november poetry

  1. Tariq Iqbal Haavi

    ہیں سردیاں پلٹنے کو۔۔۔

    ہیں سردیاں پلٹنے کو۔۔۔ اب تم بھی پلٹنے کا سوچو تنہا گزرے کتنے موسم تم لوٹے نہ میرے ھمدم جن پر ھم سنگ سنگ چلتے تھے وہ راہیں ادھوری ھیں جاناں والہانہ لپٹنے کو تم سے۔۔۔ میری بانہیں ادھوری ھیں جاناں میری آنکھیں رستہ تکتی ہیں اب پتھر بھی ہو سکتی ہیں اب اِتنا مجھے ستاٶ نہ تم جلدی لوٹ کے آٶ نا ہیں...
Back
Top