"من و سلوی"

yusra kainaat

Member
New Member
قیم تھے تو اللّٰہ عزوجل نے ان لوگوں کے کھانے کے لئے آسمان سے دو کھانے اتارے۔ ایک کا نام "من" اور دوسرے کا نام ،"سلویٰ" تھا۔ من بالکل سفید شہد کی طرح ایک حلوہ تھا یا سفید رنگ کی شہد ہی تھی جو روزانہ آسمان سے بارش کی طرح برستی تھی اور سلویٰ پکی ہوئی بٹیریں تھیں جو دکھنی ہوا کے ساتھ آسمان سے نازل ہوا کرتی تھیں۔
اللّٰہ عزوجل نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں کا شمار کراتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
ترجمہ: اور تم پر من و سلویٰ اتارا۔
اس من و سلویٰ کے بارے میں حضرت موسیٰ کا یہ حکم تھا کہ روزانہ تم لوگ اس کو کھا لیا کرو اور کل کے لئے ہرگز ہرگز اس کا ذخیرہ مت کرنا۔ مگر بعض ضعیف الاعتقاد (ایمان کے کمزور )لوگوں کو یہ ڈر لگنے لگا کہ اگر کسی دن من و سلوی نہ اترا تو ہم لوگ اس بے آب و گیاہ، چٹیل میدان میں بھوکے مر جائینگے۔ چنانچہ ان لوگوں نے کچھ چھپا کر کل کے لئے رکھ لیا تو نبی کی نافرمانی سے ایسی نحوست پھیل گئی کہ جو کچھ لوگوں نے کل کے لئے جمع کیا تھا وہ سب سڑ گیا اور آئندہ کے لئے اس کا اترنابھی بند ہوگیا،
اسی لئے حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :
بنی اسرائیل نہ ہوتے تو نہ کھانا کبھی خراب ہوتا اور نہ گوشت سڑتا، کھانے کا خراب ہونا اور گوشت کا سڑنا اسی تاریخ سے شروع ہوا۔ ورنہ اس سے پہلے نہ کھانا بگڑتا تھا نہ گوشت سڑتا تھا۔
منقول(تفسیرروح البیان، البقرہ57)
1f4d6.png
1f339.png
1f497.png

" گھر میں فریج رکھنا حرام ہے "
مجھے ایک بار ایران کے ایک گمنام قصبے میں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ اصفہان اور شیراز کے درمیان تھا‘ میں اس کا نام بھول گیا ہوں‘ مجھے وہاں رات گزارنا پڑ گئی‘ میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ پورے قصبے میں فریج نہیں تھا‘ میزبان نے بتایا ہم خوراک کو فریج میں رکھنا گناہ سمجھتے ہیں‘ میں حیران رہ گیا‘ وہ بولا‘ شاہ ایران کے دور میں حکومت عوام کو فریج خریدنے کی ترغیب دیتی تھی‘ قسطوں پر ٹی وی اور فریج مل جاتے تھے‘ پورے شہر نے فریج خرید لیے۔
ہمیں چند دن بعد احساس ہوا ہمارے دل تنگ ہو گئے ہیں‘ ہم نے فالتو کھانا فریجوں میں رکھنا شروع کر دیا ہے‘ لوگ اس سے پہلے اضافی کھانا ضرورت مندوں یا ہمسایوں میں بانٹ دیا کرتے تھے‘ ہم میں سے ہر شخص اپنے اپنے تیار شدہ کھانے ہمسائے کے گھر بھجواتا تھا اور ہمسائے اپنا کھانا ہمیں دے دیتے تھے‘ فریج نے میزبانی اور محبت کا یہ سلسلہ روک دیا‘ ہمارے امام صاحب نے ایک دن پورے شہر کو اکٹھا کیا اور فریج کو حرام قرار دے دیا‘ حکومت نے بہت زور لگایا لیکن ہم لوگوں نے اپنے فریج بیچ دیے یا پھر اپنے دور دراز کے رشتے داروں کو دے دیے‘ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ہمارے قصبے میں فریج واپس نہیں آیا۔
میں نے پوچھا اس سے کیا فائدہ ہوا،
❓
وہ ہنس کر بولا ”بہت فائدہ ہوا‘ ہمارے پورے شہر میں کوئی شخص غرض کہ کوئی جانور اور پرندے تک بھوکے نہیں سوتے‘ لوگ پیٹ بھر کرکھانا کھاتے ہیں اور باقی کھانا کسی نہ کسی مسکین‘ حاجت مند یا بھوکے تک پہنچ ہی جاتا ہے ‘ ہم لوگ ہمسایوں میں بھی کھانا بانٹتے ہیں یوں پورے شہر میں کوئی بھوکا نہیں رہتا“
نہ ہی کوئی انسان نہ ہی کوئی جانور ۔۔۔۔۔
اس پوسٹ کو کرنے کا مقصد بھی یہ ہی ہے کہ اپنے دلوں کو کشادہ کریں اپنے رزق میں دوسروں کو بھی شامل کریں ۔۔۔
اپنے ارد گرد نظر ڈوڑائیں نہ جانے کتنے ہی لوگ بھوکے پیاسے ہی سو جاتے ہونگے ۔۔۔۔
زرا نہیں پورا سوچئیے گا ضرور کہ وہ شہر کتنا برکت والا ہوگا جہاں نا صرف انسان بلکہ جانور اور چرند پرند تک بھوکے نہیں رہتے۔۔۔
__
❤
❤

1f32c.png
_ مودبانہ گزارش
ہمارا ہدف آپکو بہترین اسلامی معاشرتی تاریخی معلوماتی، اصلاحی تحریریں پیش کرنا ہے.
جس میں آپ کا ایک شیئر بہت بڑا کردار بطور صدقه جاریہ بن کر ثواب دارین کا باعث بن سکتا ہے. آئیں ہمارے ساتھ ساتھ آپ بھی اس کار خیر کا حصّه بننیں
شکریه....
سبحان اللّٰہ و بحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم​
No photo description available.


 
Back
Top