یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم
مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے
کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
کچی...
میرا پرچم فخر میرا، میری پہچان پاکستان
دھڑکن ہے میرے دل کی، میری جند جان پاکستان
****
بن کے لہو میری، ہر اِک رَگ میں بستا ہے
وفا و پاسداری ہے، میرا ایمان پاکستان
****
دفاع تیرا مقدم ہے، جو تُو ہے ، تو سب کچھ ہے
تیری حرمت کی خاطر سب، کروں قربان پاکستان
****
وطن تُو جب پکارے گا، مجھے موجود پائے گا...
سنو جاناں، سمجھ لو تم۔۔۔
محبت قرض ہوتی ہے
یہ ہو جائے تو ہر صورت
نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔
”محبت “ دو دلوں کا
ایک دھڑکن ، بن کے دھڑکنا ہے
”محبت “ دو بُتوں کا
ایک دوجے بِن تڑپنا ہے
شفا ہیں قربتیں اس میں
جدائی مرض ہوتی ہے
یہ ہو جائے تو ہر صورت
نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔
نفی اس میں نہیں ہوتی
یہ بس دھیان...
ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی
بیتے لمحوں کو سوچو کم دیوانی
نہیں یہ عشق ہے، نادانیاں ہیں
بہت کہتے تھے تم سے، ہم دیوانی
بگڑ جائیں جو گھاﺅ عشق کے تو
کوئی مِلتا نہیں مرہم دیوانی
لوگ پڑھ لیں گے تو رسوا کریں گے
کبھی آنکھیں نہ رکھنا نم دیوانی
چلی جانا نہیں روکونگا پھر میں
ذرا بارش تو جائے تھم دیوانی...
عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
میری سانسیں اَٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
محبت مر چُکی لیکن ، دل و دماغ میں اب تک
تیری یادیں بھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
نہیں تعلق کوئی باقی، تو رُک کر کیوں میری جانب
تیری آنکھیں مٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
نہیں پرواہ زمانے کی، مگر جو...
میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے
بہت بکھرا ہُوا ہوں میں، اور اب ترتیب لازم ہے
عجب وادی ہے وحشت کی، اَٹی ہے دُھول نفرت کی
گھر کو گھر بنانے کو، نئی ترکیب لازم ہے
مدھر سے راگنی گائیں، چلو کہ جام چھلکائیں
میرے گھر میں ہو آئے تم، کوئی تقریب لازم ہے
جہاں پر چار ذہنوں میں، بھرا شر ہو، کدورت...
سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں
ابھی بھی منتظر ہے وہ، یہی سُراغ ملتے ہیں
فاصلے ہوں یا فیصلے ہوں، اُنہیں جُدا نہیں کرتے
جنکے مخلص محبت میں، دِل و دماغ ملتے ہیں
محبت کا اور رنجش کا، جہاں آغاز ثابت ہے
وہیں پر بات کرتے ہیں، چلو اُس باغ ملتے ہیں
لگ کے دامن پہ دِکھلائیں، حقیقی عکس رشتوں کا...
یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو
سدا رہتے ہیں تیرے ہجر سے منسوب یہ آنسو
مے سے بھی کہیں بڑھ کر، مجھے مخمور رکھتے ہیں
پسندیدہ ہے ان دنوں میرا مشروب یہ آنسو
تمھارے ذکر ہو تو راز سارے کھول دیتے ہیں
میری آنکھوں میں رہتے ہیں، کہاں مجذوب یہ آنسو
کسی کی راہ کو تکتے، جب آنکھیں خشک ہو جاٸیں
تو لے...
شاخوں سے جب روٹھے پتے
ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے
پھل اور پھول کو رنگت دے کر
پیلے پڑ گئے بھوکے پتے
کڑواہٹ کا بھید نہ پائے
جو بھی چکھ کر تھوکے پتے
سانس میں اپنی جی اٹھتے ہیں
جب بھی دیکھوں چھو کے پتے
ہواؤں میں اڑتے کرب سنائیں
شاخ سےبچھڑے روکھے پتے
زرد اور خستہ کب جیتے ہیں؟
ہوں جس بھی رنگ و بو کے پتے...
