یہ ہے تو رب کی جانب سے، رضا سمجھو، سزا سمجھو
نہیں ہے بات معمولی، خدارا کچھ ذرا سمجھو
سانس لینا اذیت ہو، سوچو کیسی طبیعت ہو
ہے یہ موت کی دستک، محض نہ عارضہ سمجھو
جو لقمہ بن چکے اِسکا، انہی سے کچھ سبق سیکھو
بہت تکلیف دہ ہے یہ، اسے موذی وَبا سمجھو
بناﺅ لوگوں سے دُوری، اِسی میں ہے سمجھداری
موت ہے...
اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر لکھی ایک نظم
میرے مولا تیرا صد شکر
تیرا صد شکر، بے حد شکر
اِک رونق دَر میں بھیجی ہے
اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے
تیری رحمت کا سایہ مولا
اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا
یہ حیات جو تُو نے دی مولا
اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا
اے کاتبِ تقدیر میری
ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
بڑے مجبور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے
غموں سے چور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے
مولا معاف کر دے تو، ہماری سب خطاؤں کو
بہت رنجور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے
(طارق اقبال حاوی)
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.