بھلے کوٸی کتنی بھی اچھی بناٸے
مگر دل کو بھاٸے، تمھاری ہی چاٸے
تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو
ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگاٸے
یہ ٹھنڈی ھواٸیں، بیتابی بڑھاٸیں
ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آٸے
یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر
بھلا کوٸی تنہا یہ کیسے بیتاٸے
تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے
اک کپ...
تمھیں ہم کیسے سمجھائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں
کیسے ہم دل کو بہلائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں
گزارش یہ ذرا سی ہے، تمھارے بن اُداسی ہے
کہو تو ملنے آجائیں، ، تمھارے بن ادھورے ہیں
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
آگ چھوئے گی آشیاں، تب نکلیں گے
ظلم ہے انتہا پر، کب نکلیں گے؟
دردِ انسانیت کا اب احساس نہیں جنکو
کوئی اپنا جب مرے گا، تب نکلیں گے
(شاعر:طارق اقبال حاوی)
کچھ پرانی سنبھالی چیزوں میں پڑی نکلی
پکڑ کے چوما جو میرے دادا کی گھڑی نکلی
اٹھا کے فوراً ہی ہاتھ میں ڈالی میں نے
مجھے نہ آئی مگر پھر بھی پھنسالی میں نے
یہی حرکت میں بچپن میں کیا کرتا تھا
گھڑی یہ چھین میں دادا سے لیا کرتا تھا
بہت پیار سے کہتے تھے اپنے پوتے سے
میرے دادا کے الفاظ پھر یہ ہوتے تھے...
مجھے وہ خود پکارے گا، ذرا احساس ہونے دو
سبھی مسئلے سدھارے گا، ، ذرا احساس ہونے دو
ابھی تو دیکھ کر مجھ کو، جو سر پہ خاک ڈالے ہے
وہ خود کو پھر نکھارے گا، ذرا احساس ہونے دو
ابھی جو اوڑھے پھرتا ہے ، پرائی عیش و عشرت کے
لبادے سب اُتارے گا، ذرا احساس ہونے دو
تمہیدیں باندھ کر اُلٹی، سدا جیتا ہے...
میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ
کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ
تم چاند سے، پھولوں سے، کہیں خوبصورت ہو
میرا پہلا ارماں ہو، تم میری ضرورت ہو
مہکا ڈالو من کی کلیاں، اِک بار مسکراﺅ
کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ
میری شاعری میں تم ہو، میری گفتگو میں تم ہو
دِل میں...
سنو۔۔۔
کچھ کہنا ہے تم سے
میں نے کل رات دیکھی ہے
اک آخری قسط ڈرامے کی
کہ جس میں یہ دکھایا ہے
مرتا ہے آخر میں، بہت جو پیار کرتا ہے
یقیں جانو میرا دل بھی
بہت ہی ڈر گیا ہے اب
کہ اب یہ پھوٹنا چاہے
بہت ہی بھر گیا ہے اب
محبت نے ، وفاﺅں نے
مجھے جھنجھوڑ ڈالا ہے
اس آخری قسط نے مجھ کو
بہت ہی توڑ ڈالا ہے
کہ...
ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے
کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے
یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں
ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے
پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟
تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے
”عاجز“ و ”شاکر“ ہو کر ہی ملے ہے ”قربت“
عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے
اس...
اور زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا، عقل کو بھی لگ جاتا ہے ۔ اور ایسا تب ہوتا ہے جب ہم بہت سے معاملات میں بجائے حقیقت کو دیکھنے کے اپنی آنکھیں محض اس لئے بند کر لینا مناسب سمجھ لیتے ہیں کہ بات ہمارے پیاروں کی ہوتی ہے۔ اور پھر یوں آنکھوں کو مسلسل بند کئے رکھنا عقل کو زنگ آلود کرتا رہتا ہے اور جب عقل...
یہ ہے تو رب کی جانب سے، رضا سمجھو، سزا سمجھو
نہیں ہے بات معمولی، خدارا کچھ ذرا سمجھو
سانس لینا اذیت ہو، سوچو کیسی طبیعت ہو
ہے یہ موت کی دستک، محض نہ عارضہ سمجھو
جو لقمہ بن چکے اِسکا، انہی سے کچھ سبق سیکھو
بہت تکلیف دہ ہے یہ، اسے موذی وَبا سمجھو
بناﺅ لوگوں سے دُوری، اِسی میں ہے سمجھداری
موت ہے...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.