haavi

  1. Tariq Iqbal Haavi

    اور زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا

    اور زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا، عقل کو بھی لگ جاتا ہے ۔ اور ایسا تب ہوتا ہے جب ہم بہت سے معاملات میں بجائے حقیقت کو دیکھنے کے اپنی آنکھیں محض اس لئے بند کر لینا مناسب سمجھ لیتے ہیں کہ بات ہمارے پیاروں کی ہوتی ہے۔ اور پھر یوں آنکھوں کو مسلسل بند کئے رکھنا عقل کو زنگ آلود کرتا رہتا ہے اور جب عقل...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    خدارا کچھ ذرا سمجھو

    یہ ہے تو رب کی جانب سے، رضا سمجھو، سزا سمجھو نہیں ہے بات معمولی، خدارا کچھ ذرا سمجھو سانس لینا اذیت ہو، سوچو کیسی طبیعت ہو ہے یہ موت کی دستک، محض نہ عارضہ سمجھو جو لقمہ بن چکے اِسکا، انہی سے کچھ سبق سیکھو بہت تکلیف دہ ہے یہ، اسے موذی وَبا سمجھو بناﺅ لوگوں سے دُوری، اِسی میں ہے سمجھداری موت ہے...
  3. Tariq Iqbal Haavi

    میں انساں ہوں، اس دنیا میں ۔ ۔ ۔

    میں انساں ہوں، اس دنیا میں سبھی مخلوقوں میں اشرف ہوں جدت کے صلاحیت کے، سبھی گن مجھ میں بستے ہیں ہر مسئلے سے نمٹنے کو، ذہن میں لاکھوں رستے ہیں میں جو چاہوں بنا ڈالوں، میں جو چاہوں مٹا ڈالوں چاہوں تو چاہتیں بانٹوں، چاہوں تو راحتیں بانٹوں چاہوں تو نفرتیں بو دوں، یوں اکثر قدریں بھی کھو دوں مگر میں...
Back
Top