ہیں سردیاں پلٹنے کو
اب تم بھی پلٹنے کا سوچو
تنہا گزرے کتنے موسم
تم لوٹے نہ میرے ھمدم
جن پر ھم سنگ سنگ چلتے تھے
وہ راہیں ادھوری ھیں جاناں
والہانہ لپٹنے کو تم سے۔۔۔
میری بانہیں ادھوری ھیں جاناں
میری آنکھیں رستہ تکتی ہیں
اب پتھر بھی ہو سکتی ہیں
اب اِتنا مجھے ستاٶ نہ
تم جلدی لوٹ کے آٶ نا
ہیں سردیاں...
وجود ھے ناتواں، ھمت مگر ضرور کرتا ھے
جلا کر نفس کو جگنو، اندھیرا دُور کرتا ھے
****
سفرِ تیرگی میں اِک، بھلی اُمید ھے جگنو
ظلمت کے نگر میں، ساعتِ سعید ھے جگنو
****
کہنے کو یہ جگنو اِک، بہت حقیر پیکر ھے
قریب اہلِ نظر کے یہ، مگر فقیر پیکر ھے
****
ھے کتنی بے ضرر ھستی، کاسِ مدام ھو کر بھی
نہیں شعلہ...
محبت روشنی بن کر
دِلوں میں جگمگاتی ہے
مٹا دیتی ہے رنج و غم
ہمیں جینا سکھاتی ہے
کبھی جب رات بھاری ہو
ذہن پہ کرب طاری ہو
چھائی بدحواسی ہو
اُداسی ہی اُداسی ہو
سکوں اِک پل نہ حاصل ہو
سانس لینا بھی مشکل ہو
کوئی جب بات نہ سمجھے
تیرے جذبات نہ سمجھے
کسی جانب سے راحت کی
کوئی نگاہ نہ آئے ۔۔۔
نفرت کے...
سنو جاناں، سمجھ لو تم۔۔۔
محبت قرض ہوتی ہے
یہ ہو جائے تو ہر صورت
نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔
”محبت “ دو دلوں کا
ایک دھڑکن ، بن کے دھڑکنا ہے
”محبت “ دو بُتوں کا
ایک دوجے بِن تڑپنا ہے
شفا ہیں قربتیں اس میں
جدائی مرض ہوتی ہے
یہ ہو جائے تو ہر صورت
نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔
نفی اس میں نہیں ہوتی
یہ بس دھیان...
اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر ایک نظم
میرے مولا تیرا صد شکر
تیرا صد شکر، بے حد شکر
اِک رونق دَر میں بھیجی ہے
اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے
تیری رحمت کا سایہ مولا
اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا
یہ حیات جو تُو نے دی مولا
اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا
اے کاتبِ تقدیر میری
ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
جو مجھ سے پوچھتے ہو تم
کہاں مصروف رہتا ہوں؟
نہیں کوئی رابطہ رکھتا
نہ تم کو وقت دیتا ہوں
ہاں بالکل سچ ہے یہ تو
گلہ تم جائز کرتے ہو
بہت بدل گیا ہوں میں
میری دنیا الگ ہے اب
تمھیں تشویش تو ہوگی؟
کہ ایسی کیا تبدیلی ہے؟
سنو تم کو بتانا ہے
کسی سے عشق کرتا ہوں
کہ اب میں آفس سے آکر
اسی کو وقت دیتا ہوں...
اے پی ایس شہدا کی یاد میں ۔ ۔ ۔
16 دسمبر2014 کو پاکستان کے شہر پشاور میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا- اس روز بزدل دہشت گردوں نے پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے 141 افراد کو شہید کردیا- شہید ہونے والے افراد میں 132 معصوم پھول جبکہ 9 اساتذہ شامل تھے- یہ حملہ...
بڑی عجیب لڑکی ہے
کسی سے کچھ نہیں کہتی
زندگی کی تلخیوں کو
چپ چاپ ہے سہتی
بڑا ہے حوصلہ اس کا
جو اتنے دُکھ چھپاتی ہے
غموں سے چور ہو کر بھی
ہمیشہ مسکراتی ہے
صبر جب حد سے بڑھ جائے
درد جب سر کو چڑھ جائے
تو وائیلن تھام لیتی ہے
اور اکثر ایسا کرتی ہے
بجاتی ہے دُھنیں دِلسوز
اور من کو ہلکا کرتی ہے
نہیں...
