islamic poetry

  1. Namal

    دکھتا ہے وہ

    سجدہ محبت میں دکھتا ہے وہ مومن کے چہرے کا ہے نور جو بتانا اسے گر جو مجبور ہو سنے جب نا کوئی تو سنتا ہے وہ وہ خالی کسی کو لوٹاتا نہیں دے کر کبھی بھی جتاتا نہیں نا گبھرانا گر اپنا بھی اپنا نا ہو بنانا اسے گر بنانا بھی ہو نا ملےجب تجھے کوئی بھی سایباں یاد کرنا...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    کبھی جب حق و باطل سے کسی کو چننا پڑ جائے

    کبھی جب حق و باطل سے کسی کو چننا پڑ جائے ڈٹا رہتا ہےحق پر جو، جہاں میں باقی رہتا ہے میں نے سیکھا ہے، دیکھا ہے سرِ حسینؑ سے حاوی کٹ کر بھی جو نیزے پر کلمہء حق ہی کہتا ہے (طارق اقبال حاوی)
  3. Tariq Iqbal Haavi

    اُسی پُرنور سی شب کو، شبِ معراج کہتے ہیں

    سبحان اللہ کیا تھی اُس پار سے، اِس پار کی حسرت کتنی شدت سے تھی محبوب کے دیدار کی حسرت نہ ہو بیاں، کشش کیا تھی، نگاہِ التفات میں بلایا عرش پر اُن کو، فرشتوں کی برات میں بیٹھے براق پر گزرے جہاں سے بھی آقا پیارے پڑھیں درود صف باندھے، ملائک و انبیاء سارے کئے ساکت جہاں سارے، کوئی حرکت نہ ہو حائل...
  4. Tariq Iqbal Haavi

    خدا کے بعد برتر، آپ ہی کی، ذات ہے آقا ﷺ

    (نعت رسول مقبول ﷺ) خدا کے بعد برتر، آپ ہی کی، ذات ہے آقا ﷺ میں کیا لِکھوں، نہ لِکھنے کی، میری اوقات ہے آقا ﷺ درود آپ پر بھیجوں، تو سب، بِگڑا سنورتا ہے آپ ہی کی نسبت سے، بنے ہر بات ہے آقا ﷺ تخلیقِ جہاں جو ہے، یہ سب ہے، آپ کی خاطر آپ کے نام کا صدقہ، یہ کائنات ہے آقا ﷺ ہو نظرِ کرم آقا، میں...
  5. Tariq Iqbal Haavi

    میرے مالک گواہ رہنا

    ظلم یہ انتہا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا کون حق و خطا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا تیرے محبوب کی حرمت، کی خاطر کون نکلا ہے کون مستعد جفا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا یہاں عشق نبی میں جو، ڈٹے ہیں جبر کے آگے نظر انکی جزا پر ہے، میرے مالک گواہ رہنا شرابوں کو شہد بولے، وہ جو منصف اعلیٰ مہرباں اقربا پر...
  6. Tariq Iqbal Haavi

    ابھی موجود ہوں زندہ ہوں، سلجھا لو جو الجھن ہے

    ابھی موجود ہوں زندہ ہوں، سلجھا لو جو الجھن ہے غلط فہمی یا شکوے ہیں، جو میری ذات کے بارے یہ کیا رسمی سا لکھتے ہو کہ مجھکو معاف کردینا کبھی یکطرفہ نہ سلجھیں گے حقوق العباد ہیں پیارے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  7. Tariq Iqbal Haavi

    میرے مولا صدا سن لے

    بڑے مجبور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے غموں سے چور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے مولا معاف کر دے تو، ہماری سب خطاؤں کو بہت رنجور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے (طارق اقبال حاوی)
  8. Tariq Iqbal Haavi

    میں انساں ہوں، اس دنیا میں ۔ ۔ ۔

    میں انساں ہوں، اس دنیا میں سبھی مخلوقوں میں اشرف ہوں جدت کے صلاحیت کے، سبھی گن مجھ میں بستے ہیں ہر مسئلے سے نمٹنے کو، ذہن میں لاکھوں رستے ہیں میں جو چاہوں بنا ڈالوں، میں جو چاہوں مٹا ڈالوں چاہوں تو چاہتیں بانٹوں، چاہوں تو راحتیں بانٹوں چاہوں تو نفرتیں بو دوں، یوں اکثر قدریں بھی کھو دوں مگر میں...
Back
Top