بچوں کی عادات پر محنت کریں
دنیا کے تمام مشاغل اور کاموں میں اگر کوئی بہترین اور حساس کام ہے تو وہ بچوں کی تربیت ہے ۔تمام والدین کی یہ بھرپور خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ ایک بہترین انسان بنے
جس کی دنیا بھی اچھی ہو اور آخرت بھی۔اس مقصد کے لیے وہ ہرممکن کوشش کرتے ہیں اور اسی فکر میں سرگرداں نظر آتے ہیں ۔گزشتہ آرٹیکل میں ہم نے والدین کی کچھ عمومی غلط فہمیوں کی نشاندہی اور ان کے حل کے بتائے تھے ۔آج کی اس نشست میں ہم ’’عادات ‘‘ کے بارے میں اہم عوامل سپردِ قلم کریں گے۔
عادات کیا ہوتی ہیں :
انسان کا ذہن دو چیزوں کی بنیاد پر کام کرتاہے ، ایک کو شعور اور دوسرے کو تحت شعور کہتے ہیں ۔شعور وہ ہے جس کے ذریعے انسان اندازہ ،احتیاط اور حساب کتاب کا کام کرتا ہے جبکہ تحت شعور میں انسان کی عادات ،نظریات ، طرزِ زندگی ، یقین اور بنیادی حافظے کی چیزوں کے ساتھ ساتھ 80فی صد عادات بھی پڑی ہوتی ہیں ۔انسان دن بھر میں جتنی عادات بھی سرانجام دیتا ہے، وہ تحت شعور کی بدولت ہی دیتا ہے جبکہ باقی 20فی صدعادات اسے شعور کی مدد سے بنانی پڑتی ہیں۔اگر یہ 20فی صد کا مارجن نہ ہو تو پھر انسان پولیس یا فوج میں بھرتی نہیں ہوسکتا اور ٹریننگ و تربیت کانتیجہ ہی ختم ہوجائے گا،کیونکہ ٹریننگ کے دوران کوئی بھی انسٹرکٹر اسی 20فی صد کے مارجن میں چیزوں کو رکھتا ہے اور اس کی عادات بناتا ہے ۔اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ جو انسان جبلتاً خراب ہے تو پھر اس کو درست کرنا مشکل ہے۔اس کو صرف ایک ہی ذریعے سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے اور وہ ہے انسپائریشن اور مضبوط قوتِ ارادی ۔خوش قسمتی سے اگراس کی زندگی میں کوئی انسان ایسا آجائے جس سے وہ انسپائر ہوجائے یا اس کی اپنی Will powerاتنی زبردست ہو کہ وہ اپنی عادات کے خلاف کھڑا ہوجائے تو ٹھیک ورنہ ۔۔اس کی عادت بدلنا بڑا مشکل ہے۔
والدین اپنی تربیت میں دراصل اپنے بچوں کو عادت دے رہے ہوتے ہیں۔آپ نے جتنی اچھی عادات اپنے بچوں کو دی ہوتی ہیں اتنے ہی وہ کامیاب ہوتے ہیں۔بھارت کے سابق صدرعبد الکلام کاکہنا ہے کہ ’’آپ اپنے مستقبل کو نہیں بدل سکتے مگر اپنی عادات بدل کر اپنا مستقبل بہتر کرسکتے ہیں۔‘‘اسی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عادات کی ترقی کا نام تربیت ہے ۔
بچوں کو عادت کیسے دی جاتی ہیں؟
والدین مندرجہ ذیل عوامل کی بناء پر اپنے بچوں کو عادات دے سکتے ہیں:
(۱)Pain & pleasureپرنسپل :
انسان کا دل ہمیشہ اس چیز کو پسند کرتا ہے جس میں اس کو مزہ آتا ہے اور اس کو ناپسند کرتا ہے جس میں اس کو تکلیف ملتی ہے ۔ انسان کی عادات بھی وہی بنتی ہیں جن میں اس کو سرور مل رہا ہو اور جن کاموں میں تکلیف ہو تو وہ اس کو عادت نہیں بناتا۔
