موسم نے بدلی اَدا ، میرے پاس چلے آﺅ
مجھے کچھ نہ لگے اچھا، میرے پاس چلے آﺅ
میرے پاس چلے آﺅ، مجھے تم سے ملے راحت
ہے دِل کی یہی صدا، میرے پاس چلے آﺅ
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
تمھیں ہم کیسے سمجھائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں
کیسے ہم دل کو بہلائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں
گزارش یہ ذرا سی ہے، تمھارے بن اُداسی ہے
کہو تو ملنے آجائیں، ، تمھارے بن ادھورے ہیں
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
آگ چھوئے گی آشیاں، تب نکلیں گے
ظلم ہے انتہا پر، کب نکلیں گے؟
دردِ انسانیت کا اب احساس نہیں جنکو
کوئی اپنا جب مرے گا، تب نکلیں گے
(شاعر:طارق اقبال حاوی)
بڑے مجبور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے
غموں سے چور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے
مولا معاف کر دے تو، ہماری سب خطاؤں کو
بہت رنجور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے
(طارق اقبال حاوی)
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.