urdu nazam

  1. Tariq Iqbal Haavi

    ہیں سردیاں پلٹنے کو اب تم بھی پلٹنے کا سوچو

    ہیں سردیاں پلٹنے کو اب تم بھی پلٹنے کا سوچو تنہا گزرے کتنے موسم تم لوٹے نہ میرے ھمدم جن پر ھم سنگ سنگ چلتے تھے وہ راہیں ادھوری ھیں جاناں والہانہ لپٹنے کو تم سے۔۔۔ میری بانہیں ادھوری ھیں جاناں میری آنکھیں رستہ تکتی ہیں اب پتھر بھی ہو سکتی ہیں اب اِتنا مجھے ستاٶ نہ تم جلدی لوٹ کے آٶ نا ہیں سردیاں...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    جلا کر نفس کو جگنو، اندھیرا دُور کرتا ھے

    وجود ھے ناتواں، ھمت مگر ضرور کرتا ھے جلا کر نفس کو جگنو، اندھیرا دُور کرتا ھے **** سفرِ تیرگی میں اِک، بھلی اُمید ھے جگنو ظلمت کے نگر میں، ساعتِ سعید ھے جگنو **** کہنے کو یہ جگنو اِک، بہت حقیر پیکر ھے قریب اہلِ نظر کے یہ، مگر فقیر پیکر ھے **** ھے کتنی بے ضرر ھستی، کاسِ مدام ھو کر بھی نہیں شعلہ...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    محبت روشنی بن کر دِلوں میں جگمگاتی ہے

    محبت روشنی بن کر دِلوں میں جگمگاتی ہے مٹا دیتی ہے رنج و غم ہمیں جینا سکھاتی ہے کبھی جب رات بھاری ہو ذہن پہ کرب طاری ہو چھائی بدحواسی ہو اُداسی ہی اُداسی ہو سکوں اِک پل نہ حاصل ہو سانس لینا بھی مشکل ہو کوئی جب بات نہ سمجھے تیرے جذبات نہ سمجھے کسی جانب سے راحت کی کوئی نگاہ نہ آئے ۔۔۔ نفرت کے...
  4. Tariq Iqbal Haavi

    محبت قرض ہوتی ہے۔۔۔

    سنو جاناں، سمجھ لو تم۔۔۔ محبت قرض ہوتی ہے یہ ہو جائے تو ہر صورت نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔ ”محبت “ دو دلوں کا ایک دھڑکن ، بن کے دھڑکنا ہے ”محبت “ دو بُتوں کا ایک دوجے بِن تڑپنا ہے شفا ہیں قربتیں اس میں جدائی مرض ہوتی ہے یہ ہو جائے تو ہر صورت نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔ نفی اس میں نہیں ہوتی یہ بس دھیان...
  5. Tariq Iqbal Haavi

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر ایک نظم

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر ایک نظم میرے مولا تیرا صد شکر تیرا صد شکر، بے حد شکر اِک رونق دَر میں بھیجی ہے اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے تیری رحمت کا سایہ مولا اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا یہ حیات جو تُو نے دی مولا اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا اے کاتبِ تقدیر میری ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
  6. Tariq Iqbal Haavi

    میری دنیا الگ ہے اب

    جو مجھ سے پوچھتے ہو تم کہاں مصروف رہتا ہوں؟ نہیں کوئی رابطہ رکھتا نہ تم کو وقت دیتا ہوں ہاں بالکل سچ ہے یہ تو گلہ تم جائز کرتے ہو بہت بدل گیا ہوں میں میری دنیا الگ ہے اب تمھیں تشویش تو ہوگی؟ کہ ایسی کیا تبدیلی ہے؟ سنو تم کو بتانا ہے کسی سے عشق کرتا ہوں کہ اب میں آفس سے آکر اسی کو وقت دیتا ہوں...
  7. Tariq Iqbal Haavi

    اے پی ایس شہدا کی یاد میں ۔ ۔ ۔

    اے پی ایس شہدا کی یاد میں ۔ ۔ ۔ 16 دسمبر2014 کو پاکستان کے شہر پشاور میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا- اس روز بزدل دہشت گردوں نے پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے 141 افراد کو شہید کردیا- شہید ہونے والے افراد میں 132 معصوم پھول جبکہ 9 اساتذہ شامل تھے- یہ حملہ...
  8. Tariq Iqbal Haavi

    بڑی عجیب لڑکی ہے

    بڑی عجیب لڑکی ہے کسی سے کچھ نہیں کہتی زندگی کی تلخیوں کو چپ چاپ ہے سہتی بڑا ہے حوصلہ اس کا جو اتنے دُکھ چھپاتی ہے غموں سے چور ہو کر بھی ہمیشہ مسکراتی ہے صبر جب حد سے بڑھ جائے درد جب سر کو چڑھ جائے تو وائیلن تھام لیتی ہے اور اکثر ایسا کرتی ہے بجاتی ہے دُھنیں دِلسوز اور من کو ہلکا کرتی ہے نہیں...
  9. Tariq Iqbal Haavi