بچوں میں نئی عادات پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان عادات کو دلچسپ بنایا جائے۔
(۲)حوصلہ افزائی :
والدین اپنے بچوں کی جس کام پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں ،وہ آہستہ آہستہ ان کی عادت بن جاتی ہے۔آج سے آپ ایک لسٹ بنائیں کہ کن کن چیزوں پر آپ نے شاباشی اور حوصلہ شکنی کرنی ہے۔دراصل حوصلہ افزائی اور تنقید دو ایسے اوزار ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے بچوں کی عادات بنارہے ہوتے ہیں ۔مثال کے طورپر آپ کے بیٹے نے آپ سے کہا:’’بابا آپ نے جوپیسے دیے تھے ،وہ میں نے خرچ کردیے ۔‘‘ آپ نے پوچھا کہ کہاں خرچے؟وہ بتاتا ہے کہ ’’ بابا! چھوٹی بہن کی سالگرہ تھی میں نے اس کے لیے گفٹ لے لیا۔‘‘ اب یہ وہ مقام ہے جہاں آپ کاکوئی بھی ردِعمل بچے کو اچھایا برا بناسکتا ہے ۔ اگرآپ نے کہا :’’ بہت خوب! بہنوں کے لیے ایسا ہی کرنا چاہیے۔‘‘ تو آئندہ وہ دوسروں کی مدد کرے گا،لیکن اگر آپ نے کہا: ’’ میں نے تمہیں دیے تھے ،تم نے بہن پر خرچ کردیے،تمہیں ضرورت ہی کیا تھی ؟؟‘‘تو یہ الفاظ سننے کے ساتھ ہی اس کے ذہن میںیہ بات بھی بیٹھ جائے گی کہ’’ احساس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘
یاد رکھیں !برائی کی شاباشی بڑی برائی کو پیدا کرتی ہے اور اچھائی کی شاباشی بڑی اچھائی کو پیدا کرتی ہے۔
بچوں کو ایک ہدف دیں اور ان سے مستقل وہ کام کروائیں ،کرتے کرتے وہ ان کے شعورمیں موجو د عادات ، نظریات اور ایقان میں تبدیل ہوجائے گا۔ مثلاً آپ نے ان سے کہا :’’بیٹا! معاف کرنا
چاہے ۔‘‘ وہ شاید کہہ دے کہ یہ مشکل کام ہے مگر آپ نے اس سے کئی بار معاف کرایا اور وہ معاف کرنا اس کی عادت بن گئی تو پھر اس کی زندگی بدل جائے گی ،کیونکہ پھر اس کومعاف کرنے پر زور نہیں لگانا پڑے گا،بلکہ لاشعوری طورپر وہ اس کو کرگزرے گا۔
بہترین عادات میں سے ایک عادت Proactivenesبھی ہے یعنی وقت سے پہلے تیار ہونا،اس کے ساتھ ساتھ کچھ چیزوں سے بے فکری بھی دے دیں ۔ہم نے بچوں کو سب سے بڑی فکر یہ دی ہے کہ’’ لوگ کیا کہیں گے؟‘‘حالانکہ یہ سوچ اس معاشرے کے سینکڑوں اور ہزاروں بیماریوں کی جڑ ہے۔
ہر بچے کو اللہ نے کوئی نہ کوئی انرجی دی ہوتی ہے، جس کو ٹیلنٹ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کو دریافت کرنا اور اس کے مطابق اس کو مصروفیت دینا یہ والدین کی اہم ذمہ داری ہے ۔
کسی بھی انسان کواگر پیشن کے ساتھ پروفیشن نہ ملے تو وہ ضائع ہوجاتاہے۔بچے کی انرجی معلوم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کو سنا کریں،اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اورپھر اس کے بعد ان کو سہولت بھی دیں ،یعنی ان کے پیشن کے مطابق ان کو ماحول دیں اور ان کو اپنے ٹیلنٹ کے مطابق رول ماڈلز سے ملوائیں ۔