یہ ہے تو رب کی جانب سے، رضا سمجھو، سزا سمجھو
نہیں ہے بات معمولی، خدارا کچھ ذرا سمجھو
سانس لینا اذیت ہو، سوچو کیسی طبیعت ہو
ہے یہ موت کی دستک، محض نہ عارضہ سمجھو
جو لقمہ بن چکے اِسکا، انہی سے کچھ سبق سیکھو
بہت تکلیف دہ ہے یہ، اسے موذی وَبا سمجھو
بناﺅ لوگوں سے دُوری، اِسی میں ہے سمجھداری
موت ہے...
بڑے مجبور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے
غموں سے چور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے
مولا معاف کر دے تو، ہماری سب خطاؤں کو
بہت رنجور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے
(طارق اقبال حاوی)
میں انساں ہوں، اس دنیا میں
سبھی مخلوقوں میں اشرف ہوں
جدت کے صلاحیت کے، سبھی گن مجھ میں بستے ہیں
ہر مسئلے سے نمٹنے کو، ذہن میں لاکھوں رستے ہیں
میں جو چاہوں بنا ڈالوں، میں جو چاہوں مٹا ڈالوں
چاہوں تو چاہتیں بانٹوں، چاہوں تو راحتیں بانٹوں
چاہوں تو نفرتیں بو دوں، یوں اکثر قدریں بھی کھو دوں
مگر میں...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.