کچھ پرانی سنبھالی چیزوں میں پڑی نکلی
پکڑ کے چوما جو میرے دادا کی گھڑی نکلی
اٹھا کے فوراً ہی ہاتھ میں ڈالی میں نے
مجھے نہ آئی مگر پھر بھی پھنسالی میں نے
یہی حرکت میں بچپن میں کیا کرتا تھا
گھڑی یہ چھین میں دادا سے لیا کرتا تھا
بہت پیار سے کہتے تھے اپنے پوتے سے
میرے دادا کے الفاظ پھر یہ ہوتے تھے...
اس عید پہ میں نے سوچا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو کرنا ہے
کچھ الگ سا مجھ کو دِکھنا ہے
کچھ الگ سا اب سنورنا ہے
میں نے پوری کیں ہمیشہ ہی
اپنی دولت سے اُمیدیں اپنی
گزاری ہیں پہلے کتنی ہی
نئے کپڑوں میں عیدیں اپنی
مگر اب جو دَورِ وبا آیا
تو مجھے بھی یاد خدا آیا
فکریں جو حد سے بڑھ جائیں
جب قرضے سر پر چڑھ...
سنو۔۔۔
کچھ کہنا ہے تم سے
میں نے کل رات دیکھی ہے
اک آخری قسط ڈرامے کی
کہ جس میں یہ دکھایا ہے
مرتا ہے آخر میں، بہت جو پیار کرتا ہے
یقیں جانو میرا دل بھی
بہت ہی ڈر گیا ہے اب
کہ اب یہ پھوٹنا چاہے
بہت ہی بھر گیا ہے اب
محبت نے ، وفاﺅں نے
مجھے جھنجھوڑ ڈالا ہے
اس آخری قسط نے مجھ کو
بہت ہی توڑ ڈالا ہے
کہ...
چلو اک کام کرتے ہیں
اس جاتی رت کی کسی شام
سنگ چائے پینے کا
کوئی اہتمام کرتے ہیں
شاید کہ پھر نہ پلٹے
یہ حسیں رت
شاید کہ پھر نہ لوٹیں
یہ حسین پل
باقی رہیں نہ شاید
خوشگواریاں بھی کل
چلو ہم خوشگوار رت میں
کچھ لمحے جی لیتے ہیں
ٓآﺅ جاناں کسی شام
اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
سنو جاناں
موسم بدل رہا ہے
اور موسم کے بدلنے پر
بہت سی تبدیلیاں
رونما ہونے لگی ہیں
ہواﺅں نے اپنے مزاج میں
دُھند بھر لی ہے۔۔۔
اور پیڑوں کی قسمت میں بھی
اُداسی کا موسم شروع ہونے کو ہے
یوں موسم بدلنے پر
بہت کچھ بدلتا ہے
ہمارے لباس، انداز، مشروب
اوڑھنا، بچھونا، چال ،ڈھال
اور بہت کچھ
مگر میرے جذبات کی...
اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر لکھی ایک نظم
میرے مولا تیرا صد شکر
تیرا صد شکر، بے حد شکر
اِک رونق دَر میں بھیجی ہے
اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے
تیری رحمت کا سایہ مولا
اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا
یہ حیات جو تُو نے دی مولا
اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا
اے کاتبِ تقدیر میری
ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
میں انساں ہوں، اس دنیا میں
سبھی مخلوقوں میں اشرف ہوں
جدت کے صلاحیت کے، سبھی گن مجھ میں بستے ہیں
ہر مسئلے سے نمٹنے کو، ذہن میں لاکھوں رستے ہیں
میں جو چاہوں بنا ڈالوں، میں جو چاہوں مٹا ڈالوں
چاہوں تو چاہتیں بانٹوں، چاہوں تو راحتیں بانٹوں
چاہوں تو نفرتیں بو دوں، یوں اکثر قدریں بھی کھو دوں
مگر میں...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.