haavi peotry

  1. Tariq Iqbal Haavi

    حسن و دولت ہیں عارضی آخر

    حسن و دولت ہیں عارضی آخر خاک ہونی ہے دلکشی آخر نام، منصب، عروج، شہرت بھی سب یہ ہوتے ہیں موسمی آخر کیوں رنجیدہ ہو انکے جانے پر پنچھی ہوتے ہیں ہجرتی آخر ایک جگنو میرا ہم نفس بنا چھٹ گئی ساری تیرگی آخر تلخ گوؤں کی ہار لازم تھی میں نے سادھی تھی خامشی آخر شام مجھ سے ادھار مانگی ہے تم بھی نکلے ہو...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم

    یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم * بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم * بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم *...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں

    عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں میری سانسیں اَٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں محبت مر چُکی لیکن ، دل و دماغ میں اب تک تیری یادیں بھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں نہیں تعلق کوئی باقی، تو رُک کر کیوں میری جانب تیری آنکھیں مٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں نہیں پرواہ زمانے کی، مگر جو...
  4. Tariq Iqbal Haavi

    بہت ہی سرد ہے موسم

    کھلے نہ بال چھوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم گرم کوٸی شال اوڑھو تم، بہت ہی سرد ہے موسم برسی ہے باغیچے میں، پوری رات ہی شبنم نہ ننگے پاٶں دوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم بہت نازک طبیعت ہو، میری مانو یہ مت کرنا نہ گیلے پھول توڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم برف پہ دل بنانا یوں، تمھیں بیمار کردے گا میری...
  5. Tariq Iqbal Haavi

    ...سنوں جو خواب بچے کا

    سنوں جو خواب بچے کا، تو میری آنکھ بھر آئے مجھے کیوں روز سپنے میں، اَمّاں روٹی نظر آئے؟ (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  6. Tariq Iqbal Haavi

    ایک شعر: وابستہ اس سال نو سے، کوئی امید مت کرنا

    وابستہ اس سال نو سے، کوئی امید مت کرنا صرف فرق ہے انیس بیس کا، اور کچھ نہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  7. Tariq Iqbal Haavi

    ایک شعر: راکھ کر دے گا اک دن

    راکھ کر دے گا اک دن، حاوی یوں تجھے رہنا دہکتے رہنا اندر سے، اور باہر سے بجھے رہنا (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  8. Tariq Iqbal Haavi

    کبھی تم سوچنا مت یہ

    محبت میں دغا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ تمھیں اک دن بھلا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ میری جتنی محبت ہے، سبھی تیری امانت ہے میں چاہت یہ گھٹا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ محبت سے تمھیں مل کے، کسی مورت کو میں دل کے مندر میں سجا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ نہیں یہ وقت گزاری ہے، عمر یہ وقف ساری ہے...
  9. Tariq Iqbal Haavi

    تنہا جینا بہترہے

    سنو۔۔۔ کچھ کہنا ہے تم سے میں نے کل رات دیکھی ہے اک آخری قسط ڈرامے کی کہ جس میں یہ دکھایا ہے مرتا ہے آخر میں، بہت جو پیار کرتا ہے یقیں جانو میرا دل بھی بہت ہی ڈر گیا ہے اب کہ اب یہ پھوٹنا چاہے بہت ہی بھر گیا ہے اب محبت نے ، وفاﺅں نے مجھے جھنجھوڑ ڈالا ہے اس آخری قسط نے مجھ کو بہت ہی توڑ ڈالا ہے کہ...
  10. Tariq Iqbal Haavi

    مٹی دا ایہہ جسا جس دن، مٹی وچ رُل جانا اے

    رسے ساہنوں یاد نہیں کردے، تے راضیاں وی بھل جانا اے مٹی دا ایہہ جسا جس دن، مٹی وچ رل جانا اے کیہ کھویا ای، کیہ کھٹیا ای، کیہ لٹیا ای، کیہ وٹیا ای عملاں والا کھاتہ تیرا، وچ قبریں کھل جانا اے کاہدی آکڑ، کاہدی پھو۔ پھاں، چھڈ دے بندیا کرنی تو۔ تاں جیویں لون کھرے وچ پانی، سبھ اوہداں گھل جانا اے...
  11. Tariq Iqbal Haavi

    کدی کلھیاں بہہ کے سوچی ہاں

    کدی کلھیاں بہہ کے سوچی ہاں تیرے وچ کاہدی آکڑ اے بس اکوں جھٹکے مک جانی جیہڑی چلدے ساہ دی آکڑ اے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
Back
Top