بعد برتر، آپ ہی کی، ذات ہے آقا ﷺ میں کیا لِکھوں، نہ لِکھنے کی، میری اوقات ہے آقا ﷺ درود آپ پر بھیجوں، تو سب، بِگڑا سنورتا ہے آپ ہی کی نسبت سے، بنے ہر بات ہے آقا ﷺ تخلیقِ جہاں جو ہے، یہ سب ہے، آپ کی خاطر آپ کے نام کا صدقہ، یہ کائنات ہے آقا ﷺ ہو نظرِ کرم آقا، میں...
  5. Tariq Iqbal Haavi

    لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی

    لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی بنا کر دے ذرا اِک جام ساقی پِلا وہ جام جو مدہوش کر دے مِلے دل کو بھی کچھ آرام ساقی چلا آیا ہوں تیرے پاس جو میں نہیں مرنے سوا کچھ کام ساقی نہ اُس کا اور نہ اپنا بنا میں نہیں مجھ سا کوئی ناکام ساقی یونہی گِر کے سنبھلنا سیکھنا ہے سہارا دے مجھے نہ تھام ساقی دَورِ...
  6. Tariq Iqbal Haavi

    حق دا نعرہ وَجنا حق اے

    حق دا نعرہ وَجنا حق اے ظالم اَگے گجنا حق اے چُپ جے سادھی جابر اَگے تِیر تینوں وی وَجنا حق اے یتیماں دا جے پِنڈا ڈھکیا فیر تیرا وی سجنا حق اے گیم شو وِچ کاراں ونڈن دِھی ماڑے دی کجنا حق اے گوانڈھی جے نہیں بھُکھے سُتے بندیا تیرا رجنا حق اے جے توُں ماپے راضی رکھے سجناں دا وی سجنا حق اے مار کے...
  7. Tariq Iqbal Haavi

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے بہت بکھرا ہُوا ہوں میں، اور اب ترتیب لازم ہے عجب وادی ہے وحشت کی، اَٹی ہے دُھول نفرت کی گھر کو گھر بنانے کو، نئی ترکیب لازم ہے مدھر سے راگنی گائیں، چلو کہ جام چھلکائیں میرے گھر میں ہو آئے تم، کوئی تقریب لازم ہے جہاں پر چار ذہنوں میں، بھرا شر ہو، کدورت...
  8. Tariq Iqbal Haavi

    سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں

    سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں ابھی بھی منتظر ہے وہ، یہی سُراغ ملتے ہیں فاصلے ہوں یا فیصلے ہوں، اُنہیں جُدا نہیں کرتے جنکے مخلص محبت میں، دِل و دماغ ملتے ہیں محبت کا اور رنجش کا، جہاں آغاز ثابت ہے وہیں پر بات کرتے ہیں، چلو اُس باغ ملتے ہیں لگ کے دامن پہ دِکھلائیں، حقیقی عکس رشتوں کا...
  9. Tariq Iqbal Haavi

    یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو

    یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو سدا رہتے ہیں تیرے ہجر سے منسوب یہ آنسو مے سے بھی کہیں بڑھ کر، مجھے مخمور رکھتے ہیں پسندیدہ ہے ان دنوں میرا مشروب یہ آنسو تمھارے ذکر ہو تو راز سارے کھول دیتے ہیں میری آنکھوں میں رہتے ہیں، کہاں مجذوب یہ آنسو کسی کی راہ کو تکتے، جب آنکھیں خشک ہو جاٸیں تو لے...
  10. Tariq Iqbal Haavi

    میرے مالک گواہ رہنا

    ظلم یہ انتہا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا کون حق و خطا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا تیرے محبوب کی حرمت، کی خاطر کون نکلا ہے کون مستعد جفا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا یہاں عشق نبی میں جو، ڈٹے ہیں جبر کے آگے نظر انکی جزا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا شرابوں کو شہد بولے، وہ جو منصف اعلیٰ مہرباں اقربا پر...
  11. Tariq Iqbal Haavi

    ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے

    شاخوں سے جب روٹھے پتے ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے پھل اور پھول کو رنگت دے کر پیلے پڑ گئے بھوکے پتے کڑواہٹ کا بھید نہ پائے جو بھی چکھ کر تھوکے پتے سانس میں اپنی جی اٹھتے ہیں جب بھی دیکھوں چھو کے پتے ہواؤں میں اڑتے کرب سنائیں شاخ سےبچھڑے روکھے پتے زرد اور خستہ کب جیتے ہیں؟ ہوں جس بھی رنگ و بو کے پتے...
  12. Tariq Iqbal Haavi

