pakistan forums

  1. Tariq Iqbal Haavi

    ایمبولینس نظم

    جانتے بھی ہو.... یہ کس کا راستہ روکا ہے؟؟؟ یہ کوئی اور ہی مخلوق ہے جو تمہاری طرح تو بالکل بھی نہیں انکا فرقہ صرف انسانیت ہے یہ وہی ایمبولینس اور اس کا عملہ ہے جو اپنے فرض سے غافل نہیں ہوتے حالات کیسے بھی ہوں یہ اپنے حصہ کا کام کرنا بخوبی جانتے ہیں ابھی جب توڑ پھوڑ، شور و غُل اور اپنوں سے مار...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    انقلاب دل سے اُٹھتا ہے

    اے میرے دیس کے لوگو کبھی اک لمحے کو سوچو جس انقلاب کی خاطر سر پہ باندھ کر کفنی گھروں سے تم جو نکلے ہو اُس انقلاب کا عنصر کوئی سا اک بھی تم میں ہے؟ بازار لوٹ کے اپنے دکانوں کو جلا دینا ریاست کے ستونوں کو بِنا سوچے گرا دینا تباہی ہی تباہی ہے خرابی ہی خرابی ہے نہیں کچھ انقلابی ہے نہیں یہ انقلابی ہے...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    بِلاں دی کہانی (مزاحیہ پنجابی نظم)

    ہیرے دے ہوٹل ول جان ساں میں لگا کم توں آیا روٹی کھان ساں میں لگا سارا دن میں کم کاج چہ لنگھایا سویر دی سی کھادی ٹڈھے پان ساں میں لگا ایہنے وچ ڈاکئے نے واج اک لائی ارانہہ آ گامے تیرے ناویں ڈاک آئی بچے ماں نال رہن نانکے سی گئے میں سمجھیا اوہناں خبر خیر دی گھلائی نٹھ کے میں ڈاکئے دے کول جا کھلوتا...
  4. Tariq Iqbal Haavi

    خزانے لوٹنے والو, یوں خالی ہاتھ جاؤ گے

    ہمارے حال سے غافل، سیاست میں مگن ہو تم نہیں کچھ فکر فردا ہے ملک کیا خاک بچاؤ گے میری اس موت کے منظر میں بھی پیغام ہے تم کو خزانے لوٹنے والو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں خالی ہاتھ جاؤ گے (طارق اقبال حاوی)
  5. Tariq Iqbal Haavi

    کبھی جب حق و باطل سے کسی کو چننا پڑ جائے

    کبھی جب حق و باطل سے کسی کو چننا پڑ جائے ڈٹا رہتا ہےحق پر جو، جہاں میں باقی رہتا ہے میں نے سیکھا ہے، دیکھا ہے سرِ حسینؑ سے حاوی کٹ کر بھی جو نیزے پر کلمہء حق ہی کہتا ہے (طارق اقبال حاوی)
  6. Tariq Iqbal Haavi

    میری یادیں میری باتیں بس اپنے پاس رکھنا تم

    سنو جاناں.... کیوں دوری کو لے کر یوں تم اداس رہتی ہو؟ بھلے تم دور ہو مجھ سے مگر ہر پل ہر لمحہ دل کے پاس رہتی ہو قسم جاناں تمہیں میری کہ اب اس دوری کو لے کر نہ دل اداس رکھنا تم مجھے موجود پاٶ گی میری یادیں میری باتیں بس اپنے پاس رکھنا تم فاصلے جو مقدر ہیں ہمیشہ تو نہیں رہنے ہنسی چہرے کِھلائے گی...
  7. Tariq Iqbal Haavi

