urdu adab

  1. Tariq Iqbal Haavi

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم کچی...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    میرا پرچم فخر میرا، میری پہچان پاکستان

    میرا پرچم فخر میرا، میری پہچان پاکستان دھڑکن ہے میرے دل کی، میری جند جان پاکستان **** بن کے لہو میری، ہر اِک رَگ میں بستا ہے وفا و پاسداری ہے، میرا ایمان پاکستان **** دفاع تیرا مقدم ہے، جو تُو ہے ، تو سب کچھ ہے تیری حرمت کی خاطر سب، کروں قربان پاکستان **** وطن تُو جب پکارے گا، مجھے موجود پائے گا...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    محبت قرض ہوتی ہے۔۔۔

    سنو جاناں، سمجھ لو تم۔۔۔ محبت قرض ہوتی ہے یہ ہو جائے تو ہر صورت نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔ ”محبت “ دو دلوں کا ایک دھڑکن ، بن کے دھڑکنا ہے ”محبت “ دو بُتوں کا ایک دوجے بِن تڑپنا ہے شفا ہیں قربتیں اس میں جدائی مرض ہوتی ہے یہ ہو جائے تو ہر صورت نبھانا فرض ہوتی ہے۔۔۔ نفی اس میں نہیں ہوتی یہ بس دھیان...
  4. Tariq Iqbal Haavi

    ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی

    ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی بیتے لمحوں کو سوچو کم دیوانی نہیں یہ عشق ہے، نادانیاں ہیں بہت کہتے تھے تم سے، ہم دیوانی بگڑ جائیں جو گھاﺅ عشق کے تو کوئی مِلتا نہیں مرہم دیوانی لوگ پڑھ لیں گے تو رسوا کریں گے کبھی آنکھیں نہ رکھنا نم دیوانی چلی جانا نہیں روکونگا پھر میں ذرا بارش تو جائے تھم دیوانی...
  5. Tariq Iqbal Haavi

    عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں

    عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں میری سانسیں اَٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں محبت مر چُکی لیکن ، دل و دماغ میں اب تک تیری یادیں بھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں نہیں تعلق کوئی باقی، تو رُک کر کیوں میری جانب تیری آنکھیں مٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں نہیں پرواہ زمانے کی، مگر جو...
  6. Tariq Iqbal Haavi

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے بہت بکھرا ہُوا ہوں میں، اور اب ترتیب لازم ہے عجب وادی ہے وحشت کی، اَٹی ہے دُھول نفرت کی گھر کو گھر بنانے کو، نئی ترکیب لازم ہے مدھر سے راگنی گائیں، چلو کہ جام چھلکائیں میرے گھر میں ہو آئے تم، کوئی تقریب لازم ہے جہاں پر چار ذہنوں میں، بھرا شر ہو، کدورت...
  7. Tariq Iqbal Haavi

    سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں

    سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں ابھی بھی منتظر ہے وہ، یہی سُراغ ملتے ہیں فاصلے ہوں یا فیصلے ہوں، اُنہیں جُدا نہیں کرتے جنکے مخلص محبت میں، دِل و دماغ ملتے ہیں محبت کا اور رنجش کا، جہاں آغاز ثابت ہے وہیں پر بات کرتے ہیں، چلو اُس باغ ملتے ہیں لگ کے دامن پہ دِکھلائیں، حقیقی عکس رشتوں کا...
  8. Tariq Iqbal Haavi

    یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو

    یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو سدا رہتے ہیں تیرے ہجر سے منسوب یہ آنسو مے سے بھی کہیں بڑھ کر، مجھے مخمور رکھتے ہیں پسندیدہ ہے ان دنوں میرا مشروب یہ آنسو تمھارے ذکر ہو تو راز سارے کھول دیتے ہیں میری آنکھوں میں رہتے ہیں، کہاں مجذوب یہ آنسو کسی کی راہ کو تکتے، جب آنکھیں خشک ہو جاٸیں تو لے...
  9. Tariq Iqbal Haavi

    ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے

    شاخوں سے جب روٹھے پتے ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے پھل اور پھول کو رنگت دے کر پیلے پڑ گئے بھوکے پتے کڑواہٹ کا بھید نہ پائے جو بھی چکھ کر تھوکے پتے سانس میں اپنی جی اٹھتے ہیں جب بھی دیکھوں چھو کے پتے ہواؤں میں اڑتے کرب سنائیں شاخ سےبچھڑے روکھے پتے زرد اور خستہ کب جیتے ہیں؟ ہوں جس بھی رنگ و بو کے پتے...
  10. Tariq Iqbal Haavi