ابھی موجود ہوں زندہ ہوں، سلجھا لو جو الجھن ہے
غلط فہمی یا شکوے ہیں، جو میری ذات کے بارے
یہ کیا رسمی سا لکھتے ہو کہ مجھکو معاف کردینا
کبھی یکطرفہ نہ سلجھیں گے حقوق العباد ہیں پیارے
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
اِمتحانِ زندگی میں یہ، پہلی کامیابی ہے
سدا ایسے مقدر میں، تمھارے کامرانی ہو
دُعا ہے سب مراحل میں، ہمیشہ فاتح ٹھہرو
میرے "حاتم" تم پہ خاص، رب کی مہربانی ہو
(طارق اقبال حاوی)
اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر ایک نظم
میرے مولا تیرا صد شکر
تیرا صد شکر، بے حد شکر
اِک رونق دَر میں بھیجی ہے
اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے
تیری رحمت کا سایہ مولا
اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا
یہ حیات جو تُو نے دی مولا
اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا
اے کاتبِ تقدیر میری
ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
جو مجھ سے پوچھتے ہو تم
کہاں مصروف رہتا ہوں؟
نہیں کوئی رابطہ رکھتا
نہ تم کو وقت دیتا ہوں
ہاں بالکل سچ ہے یہ تو
گلہ تم جائز کرتے ہو
بہت بدل گیا ہوں میں
میری دنیا الگ ہے اب
تمھیں تشویش تو ہوگی؟
کہ ایسی کیا تبدیلی ہے؟
سنو تم کو بتانا ہے
کسی سے عشق کرتا ہوں
کہ اب میں آفس سے آکر
اسی کو وقت دیتا ہوں...
ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا
سبھی یادیں مٹا دیتے، مٹانا جو آساں ہوتا
محبتیں وقف ھیں میری، اب بھی اسکے لٸے ورنہ
نیا کوٸی عشق جما لیتے، جمانا جو آساں ہوتا
پکڑ ہے عشق کی ایسی، کہ دامن تار تار ہے
جھٹ سے دامن چھڑا لیتے، چھڑانا جو آساں ہوتا
انا کے ہم بھی قیدی تھے، بلا کے وہ بھی ضدی...
موسم نے بدلی اَدا ، میرے پاس چلے آﺅ
مجھے کچھ نہ لگے اچھا، میرے پاس چلے آﺅ
میرے پاس چلے آﺅ، مجھے تم سے ملے راحت
ہے دِل کی یہی صدا، میرے پاس چلے آﺅ
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
بھلے کوٸی کتنی بھی اچھی بناٸے
مگر دل کو بھاٸے، تمھاری ہی چاٸے
تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو
ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگاٸے
یہ ٹھنڈی ھواٸیں، بیتابی بڑھاٸیں
ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آٸے
یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر
بھلا کوٸی تنہا یہ کیسے بیتاٸے
تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے
اک کپ...
مجھے وہ خود پکارے گا، ذرا احساس ہونے دو
سبھی مسئلے سدھارے گا، ، ذرا احساس ہونے دو
ابھی تو دیکھ کر مجھ کو، جو سر پہ خاک ڈالے ہے
وہ خود کو پھر نکھارے گا، ذرا احساس ہونے دو
ابھی جو اوڑھے پھرتا ہے ، پرائی عیش و عشرت کے
لبادے سب اُتارے گا، ذرا احساس ہونے دو
تمہیدیں باندھ کر اُلٹی، سدا جیتا ہے...
ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے
کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے
یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں
ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے
پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟
تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے
”عاجز“ و ”شاکر“ ہو کر ہی ملے ہے ”قربت“
عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے
اس...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.