pakistan forums

  1. Tariq Iqbal Haavi

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا

    کیا جال بُنا ہے پلکوں کا، اَبرُو تلوار سے تیکھے ہیں جو دیکھے اِنھیں شکار بَنے، یہ داﺅ کہاں سے سیکھے ہیں؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  2. Tariq Iqbal Haavi

    یوں سنگ چاٸے پیتے عمر بیت جاٸے

    بھلے کوٸی کتنی بھی اچھی بناٸے مگر دل کو بھاٸے، تمھاری ہی چاٸے تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگاٸے یہ ٹھنڈی ھواٸیں، بیتابی بڑھاٸیں ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آٸے یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر بھلا کوٸی تنہا یہ کیسے بیتاٸے تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے اک کپ...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    تمھارے بن ادھورے ہیں

    تمھیں ہم کیسے سمجھائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں کیسے ہم دل کو بہلائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں گزارش یہ ذرا سی ہے، تمھارے بن اُداسی ہے کہو تو ملنے آجائیں، ، تمھارے بن ادھورے ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  4. Tariq Iqbal Haavi

    اہل کشمیر کے نام ۔ ۔ ۔

    آگ چھوئے گی آشیاں، تب نکلیں گے ظلم ہے انتہا پر، کب نکلیں گے؟ دردِ انسانیت کا اب احساس نہیں جنکو کوئی اپنا جب مرے گا، تب نکلیں گے (شاعر:طارق اقبال حاوی)
  5. Tariq Iqbal Haavi

    دادا کی گھڑی

    کچھ پرانی سنبھالی چیزوں میں پڑی نکلی پکڑ کے چوما جو میرے دادا کی گھڑی نکلی اٹھا کے فوراً ہی ہاتھ میں ڈالی میں نے مجھے نہ آئی مگر پھر بھی پھنسالی میں نے یہی حرکت میں بچپن میں کیا کرتا تھا گھڑی یہ چھین میں دادا سے لیا کرتا تھا بہت پیار سے کہتے تھے اپنے پوتے سے میرے دادا کے الفاظ پھر یہ ہوتے تھے...
  6. Tariq Iqbal Haavi

    ذرا احساس ہونے دو

    مجھے وہ خود پکارے گا، ذرا احساس ہونے دو سبھی مسئلے سدھارے گا، ، ذرا احساس ہونے دو ابھی تو دیکھ کر مجھ کو، جو سر پہ خاک ڈالے ہے وہ خود کو پھر نکھارے گا، ذرا احساس ہونے دو ابھی جو اوڑھے پھرتا ہے ، پرائی عیش و عشرت کے لبادے سب اُتارے گا، ذرا احساس ہونے دو تمہیدیں باندھ کر اُلٹی، سدا جیتا ہے...
  7. Tariq Iqbal Haavi

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ

    میری آنکھوں کے رستے، میرے دل میں کبھی آﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ تم چاند سے، پھولوں سے، کہیں خوبصورت ہو میرا پہلا ارماں ہو، تم میری ضرورت ہو مہکا ڈالو من کی کلیاں، اِک بار مسکراﺅ کچھ میرے من کی سُن لو، کچھ اپنی ہمیں سناﺅ میری شاعری میں تم ہو، میری گفتگو میں تم ہو دِل میں...
  8. Tariq Iqbal Haavi

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے اگرچہ بھرپور ہے خاروں کے سو درجے بہتر ہے حاوی کیکر بھی میرے یاروں سے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  9. Tariq Iqbal Haavi

    تنہا جینا بہترہے

    سنو۔۔۔ کچھ کہنا ہے تم سے میں نے کل رات دیکھی ہے اک آخری قسط ڈرامے کی کہ جس میں یہ دکھایا ہے مرتا ہے آخر میں، بہت جو پیار کرتا ہے یقیں جانو میرا دل بھی بہت ہی ڈر گیا ہے اب کہ اب یہ پھوٹنا چاہے بہت ہی بھر گیا ہے اب محبت نے ، وفاﺅں نے مجھے جھنجھوڑ ڈالا ہے اس آخری قسط نے مجھ کو بہت ہی توڑ ڈالا ہے کہ...
  10. Tariq Iqbal Haavi

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟ تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے ”عاجز“ و ”شاکر“ ہو کر ہی ملے ہے ”قربت“ عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے اس...
  11. Tariq Iqbal Haavi

    اور زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا

    اور زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا، عقل کو بھی لگ جاتا ہے ۔ اور ایسا تب ہوتا ہے جب ہم بہت سے معاملات میں بجائے حقیقت کو دیکھنے کے اپنی آنکھیں محض اس لئے بند کر لینا مناسب سمجھ لیتے ہیں کہ بات ہمارے پیاروں کی ہوتی ہے۔ اور پھر یوں آنکھوں کو مسلسل بند کئے رکھنا عقل کو زنگ آلود کرتا رہتا ہے اور جب عقل...
  12. Tariq Iqbal Haavi

    خدارا کچھ ذرا سمجھو

    یہ ہے تو رب کی جانب سے، رضا سمجھو، سزا سمجھو نہیں ہے بات معمولی، خدارا کچھ ذرا سمجھو سانس لینا اذیت ہو، سوچو کیسی طبیعت ہو ہے یہ موت کی دستک، محض نہ عارضہ سمجھو جو لقمہ بن چکے اِسکا، انہی سے کچھ سبق سیکھو بہت تکلیف دہ ہے یہ، اسے موذی وَبا سمجھو بناﺅ لوگوں سے دُوری، اِسی میں ہے سمجھداری موت ہے...
Back
Top