سجدہ محبت میں دکھتا ہے وہ
مومن کے چہرے کا ہے نور جو
بتانا اسے گر جو مجبور ہو
سنے جب نا کوئی تو سنتا ہے وہ
وہ خالی کسی کو لوٹاتا نہیں
دے کر کبھی بھی جتاتا نہیں
نا گبھرانا گر اپنا بھی اپنا نا ہو
بنانا اسے گر بنانا بھی ہو
نا ملےجب تجھے کوئی بھی سایباں
یاد کرنا...
جانتے بھی ہو....
یہ کس کا راستہ روکا ہے؟؟؟
یہ کوئی اور ہی مخلوق ہے
جو تمہاری طرح تو بالکل بھی نہیں
انکا فرقہ صرف انسانیت ہے
یہ وہی ایمبولینس اور اس کا عملہ ہے
جو اپنے فرض سے غافل نہیں ہوتے
حالات کیسے بھی ہوں
یہ اپنے حصہ کا کام کرنا بخوبی جانتے ہیں
ابھی جب توڑ پھوڑ، شور و غُل
اور اپنوں سے مار...
اے میرے دیس کے لوگو
کبھی اک لمحے کو سوچو
جس انقلاب کی خاطر
سر پہ باندھ کر کفنی
گھروں سے تم جو نکلے ہو
اُس انقلاب کا عنصر
کوئی سا اک بھی تم میں ہے؟
بازار لوٹ کے اپنے
دکانوں کو جلا دینا
ریاست کے ستونوں کو
بِنا سوچے گرا دینا
تباہی ہی تباہی ہے
خرابی ہی خرابی ہے
نہیں کچھ انقلابی ہے
نہیں یہ انقلابی ہے...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.