    ابھی موجود ہوں زندہ ہوں، سلجھا لو جو الجھن ہے

    ابھی موجود ہوں زندہ ہوں، سلجھا لو جو الجھن ہے غلط فہمی یا شکوے ہیں، جو میری ذات کے بارے یہ کیا رسمی سا لکھتے ہو کہ مجھکو معاف کردینا کبھی یکطرفہ نہ سلجھیں گے حقوق العباد ہیں پیارے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  11. Tariq Iqbal Haavi

    بیٹے حاتم طارق کے لئے ایک قطعہ (پہلے سکول رزلٹ پر اول پوزیشن آنے پر)

    اِمتحانِ زندگی میں یہ، پہلی کامیابی ہے سدا ایسے مقدر میں، تمھارے کامرانی ہو دُعا ہے سب مراحل میں، ہمیشہ فاتح ٹھہرو میرے "حاتم" تم پہ خاص، رب کی مہربانی ہو (طارق اقبال حاوی)
  12. Tariq Iqbal Haavi

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر ایک نظم

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر ایک نظم میرے مولا تیرا صد شکر تیرا صد شکر، بے حد شکر اِک رونق دَر میں بھیجی ہے اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے تیری رحمت کا سایہ مولا اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا یہ حیات جو تُو نے دی مولا اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا اے کاتبِ تقدیر میری ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
  13. Tariq Iqbal Haavi

    میری دنیا الگ ہے اب

    جو مجھ سے پوچھتے ہو تم کہاں مصروف رہتا ہوں؟ نہیں کوئی رابطہ رکھتا نہ تم کو وقت دیتا ہوں ہاں بالکل سچ ہے یہ تو گلہ تم جائز کرتے ہو بہت بدل گیا ہوں میں میری دنیا الگ ہے اب تمھیں تشویش تو ہوگی؟ کہ ایسی کیا تبدیلی ہے؟ سنو تم کو بتانا ہے کسی سے عشق کرتا ہوں کہ اب میں آفس سے آکر اسی کو وقت دیتا ہوں...
  14. Tariq Iqbal Haavi

    ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا

    ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا سبھی یادیں مٹا دیتے، مٹانا جو آساں ہوتا محبتیں وقف ھیں میری، اب بھی اسکے لٸے ورنہ نیا کوٸی عشق جما لیتے، جمانا جو آساں ہوتا پکڑ ہے عشق کی ایسی، کہ دامن تار تار ہے جھٹ سے دامن چھڑا لیتے، چھڑانا جو آساں ہوتا انا کے ہم بھی قیدی تھے، بلا کے وہ بھی ضدی...
  15. Tariq Iqbal Haavi

    موسم نے بدلی اَدا ، میرے پاس چلے آﺅ

    موسم نے بدلی اَدا ، میرے پاس چلے آﺅ مجھے کچھ نہ لگے اچھا، میرے پاس چلے آﺅ میرے پاس چلے آﺅ، مجھے تم سے ملے راحت ہے دِل کی یہی صدا، میرے پاس چلے آﺅ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  16. Tariq Iqbal Haavi

    یوں سنگ چاٸے پیتے عمر بیت جاٸے

    بھلے کوٸی کتنی بھی اچھی بناٸے مگر دل کو بھاٸے، تمھاری ہی چاٸے تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگاٸے یہ ٹھنڈی ھواٸیں، بیتابی بڑھاٸیں ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آٸے یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر بھلا کوٸی تنہا یہ کیسے بیتاٸے تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے اک کپ...
  17. Tariq Iqbal Haavi

    ذرا احساس ہونے دو

    مجھے وہ خود پکارے گا، ذرا احساس ہونے دو سبھی مسئلے سدھارے گا، ، ذرا احساس ہونے دو ابھی تو دیکھ کر مجھ کو، جو سر پہ خاک ڈالے ہے وہ خود کو پھر نکھارے گا، ذرا احساس ہونے دو ابھی جو اوڑھے پھرتا ہے ، پرائی عیش و عشرت کے لبادے سب اُتارے گا، ذرا احساس ہونے دو تمہیدیں باندھ کر اُلٹی، سدا جیتا ہے...
  18. Tariq Iqbal Haavi

    مرشد مجھے کوئی آج ایسی چیز دیجئے

    مرشد مجھے کوئی آج ایسی چیز دیجئے بھلانے کا ہنر، یا کوئی تجویز دیجئے مرشد مجھے عشق سا لاحق ہوگیا مرشد بچا لیجئے، تعویز دیجئے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  19. Tariq Iqbal Haavi

    بڑا موسم سہانا ہے

    فضاء بھی دلربا سی ہے، سماں بھی عاشقانہ ہے کوئی تدبیر ڈھونڈو نا، بڑا موسم سہانا ہے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  20. Tariq Iqbal Haavi

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟ تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے ”عاجز“ و ”شاکر“ ہو کر ہی ملے ہے ”قربت“ عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے اس...
Back
Top