سبحان اللہ کیا تھی اُس پار سے، اِس پار کی حسرت
کتنی شدت سے تھی محبوب کے دیدار کی حسرت
نہ ہو بیاں، کشش کیا تھی، نگاہِ التفات میں
بلایا عرش پر اُن کو، فرشتوں کی برات میں
بیٹھے براق پر گزرے جہاں سے بھی آقا پیارے
پڑھیں درود صف باندھے، ملائک و انبیاء سارے
کئے ساکت جہاں سارے، کوئی حرکت نہ ہو حائل...
سنو جاناں....
کیوں دوری کو لے کر
یوں تم اداس رہتی ہو؟
بھلے تم دور ہو مجھ سے
مگر ہر پل ہر لمحہ
دل کے پاس رہتی ہو
قسم جاناں تمہیں میری
کہ اب اس دوری کو لے کر
نہ دل اداس رکھنا تم
مجھے موجود پاٶ گی
میری یادیں میری باتیں
بس اپنے پاس رکھنا تم
فاصلے جو مقدر ہیں
ہمیشہ تو نہیں رہنے
ہنسی چہرے کِھلائے گی...
جئے جاٶں ملن کی آرزو میں
کٹے دن رات تیری جستجو میں
*
نہیں اوجھل تو مجھ سے ایک پل بھی
تیری صورت ہے گھر کے چارسو میں
*
اترے کانوں سے دل تک اک شیرینی
عجب جادو ہے تیری گفتگو میں
*
اسے دیکھوں تو بہکوں بن پئے ہی
کشش ایسی ہے میرے ہم سُبو میں
*
کشش غزلوں میں یونہی تو نہیں ہے
تو ہے رہتا خیالِ آبرو میں
*...
کس سَمت چل پڑی ہے خدائی میرے خدا
نفرت ہی دے رہی ہے دِکھائی میرے خدا
****
امن و اماں سے خالی دُنیا کیوں ہو گئی
تُو نے تَو نہ تھی ایسی بنائی میرے خدا
****
ذہنوں پہ اب سوار بس فکرِ معاش ہے
مِل جائے کاش بھوک سے رہائی میرے خدا
****
جسکا بھی جتنا بھی یہاں چلتا ہے ذور تَو
قیامت ہے ہر اُس شخص نے...
جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں
ایسے لوگوں کا تو، بس علاج پتھر ہیں
****
واہ ری دولت، تو نہ رہی، تو میرے اپنے
کبھی جو موم تھے، وہ سارے آج پتھر ہیں
****
جس نے اِینٹیں اُٹھا کر، بنایا ہے بیٹا ڈاکٹر
اُس مزدور کے تو، سر کا تاج پتھر ہیں
****
کسی کا نام لکھنا، اور جھیل میں پھینکے جانا
اِن دنوں...
وجود ھے ناتواں، ھمت مگر ضرور کرتا ھے
جلا کر نفس کو جگنو، اندھیرا دُور کرتا ھے
****
سفرِ تیرگی میں اِک، بھلی اُمید ھے جگنو
ظلمت کے نگر میں، ساعتِ سعید ھے جگنو
****
کہنے کو یہ جگنو اِک، بہت حقیر پیکر ھے
قریب اہلِ نظر کے یہ، مگر فقیر پیکر ھے
****
ھے کتنی بے ضرر ھستی، کاسِ مدام ھو کر بھی
نہیں شعلہ...
سنو جاناں، سمجھ لو تم۔۔۔
محبت قرض ہوتی ہے
یہ ہو جائے تو ہر صورت
نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔
”محبت “ دو دلوں کا
ایک دھڑکن ، بن کے دھڑکنا ہے
”محبت “ دو بُتوں کا
ایک دوجے بِن تڑپنا ہے
شفا ہیں قربتیں اس میں
جدائی مرض ہوتی ہے
یہ ہو جائے تو ہر صورت
نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔
نفی اس میں نہیں ہوتی
یہ بس دھیان...
ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی
بیتے لمحوں کو سوچو کم دیوانی
نہیں یہ عشق ہے، نادانیاں ہیں
بہت کہتے تھے تم سے، ہم دیوانی
بگڑ جائیں جو گھاﺅ عشق کے تو
کوئی مِلتا نہیں مرہم دیوانی
لوگ پڑھ لیں گے تو رسوا کریں گے
کبھی آنکھیں نہ رکھنا نم دیوانی
چلی جانا نہیں روکونگا پھر میں
ذرا بارش تو جائے تھم دیوانی...
عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
میری سانسیں اَٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
محبت مر چُکی لیکن ، دل و دماغ میں اب تک
تیری یادیں بھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
نہیں تعلق کوئی باقی، تو رُک کر کیوں میری جانب
تیری آنکھیں مٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
نہیں پرواہ زمانے کی، مگر جو...
لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی
بنا کر دے ذرا اِک جام ساقی
پِلا وہ جام جو مدہوش کر دے
مِلے دل کو بھی کچھ آرام ساقی
چلا آیا ہوں تیرے پاس جو میں
نہیں مرنے سوا کچھ کام ساقی
نہ اُس کا اور نہ اپنا بنا میں
نہیں مجھ سا کوئی ناکام ساقی
یونہی گِر کے سنبھلنا سیکھنا ہے
سہارا دے مجھے نہ تھام ساقی
دَورِ...
میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے
بہت بکھرا ہُوا ہوں میں، اور اب ترتیب لازم ہے
عجب وادی ہے وحشت کی، اَٹی ہے دُھول نفرت کی
گھر کو گھر بنانے کو، نئی ترکیب لازم ہے
مدھر سے راگنی گائیں، چلو کہ جام چھلکائیں
میرے گھر میں ہو آئے تم، کوئی تقریب لازم ہے
جہاں پر چار ذہنوں میں، بھرا شر ہو، کدورت...
یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو
سدا رہتے ہیں تیرے ہجر سے منسوب یہ آنسو
مے سے بھی کہیں بڑھ کر، مجھے مخمور رکھتے ہیں
پسندیدہ ہے ان دنوں میرا مشروب یہ آنسو
تمھارے ذکر ہو تو راز سارے کھول دیتے ہیں
میری آنکھوں میں رہتے ہیں، کہاں مجذوب یہ آنسو
کسی کی راہ کو تکتے، جب آنکھیں خشک ہو جاٸیں
تو لے...
بھلے کوٸی کتنی بھی اچھی بناٸے
مگر دل کو بھاٸے، تمھاری ہی چاٸے
تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو
ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگاٸے
یہ ٹھنڈی ھواٸیں، بیتابی بڑھاٸیں
ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آٸے
یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر
بھلا کوٸی تنہا یہ کیسے بیتاٸے
تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے
اک کپ...
بڑی عجیب لڑکی ہے
کسی سے کچھ نہیں کہتی
زندگی کی تلخیوں کو
چپ چاپ ہے سہتی
بڑا ہے حوصلہ اس کا
جو اتنے دُکھ چھپاتی ہے
غموں سے چور ہو کر بھی
ہمیشہ مسکراتی ہے
صبر جب حد سے بڑھ جائے
درد جب سر کو چڑھ جائے
تو وائیلن تھام لیتی ہے
اور اکثر ایسا کرتی ہے
بجاتی ہے دُھنیں دِلسوز
اور من کو ہلکا کرتی ہے
نہیں...
تمھیں ہم کیسے سمجھائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں
کیسے ہم دل کو بہلائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں
گزارش یہ ذرا سی ہے، تمھارے بن اُداسی ہے
کہو تو ملنے آجائیں، ، تمھارے بن ادھورے ہیں
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
آگ چھوئے گی آشیاں، تب نکلیں گے
ظلم ہے انتہا پر، کب نکلیں گے؟
دردِ انسانیت کا اب احساس نہیں جنکو
کوئی اپنا جب مرے گا، تب نکلیں گے
(شاعر:طارق اقبال حاوی)
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.