sad poetry

  1. Tariq Iqbal Haavi

    خزانے لوٹنے والو, یوں خالی ہاتھ جاؤ گے

    ہمارے حال سے غافل، سیاست میں مگن ہو تم نہیں کچھ فکر فردا ہے ملک کیا خاک بچاؤ گے میری اس موت کے منظر میں بھی پیغام ہے تم کو خزانے لوٹنے والو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں خالی ہاتھ جاؤ گے (طارق اقبال حاوی)
  2. Tariq Iqbal Haavi

    جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں

    جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں ایسے لوگوں کا تو، بس علاج پتھر ہیں **** واہ ری دولت، تو نہ رہی، تو میرے اپنے کبھی جو موم تھے، وہ سارے آج پتھر ہیں **** جس نے اِینٹیں اُٹھا کر، بنایا ہے بیٹا ڈاکٹر اُس مزدور کے تو، سر کا تاج پتھر ہیں **** کسی کا نام لکھنا، اور جھیل میں پھینکے جانا اِن دنوں...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے

    میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے بہت بکھرا ہُوا ہوں میں، اور اب ترتیب لازم ہے عجب وادی ہے وحشت کی، اَٹی ہے دُھول نفرت کی گھر کو گھر بنانے کو، نئی ترکیب لازم ہے مدھر سے راگنی گائیں، چلو کہ جام چھلکائیں میرے گھر میں ہو آئے تم، کوئی تقریب لازم ہے جہاں پر چار ذہنوں میں، بھرا شر ہو، کدورت...
  4. Tariq Iqbal Haavi

    ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا

    ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا سبھی یادیں مٹا دیتے، مٹانا جو آساں ہوتا محبتیں وقف ھیں میری، اب بھی اسکے لٸے ورنہ نیا کوٸی عشق جما لیتے، جمانا جو آساں ہوتا پکڑ ہے عشق کی ایسی، کہ دامن تار تار ہے جھٹ سے دامن چھڑا لیتے، چھڑانا جو آساں ہوتا انا کے ہم بھی قیدی تھے، بلا کے وہ بھی ضدی...
  5. Tariq Iqbal Haavi

    ذرا احساس ہونے دو

    مجھے وہ خود پکارے گا، ذرا احساس ہونے دو سبھی مسئلے سدھارے گا، ، ذرا احساس ہونے دو ابھی تو دیکھ کر مجھ کو، جو سر پہ خاک ڈالے ہے وہ خود کو پھر نکھارے گا، ذرا احساس ہونے دو ابھی جو اوڑھے پھرتا ہے ، پرائی عیش و عشرت کے لبادے سب اُتارے گا، ذرا احساس ہونے دو تمہیدیں باندھ کر اُلٹی، سدا جیتا ہے...
  6. Tariq Iqbal Haavi

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے

    چھاﺅں دے سب کو بِن مطلب کے اگرچہ بھرپور ہے خاروں کے سو درجے بہتر ہے حاوی کیکر بھی میرے یاروں سے (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  7. Tariq Iqbal Haavi

    ایک شعر: راکھ کر دے گا اک دن

    راکھ کر دے گا اک دن، حاوی یوں تجھے رہنا دہکتے رہنا اندر سے، اور باہر سے بجھے رہنا (شاعر: طارق اقبال حاوی)
  8. Tariq Iqbal Haavi

    تنہا جینا بہترہے

    سنو۔۔۔ کچھ کہنا ہے تم سے میں نے کل رات دیکھی ہے اک آخری قسط ڈرامے کی کہ جس میں یہ دکھایا ہے مرتا ہے آخر میں، بہت جو پیار کرتا ہے یقیں جانو میرا دل بھی بہت ہی ڈر گیا ہے اب کہ اب یہ پھوٹنا چاہے بہت ہی بھر گیا ہے اب محبت نے ، وفاﺅں نے مجھے جھنجھوڑ ڈالا ہے اس آخری قسط نے مجھ کو بہت ہی توڑ ڈالا ہے کہ...
  9. Tariq Iqbal Haavi

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے

    ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟ تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے ”عاجز“ و ”شاکر“ ہو کر ہی ملے ہے ”قربت“ عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے اس...
Back
Top