    دادا کی گھڑی

    کچھ پرانی سنبھالی چیزوں میں پڑی نکلی پکڑ کے چوما جو میرے دادا کی گھڑی نکلی اٹھا کے فوراً ہی ہاتھ میں ڈالی میں نے مجھے نہ آئی مگر پھر بھی پھنسالی میں نے یہی حرکت میں بچپن میں کیا کرتا تھا گھڑی یہ چھین میں دادا سے لیا کرتا تھا بہت پیار سے کہتے تھے اپنے پوتے سے میرے دادا کے الفاظ پھر یہ ہوتے تھے...
  10. Tariq Iqbal Haavi

    اس عید پہ میں نے سوچا ہے

    اس عید پہ میں نے سوچا ہے کچھ الگ سا مجھ کو کرنا ہے کچھ الگ سا مجھ کو دِکھنا ہے کچھ الگ سا اب سنورنا ہے میں نے پوری کیں ہمیشہ ہی اپنی دولت سے اُمیدیں اپنی گزاری ہیں پہلے کتنی ہی نئے کپڑوں میں عیدیں اپنی مگر اب جو دَورِ وبا آیا تو مجھے بھی یاد خدا آیا فکریں جو حد سے بڑھ جائیں جب قرضے سر پر چڑھ...
  11. Tariq Iqbal Haavi

    تنہا جینا بہترہے

    سنو۔۔۔ کچھ کہنا ہے تم سے میں نے کل رات دیکھی ہے اک آخری قسط ڈرامے کی کہ جس میں یہ دکھایا ہے مرتا ہے آخر میں، بہت جو پیار کرتا ہے یقیں جانو میرا دل بھی بہت ہی ڈر گیا ہے اب کہ اب یہ پھوٹنا چاہے بہت ہی بھر گیا ہے اب محبت نے ، وفاﺅں نے مجھے جھنجھوڑ ڈالا ہے اس آخری قسط نے مجھ کو بہت ہی توڑ ڈالا ہے کہ...
  12. Tariq Iqbal Haavi

    وبائیں ہم پہ غالب ہیں

    گناہوں پرہیں ہم نادم، تیری رحمت کے طالب ہیں الٰہی کر کرم اپنا، وبائیں ہم پہ غالب ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  13. Tariq Iqbal Haavi

    اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں

    چلو اک کام کرتے ہیں اس جاتی رت کی کسی شام سنگ چائے پینے کا کوئی اہتمام کرتے ہیں شاید کہ پھر نہ پلٹے یہ حسیں رت شاید کہ پھر نہ لوٹیں یہ حسین پل باقی رہیں نہ شاید خوشگواریاں بھی کل چلو ہم خوشگوار رت میں کچھ لمحے جی لیتے ہیں ٓآﺅ جاناں کسی شام اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  14. Tariq Iqbal Haavi

    موسم بدل رہا ہے۔۔۔

    سنو جاناں موسم بدل رہا ہے اور موسم کے بدلنے پر بہت سی تبدیلیاں رونما ہونے لگی ہیں ہواﺅں نے اپنے مزاج میں دُھند بھر لی ہے۔۔۔ اور پیڑوں کی قسمت میں بھی اُداسی کا موسم شروع ہونے کو ہے یوں موسم بدلنے پر بہت کچھ بدلتا ہے ہمارے لباس، انداز، مشروب اوڑھنا، بچھونا، چال ،ڈھال اور بہت کچھ مگر میرے جذبات کی...
  15. Tariq Iqbal Haavi

    اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر لکھی ایک نظم میرے مولا تیرا صد شکر تیرا صد شکر، بے حد شکر اِک رونق دَر میں بھیجی ہے اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے تیری رحمت کا سایہ مولا اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا یہ حیات جو تُو نے دی مولا اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا اے کاتبِ تقدیر میری ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
  16. Tariq Iqbal Haavi

    میں انساں ہوں، اس دنیا میں ۔ ۔ ۔

    میں انساں ہوں، اس دنیا میں سبھی مخلوقوں میں اشرف ہوں جدت کے صلاحیت کے، سبھی گن مجھ میں بستے ہیں ہر مسئلے سے نمٹنے کو، ذہن میں لاکھوں رستے ہیں میں جو چاہوں بنا ڈالوں، میں جو چاہوں مٹا ڈالوں چاہوں تو چاہتیں بانٹوں، چاہوں تو راحتیں بانٹوں چاہوں تو نفرتیں بو دوں، یوں اکثر قدریں بھی کھو دوں مگر میں...
Back
Top