ہیں سردیاں پلٹنے کو
اب تم بھی پلٹنے کا سوچو
تنہا گزرے کتنے موسم
تم لوٹے نہ میرے ھمدم
جن پر ھم سنگ سنگ چلتے تھے
وہ راہیں ادھوری ھیں جاناں
والہانہ لپٹنے کو تم سے۔۔۔
میری بانہیں ادھوری ھیں جاناں
میری آنکھیں رستہ تکتی ہیں
اب پتھر بھی ہو سکتی ہیں
اب اِتنا مجھے ستاٶ نہ
تم جلدی لوٹ کے آٶ نا
ہیں سردیاں...
ہیں سردیاں پلٹنے کو۔۔۔
اب تم بھی پلٹنے کا سوچو
تنہا گزرے کتنے موسم
تم لوٹے نہ میرے ھمدم
جن پر ھم سنگ سنگ چلتے تھے
وہ راہیں ادھوری ھیں جاناں
والہانہ لپٹنے کو تم سے۔۔۔
میری بانہیں ادھوری ھیں جاناں
میری آنکھیں رستہ تکتی ہیں
اب پتھر بھی ہو سکتی ہیں
اب اِتنا مجھے ستاٶ نہ
تم جلدی لوٹ کے آٶ نا
ہیں...
سنو جاناں
موسم بدل رہا ہے
اور موسم کے بدلنے پر
بہت سی تبدیلیاں
رونما ہونے لگی ہیں
ہواﺅں نے اپنے مزاج میں
دُھند بھر لی ہے۔۔۔
اور پیڑوں کی قسمت میں بھی
اُداسی کا موسم شروع ہونے کو ہے
یوں موسم بدلنے پر
بہت کچھ بدلتا ہے
ہمارے لباس، انداز، مشروب
اوڑھنا، بچھونا، چال ،ڈھال
اور بہت کچھ
مگر میرے جذبات کی...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.