urdu ghazal

  1. Tariq Iqbal Haavi

    جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں

    جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں ایسے لوگوں کا تو، بس علاج پتھر ہیں **** واہ ری دولت، تو نہ رہی، تو میرے اپنے کبھی جو موم تھے، وہ سارے آج پتھر ہیں **** جس نے اِینٹیں اُٹھا کر، بنایا ہے بیٹا ڈاکٹر اُس مزدور کے تو، سر کا تاج پتھر ہیں **** کسی کا نام لکھنا، اور جھیل میں پھینکے جانا اِن دنوں...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    حسن و دولت ہیں عارضی آخر

    حسن و دولت ہیں عارضی آخر خاک ہونی ہے دلکشی آخر نام، منصب، عروج، شہرت بھی سب یہ ہوتے ہیں موسمی آخر کیوں رنجیدہ ہو انکے جانے پر پنچھی ہوتے ہیں ہجرتی آخر ایک جگنو میرا ہم نفس بنا چھٹ گئی ساری تیرگی آخر تلخ گوؤں کی ہار لازم تھی میں نے سادھی تھی خامشی آخر شام مجھ سے ادھار مانگی ہے تم بھی نکلے ہو...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم کچی...
  4. Tariq Iqbal Haavi

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم * بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم * بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم *...
  5. Tariq Iqbal Haavi

    ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی

    ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی بیتے لمحوں کو سوچو کم دیوانی نہیں یہ عشق ہے، نادانیاں ہیں بہت کہتے تھے تم سے، ہم دیوانی بگڑ جائیں جو گھاﺅ عشق کے تو کوئی مِلتا نہیں مرہم دیوانی لوگ پڑھ لیں گے تو رسوا کریں گے کبھی آنکھیں نہ رکھنا نم دیوانی چلی جانا نہیں روکونگا پھر میں ذرا بارش تو جائے تھم دیوانی...
  6. Tariq Iqbal Haavi

    عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں

    عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں میری سانسیں اَٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں محبت مر چُکی لیکن ، دل و دماغ میں اب تک تیری یادیں بھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں نہیں تعلق کوئی باقی، تو رُک کر کیوں میری جانب تیری آنکھیں مٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں نہیں پرواہ زمانے کی، مگر جو...
  7. Tariq Iqbal Haavi

    لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی

    لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی بنا کر دے ذرا اِک جام ساقی پِلا وہ جام جو مدہوش کر دے مِلے دل کو بھی کچھ آرام ساقی چلا آیا ہوں تیرے پاس جو میں نہیں مرنے سوا کچھ کام ساقی نہ اُس کا اور نہ اپنا بنا میں نہیں مجھ سا کوئی ناکام ساقی یونہی گِر کے سنبھلنا سیکھنا ہے سہارا دے مجھے نہ تھام ساقی دَورِ...
  8. Tariq Iqbal Haavi

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے بہت بکھرا ہُوا ہوں میں، اور اب ترتیب لازم ہے عجب وادی ہے وحشت کی، اَٹی ہے دُھول نفرت کی گھر کو گھر بنانے کو، نئی ترکیب لازم ہے مدھر سے راگنی گائیں، چلو کہ جام چھلکائیں میرے گھر میں ہو آئے تم، کوئی تقریب لازم ہے جہاں پر چار ذہنوں میں، بھرا شر ہو، کدورت...
  9. Tariq Iqbal Haavi

    سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں

    سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں ابھی بھی منتظر ہے وہ، یہی سُراغ ملتے ہیں فاصلے ہوں یا فیصلے ہوں، اُنہیں جُدا نہیں کرتے جنکے مخلص محبت میں، دِل و دماغ ملتے ہیں محبت کا اور رنجش کا، جہاں آغاز ثابت ہے وہیں پر بات کرتے ہیں، چلو اُس باغ ملتے ہیں لگ کے دامن پہ دِکھلائیں، حقیقی عکس رشتوں کا...
  10. Tariq Iqbal Haavi

    یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو

    یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو سدا رہتے ہیں تیرے ہجر سے منسوب یہ آنسو مے سے بھی کہیں بڑھ کر، مجھے مخمور رکھتے ہیں پسندیدہ ہے ان دنوں میرا مشروب یہ آنسو تمھارے ذکر ہو تو راز سارے کھول دیتے ہیں میری آنکھوں میں رہتے ہیں، کہاں مجذوب یہ آنسو کسی کی راہ کو تکتے، جب آنکھیں خشک ہو جاٸیں تو لے...
  11. Tariq Iqbal Haavi

    ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے

    شاخوں سے جب روٹھے پتے ٹوٹ کے بکھرے سوکھے پتے پھل اور پھول کو رنگت دے کر پیلے پڑ گئے بھوکے پتے کڑواہٹ کا بھید نہ پائے جو بھی چکھ کر تھوکے پتے سانس میں اپنی جی اٹھتے ہیں جب بھی دیکھوں چھو کے پتے ہواؤں میں اڑتے کرب سنائیں شاخ سےبچھڑے روکھے پتے زرد اور خستہ کب جیتے ہیں؟ ہوں جس بھی رنگ و بو کے پتے...
  12. Tariq Iqbal Haavi

    ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا

    ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا سبھی یادیں مٹا دیتے، مٹانا جو آساں ہوتا محبتیں وقف ھیں میری، اب بھی اسکے لٸے ورنہ نیا کوٸی عشق جما لیتے، جمانا جو آساں ہوتا پکڑ ہے عشق کی ایسی، کہ دامن تار تار ہے جھٹ سے دامن چھڑا لیتے، چھڑانا جو آساں ہوتا انا کے ہم بھی قیدی تھے، بلا کے وہ بھی ضدی...
  13. Tariq Iqbal Haavi

    بہت ہی سرد ہے موسم

    کھلے نہ بال چھوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم گرم کوٸی شال اوڑھو تم، بہت ہی سرد ہے موسم برسی ہے باغیچے میں، پوری رات ہی شبنم نہ ننگے پاٶں دوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم بہت نازک طبیعت ہو، میری مانو یہ مت کرنا نہ گیلے پھول توڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم برف پہ دل بنانا یوں، تمھیں بیمار کردے گا میری...
  14. Tariq Iqbal Haavi

    ذرا احساس ہونے دو

    مجھے وہ خود پکارے گا، ذرا احساس ہونے دو سبھی مسئلے سدھارے گا، ، ذرا احساس ہونے دو ابھی تو دیکھ کر مجھ کو، جو سر پہ خاک ڈالے ہے وہ خود کو پھر نکھارے گا، ذرا احساس ہونے دو ابھی جو اوڑھے پھرتا ہے ، پرائی عیش و عشرت کے لبادے سب اُتارے گا، ذرا احساس ہونے دو تمہیدیں باندھ کر اُلٹی، سدا جیتا ہے...
  15. Tariq Iqbal Haavi

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ تم چاند سے، پھولوں سے، کہیں خوبصورت ہو میرا پہلا ارماں ہو، تم میری ضرورت ہو مہکا ڈالو من کی کلیاں، اِک بار مسکراﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ میری شاعری میں تم ہو، میری گفتگو میں تم ہو دِل میں...
  16. Tariq Iqbal Haavi

    کبھی تم سوچنا مت یہ

    محبت میں دغا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ تمھیں اک دن بھلا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ میری جتنی محبت ہے، سبھی تیری امانت ہے میں چاہت یہ گھٹا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ محبت سے تمھیں مل کے، کسی مورت کو میں دل کے مندر میں سجا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ نہیں یہ وقت گزاری ہے، عمر یہ وقف ساری ہے...
  17. Tariq Iqbal Haavi

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟ تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے ”عاجز“ و ”شاکر“ ہو کر ہی ملے ہے ”قربت“ عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے اس...
  18. Tariq Iqbal Haavi

    اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کی پیدائش پر لکھی ایک نظم میرے مولا تیرا صد شکر تیرا صد شکر، بے حد شکر اِک رونق دَر میں بھیجی ہے اِک رحمت گھر میں بھیجی ہے تیری رحمت کا سایہ مولا اِس رحمت کے سَر پہ ہو سَدا یہ حیات جو تُو نے دی مولا اِس حیات میں خوشی بختی لکھنا اے کاتبِ تقدیر میری ہے اِلتجا تجھ سے اِتنی...
  19. Tariq Iqbal Haavi

    محرم میرے بعد تمھارے

    محرم میرے بعد تمھارے مت پوچھو دن کیسے گزارے بھاری آنکھیں اٹا ہوا دل کسے بتاؤں راز میں سارے بے رنگ صبحیں بوجھل شامیں کوئی بھلا کیوں خود کو سنوارے روز ہی تیرے لمس کو ڈھونڈیں شام ڈھلے ہم جھیل کنارے ہم ہی جھلے سوچیں تجھ کو اور تم سوچو اپنے بارے دید کو تیری ترس گئے ہیں راہیں تکتے نین بیچارے...
  20. R

    Urdu Poetry

    Urdu Poetry Every language spoken by mankind has in it some poetic elements, therefore, Poetry is considered a universal language. Though all languages differ significantly in syntax, structure, and sound. But poetic expressions remain common which indicates that poetry is more of a spiritual...
Back
Top