سنو جاناں....
کیوں دوری کو لے کر
یوں تم اداس رہتی ہو؟
بھلے تم دور ہو مجھ سے
مگر ہر پل ہر لمحہ
دل کے پاس رہتی ہو
قسم جاناں تمہیں میری
کہ اب اس دوری کو لے کر
نہ دل اداس رکھنا تم
مجھے موجود پاٶ گی
میری یادیں میری باتیں
بس اپنے پاس رکھنا تم
فاصلے جو مقدر ہیں
ہمیشہ تو نہیں رہنے
ہنسی چہرے کِھلائے گی...
پٹھیاں گلاں کر نہ جھلئی
ایویں ای اکھاں بھر نہ جھلئی
تیرا ساں میں، تیرا ای آں
سونہہ کھانا واں، ڈر نہ جھلئی
لوک تے پھرن اجاڑن نوں
کن لوکاں ول، دھر نہ جھلئی
کجھ حوصلے کر، ہتھ پیر وی مار
بس گھڑے بھروسے، تر نہ جھلئی
عشق اے ناں ازمائشاں دا
ایہنی چھیتی، ہر نہ جھلئی
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
محرم میرے بعد تمھارے
مت پوچھو دن کیسے گزارے
بھاری آنکھیں اٹا ہوا دل
کسے بتاؤں راز میں سارے
بے رنگ صبحیں بوجھل شامیں
کوئی بھلا کیوں خود کو سنوارے
روز ہی تیرے لمس کو ڈھونڈیں
شام ڈھلے ہم جھیل کنارے
ہم ہی جھلے سوچیں تجھ کو
اور تم سوچو اپنے بارے
دید کو تیری ترس گئے ہیں
راہیں تکتے نین بیچارے...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.