    رہ جانا بس نام خدا دا باقی ہر شے فانی

    رہ جانا بس نام خدا دا باقی ہر شے فانی کفن سوائے ہر شے تیری دُنیا تے رہ جانی **** دو گھڑیاں دی رشتے داری دو گھڑیاں دی یاری عمل اصل بس ساتھی تیرے جنہاں یاری توڑ نبھانی **** چُلھے پاٶنا مال اوہ جیہڑا آئی نوں ٹال نہ پاوے کیتی تیری کمائی اوہ جھلیا کم تیرے نہ آنی **** رب دی من بس، رب دا ہو جا سُچی...
  8. Tariq Iqbal Haavi

    سورج وانگوں مَچدا دِیوا

    سورج وانگوں مَچدا دِیوا بالی رَکھ تُوں سچ دا دِیوا **** حق دی راہ تَوں نہ گبھراویں نَھیری نوں نہیں پَچدا دِیوا **** مِدھیا جاندا پَیراں ہیٹھاں بُجھیا مشکل بَچدا دِیوا **** چانن وَنڈدا چار چفیرے لَو وِچ تُخ کے نچدا دِیوا **** ٹُٹ جاوے تے فیر نہیں جُڑدا دِل ہوندا اے کچ دا دِیوا **** اَزمائشاں دا...
  9. Tariq Iqbal Haavi

    جئے جاٶں ملن کی آرزو میں

    جئے جاٶں ملن کی آرزو میں کٹے دن رات تیری جستجو میں * نہیں اوجھل تو مجھ سے ایک پل بھی تیری صورت ہے گھر کے چارسو میں * اترے کانوں سے دل تک اک شیرینی عجب جادو ہے تیری گفتگو میں * اسے دیکھوں تو بہکوں بن پئے ہی کشش ایسی ہے میرے ہم سُبو میں * کشش غزلوں میں یونہی تو نہیں ہے تو ہے رہتا خیالِ آبرو میں *...
  10. Tariq Iqbal Haavi

    بے لوث سجن جگ تے بس باپ ہی ہوندا اے

    ویلے ماڑے چنگے جیہڑا سدا نال کھلوندا اے بے لوث سجن جگ تے بس باپ ہی ہوندا اے * گھربار چلاون لئی، کی کی نہیں کردا اے سبھ دُکھ تکلیفاں نوں، ہس ہس جردا اے لَکھ فکراں نے وچ زہنے، پر ہس کے وکھاٶندا اے بے لوث سجن جگ تے، بس باپ ہی ہَوندا اے * پھڑ انگلی بچیاں دی، باپ چلن دی مت دیندا دے کے سمجھاں زمانے...
  11. Tariq Iqbal Haavi

    کس سَمت چل پڑی ہے خدائی میرے خدا

    کس سَمت چل پڑی ہے خدائی میرے خدا نفرت ہی دے رہی ہے دِکھائی میرے خدا **** امن و اماں سے خالی دُنیا کیوں ہو گئی تُو نے تَو نہ تھی ایسی بنائی میرے خدا **** ذہنوں پہ اب سوار بس فکرِ معاش ہے مِل جائے کاش بھوک سے رہائی میرے خدا **** جسکا بھی جتنا بھی یہاں چلتا ہے ذور تَو قیامت ہے ہر اُس شخص نے...
  12. Tariq Iqbal Haavi

    اپنی بیٹی "مناہل فاطمہ" کے نام پہلے جنم دن پر ایک نظم۔۔۔

    جنم دن کی مبارک ہو، مناہل فاطمہ بیٹی خوش رکھے خدا تم کو، مناہل فاطمہ بیٹی **** اسی دن میرے آنگن میں، خدا نے تم کو بھیجا تھا تیرا چہرہ، تیرا پیکر، بالکل پریوں جیسا تھا کلیوں سی مہک تیری، بسی پھر میری سانسوں میں میرے دل کو ملی ٹھنڈک ، اٹھایا جب تھا ہاتھوں میں ایسی سعادت اس سے پہلے، قسمت نے کہاں دی...
  13. Tariq Iqbal Haavi