    ابھی موجود ہوں زندہ ہوں، سلجھا لو جو الجھن ہے

    ابھی موجود ہوں زندہ ہوں، سلجھا لو جو الجھن ہے غلط فہمی یا شکوے ہیں، جو میری ذات کے بارے یہ کیا رسمی سا لکھتے ہو کہ مجھکو معاف کردینا کبھی یکطرفہ نہ سلجھیں گے حقوق العباد ہیں پیارے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  13. Tariq Iqbal Haavi

    بیٹے حاتم طارق کے لئے ایک قطعہ (پہلے سکول رزلٹ پر اول پوزیشن آنے پر)

    اِمتحانِ زندگی میں یہ، پہلی کامیابی ہے سدا ایسے مقدر میں، تمھارے کامرانی ہو دُعا ہے سب مراحل میں، ہمیشہ فاتح ٹھہرو میرے "حاتم" تم پہ خاص، رب کی مہربانی ہو (طارق اقبال حاوی)
  14. Tariq Iqbal Haavi

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر ایک نظم

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر ایک نظم میرے مولا تیرا صد شکر تیرا صد شکر، بے حد شکر اِک رونق دَر میں بھیجی ہے اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے تیری رحمت کا سایہ مولا اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا یہ حیات جو تُو نے دی مولا اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا اے کاتبِ تقدیر میری ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
  15. Tariq Iqbal Haavi

    میری دنیا الگ ہے اب

    جو مجھ سے پوچھتے ہو تم کہاں مصروف رہتا ہوں؟ نہیں کوئی رابطہ رکھتا نہ تم کو وقت دیتا ہوں ہاں بالکل سچ ہے یہ تو گلہ تم جائز کرتے ہو بہت بدل گیا ہوں میں میری دنیا الگ ہے اب تمھیں تشویش تو ہوگی؟ کہ ایسی کیا تبدیلی ہے؟ سنو تم کو بتانا ہے کسی سے عشق کرتا ہوں کہ اب میں آفس سے آکر اسی کو وقت دیتا ہوں...
  16. Tariq Iqbal Haavi

    ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا

    ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا سبھی یادیں مٹا دیتے، مٹانا جو آساں ہوتا محبتیں وقف ھیں میری، اب بھی اسکے لٸے ورنہ نیا کوٸی عشق جما لیتے، جمانا جو آساں ہوتا پکڑ ہے عشق کی ایسی، کہ دامن تار تار ہے جھٹ سے دامن چھڑا لیتے، چھڑانا جو آساں ہوتا انا کے ہم بھی قیدی تھے، بلا کے وہ بھی ضدی...
  17. Tariq Iqbal Haavi

    اپنے جنم دن پر ایک نظم ۔۔۔

    سلامت رہو، رب عمریں بڑھائے کرو جو تمنا، وہ پوری ہو جائے جنم دن مبارک۔۔۔ جنم دن مبارک۔۔۔ بچپن سے لے کر، آج تلک میں یہ رسمی جملے، سنتا آیا اِن اُڑتے جَھڑتے سالوں میں بہت سے سپنے بُنتا آیا بچپن سے اچھے جیون کے جو سپنے ذہن پہ لادے ہیں نِصف عمر کٹی اور یہ اب تک ادھورے ہیں اور آدھے ہیں تعبیروں کی...
  18. Tariq Iqbal Haavi

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں جو دیکھے اِنھیں شکار بَنے، یہ داﺅ کہاں سے سیکھے ہیں؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  19. Tariq Iqbal Haavi

    موسم نے بدلی اَدا ، میرے پاس چلے آﺅ

    موسم نے بدلی اَدا ، میرے پاس چلے آﺅ مجھے کچھ نہ لگے اچھا، میرے پاس چلے آﺅ میرے پاس چلے آﺅ، مجھے تم سے ملے راحت ہے دِل کی یہی صدا، میرے پاس چلے آﺅ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  20. Tariq Iqbal Haavi

    اے پی ایس شہدا کی یاد میں ۔ ۔ ۔

    اے پی ایس شہدا کی یاد میں ۔ ۔ ۔ 16 دسمبر2014 کو پاکستان کے شہر پشاور میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا- اس روز بزدل دہشت گردوں نے پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے 141 افراد کو شہید کردیا- شہید ہونے والے افراد میں 132 معصوم پھول جبکہ 9 اساتذہ شامل تھے- یہ حملہ...
Back
Top