    حسن و دولت ہیں عارضی آخر

    حسن و دولت ہیں عارضی آخر خاک ہونی ہے دلکشی آخر نام، منصب، عروج، شہرت بھی سب یہ ہوتے ہیں موسمی آخر کیوں رنجیدہ ہو انکے جانے پر پنچھی ہوتے ہیں ہجرتی آخر ایک جگنو میرا ہم نفس بنا چھٹ گئی ساری تیرگی آخر تلخ گوؤں کی ہار لازم تھی میں نے سادھی تھی خامشی آخر شام مجھ سے ادھار مانگی ہے تم بھی نکلے ہو...
  14. Tariq Iqbal Haavi

    محسنِ پاکستان ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان“ کی وفات پر کہا گیا ایک قطعہ۔۔۔

    سبھی اعزاز چھوٹے ہیں تیرے احسان کے آگے بھلا یہ قوم تیرے حق میں کیا اعزاز رکھے گی سلام اے میرے قائد.... تیری ہمت و جرات کو میرے محسن تیری خدمت تجھے ممتاز رکھے گی (طارق اقبال حاوی)
  15. Tariq Iqbal Haavi

    اساتذہ کرام کے عالمی دن پر چندسطریں ۔۔۔

    "استاد ایک ایسی ہستی کا نام ہے جو کہ ایک آفتاب کی مانند ہوتی ہے، اور آفتاب بھی ایسا جو غروب ہونے سے پہلے اپنی ہستی کے ذروں یعنی تعلیمات، خدمات اور تربیت سے حقیر ذروں یعنی شاگردوں میں روشنی بھر کر انہیں روشن ستاروں میں تبدیل کر جاتا ہے" اللہ کریم میرے اساتذہ کرام کو اچھی صحت والی لمبی عمر عطا...
  16. Tariq Iqbal Haavi

    اساتذہ کرام کے عالمی دن پر ایک شعر ۔۔۔

    جتنی بھی زمانے سے مجھے داد مِلی ہے میرا ایماں ہے کہ سب باعثِ استاد مِلی ہے (طارق اقبال حاوی)
  17. Tariq Iqbal Haavi

    رونق میلے مُک جاندے نیں

    رونق میلے مُک جاندے نیں ساہ جس ویلے رُک جاندے نیں **** جیہڑے کہندے جان توں پیارا لَوڑ پوے تے لک جاندے نیں **** بیج کے جے نہ راکھی رَکھیئے طوطے فصلاں ٹک جاندے نیں **** موڈھے چوڑے نہ رَکھ بندیا پچھلی عُمرے جھک جاندے نیں **** جُھک جا جَھلیا، بچیا رہیں گا آکڑے کل سبھ ٹھک جاندے نیں **** کجھ نہیں...
  18. Tariq Iqbal Haavi

    محبت روشنی بن کر دِلوں میں جگمگاتی ہے

    محبت روشنی بن کر دِلوں میں جگمگاتی ہے مٹا دیتی ہے رنج و غم ہمیں جینا سکھاتی ہے کبھی جب رات بھاری ہو ذہن پہ کرب طاری ہو چھائی بدحواسی ہو اُداسی ہی اُداسی ہو سکوں اِک پل نہ حاصل ہو سانس لینا بھی مشکل ہو کوئی جب بات نہ سمجھے تیرے جذبات نہ سمجھے کسی جانب سے راحت کی کوئی نگاہ نہ آئے ۔۔۔ نفرت کے...
  19. Tariq Iqbal Haavi

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم کچی...
  20. Tariq Iqbal Haavi

    بہت ہی سرد ہے موسم

    کھلے نہ بال چھوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم گرم کوٸی شال اوڑھو تم، بہت ہی سرد ہے موسم برسی ہے باغیچے میں، پوری رات ہی شبنم نہ ننگے پاٶں دوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم بہت نازک طبیعت ہو، میری مانو یہ مت کرنا نہ گیلے پھول توڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم برف پہ دل بنانا یوں، تمھیں بیمار کردے گا میری...
Back
Top