اس کے خوابوں کے شہزادے سے ان کی ملاقات ضرور کروائیں ۔جب بچوں کو آپ نے مختلف شخصیات سے ملوایا ہوتا ہے تو ان کے لیے اپنا آپ ڈھونڈنا انتہائی آسان ہوجاتاہے۔بچوں کو اچھا بنانے کے لیے ضروری ہے کہ والدین خوداچھے بنیں۔جدید ریسرچ کے مطابق والدین کی 65فی صدعادات بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔وہ تمام خوبیاں جو آپ اپنے بچوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے اپنے اندر پیدا کریں ۔
آپ کا بچہ درست ٹریک پر ہے ؟
آپ کابچہ درست ٹریک پر چل رہا ہے یا نہیں ،یہ معلوم کرنے کے لیے تین چیزیں دیکھنا ضروری ہیں۔
(۱)ملنسار ی اورسماجی ذہانت:
آپ دیکھیں کہ اس میں ملنساری اور سماجی ذہانت (سوشل جینیس)کتنی ہے ؟اس موضوع پر ایک کتاب Get to the top کے نام سے موجود ہے جس میں ان لوگوں کی ترقی کے بارے میں معلومات ہیں جن کے اندر سماجی ذہانت اچھی تھی ۔اگرآپ کے بچے میں سوشل جینییس موجود ہے تو آپ مطمئن ہوجائیں۔زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے اور جس بچے میں سماجی ذہانت ہوگی تو یقینی طورپر وہ آگے بڑھ سکے گا،کیونکہ اس کے لیے ٹیم بنانا اور لوگوں کو ساتھ ملاکر چلنا آسان ہوتا ہے۔
میں نے اپنی تدریسی زندگی میں تقریباًچھ سات ہزار بچوں کو پڑھا یا ہے ،جو بچے لوگوں سے دور رہتے ہیں یا جب مہمان آجائیں تو وہ پڑھنا شروع کردیتے ہیں ، ان کوعملی زندگی میں ناکام دیکھا ہے ۔سماجی ذہانت اتنی طاقتور چیز ہے کہ وہ آپ کے گرد میلا لگادیتی ہے ۔اشفاق صاحب کا جملہ ہے کہ ’’انسان اگر سچا ہو اور وہ جنگل میں بھی بیٹھ جائے تو لوگ پگڈنڈیاں بناکراور چل چل کر اس تک پہنچ جاتے ہیں ۔‘‘
(۲)قوتِ ارادی:
آپ کبھی اپنے بچے کے پاس بیٹھ کر اس چیز کی لسٹ بنائیں کہ وہ خود سے کتنا سوچتا ہے اور کتنا کام کرتا ہے ۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اندر قوتِ ارادی موجود ہے ۔اسی قوت کی بدولت وہ نئے اقدامات کرکے زندگی میں آگے بڑھے گا۔
(۳)قربانی:
دیکھیں کہ آپ کابچہ قربانی کتنا دیتا ہے ،بانٹتا کتنا ہے اوراپنے جیب خرچ سے کتنے لوگوں کو کھلاتا ہے؟اگر یہ اوصاف ہیں توپھر اگرچہ وہ اسکول میں نمبرکم لے لے لیکن وہ زندگی میں ترقی کرے گا کیونکہ اس کے اندر قربانی کا جذبہ ہے۔
(۴)سیکھنے کا شوق:
یہ بات معلوم کرنے کے بے شمار طریقے ہیں ۔آ پ ایک انسان کو آزاد چھوڑدیں توجو وہ کرتا ہے اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کوکس چیز کی طلب ہے۔آپ بھی اپنے بچوں کی سرگرمیوں کو نوٹ کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ ان میں کن چیزوں کے سیکھنے کا شوق ہے ۔یہی شوق ہی ان کو آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔
(۵)انسپائریشن :
سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کے بچے کے پاس کوئی انسپائریشن ہے ؟ویسے تو زندگی میں کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے مگر ایک چیز میں نے ضرور دیکھی ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی انسپائریشن ہے تو آپ کامیاب ہوسکتے ہیں۔انسپائریشن کا مطلب ہے کہ کسی کو دیکھ کر ارادہ کرلینا کہ میں نے کچھ بننا ہے ۔
بچپن کی زندگی اسپنج کی طرح ہوتی ہے جس میں وصول کرنے کی بھرپور گنجائش ہوتی ہے ۔جن بچوں کو وقت پر کوئی انسپائریشن مل جائے تو وہ زندگی میں بڑا نام کماتے ہیں ،جبکہ بڑی عمر کی مثال پتھرکی سی ہے ۔آپ نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو یہ کہتے ہیں کہ میں فلاں مشہور شخصیت کے ساتھ اتناعرصہ رہا ہوں لیکن ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔وجہ یہ ہے کہ ان میں اثر لینے کی وہ صلاحیت ختم ہوچکی ہوتی ہے جو بچپن میں ہوتی ہے ۔
انسپائریشن کاوقت پر ملنا بہت ضروری ہے ۔اسی وجہ سے میں نے تعلیمی اداروں کوجو مشورے دیے ہیں ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمیں پہلی جماعت سے سولہویں تک سیرت رسول ﷺ کو پڑھانا چاہیے ۔اسی طرح ایڈمنسٹریشن میں حضرت عمر فاروق ؓ کی زندگی ضرور پڑھانی چاہیے ۔محمد علی جناح ، علامہ اقبال ،نواب آف بہاولپور ، حکیم سعید اور عبدالستار ایدھی کوبھی پڑھانا چاہیے۔انہی سے بچہ انسپائریشن لے گا۔
(۴)بچہ اوریجنل (اصلی) کتنا ہے ؟
ہم بچوں کو شروع ہی سے مصنوعی بنالیتے ہیں ۔ہمارے ہاں یہ رجحان بنتا جارہا ہے کہ بچے کو پہلے پہل انگریزی سکھائیں ،اس کو آرٹیفیشل بنائیں ۔وہ کوٹ ٹائی لگاتا ہے ،آدھے ہاتھ سے مصافحہ کرتا ہے اور بات بھی پوری طریقے سے نہیں کرتا۔نہ اس میں خود احساس ہوتا ہے نہ اگلے سے احساس کرواتا ہے ۔بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو بظاہر تو بڑے خوش لباس اور خوش گفتار ہیں مگر اندر سے کھوکھلے ہیں ، نہ ان کی کوئی فکری نشوونما ہوئی ہے نہ نظریاتی ، بس جس طرح حالات ہوتے ہیں اسی کے مطابق خود کو سنوارلیتے ہیں ۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہوکر صرف اپنے اور اپنے بچوں کے لیے جیتے ہیں ،ان کے دل میں ملک،ملت اور قوم کا احساس نہیں ہوتا۔یاد رکھیں جو انسان پل بڑھ کر صرف اپنی ذات کے قابل ہوجائے وہ ناکام ہے ۔ہاں جو اپنی کامیابی کے ساتھ معاشرے کوبھی کچھ دینے لگ جائے، وہ کامیاب ہے ۔
بچوں کو جہاں اپنے اقدار دینا ضروری ہے وہیں اپنے حقیقی رشتوں کے بھی قریب رکھنا ہے ۔میں والدین سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تمام تر اختلافات کے باوجود بھی اپنے بچوں کوان کے دادا،دادی سے دور نہ کریں ۔ اللہ نے جو رشتے دیے ہیں انہیں نبھائیں اور بچوں کو نبھاکر دکھائیں ۔ بچوں کو اللہ نے رشتوں کی جوانرجی دی ہے وہ ان کو ضرور انجوائے کرائیں ۔اگر آپ ان کو بڑوں سے دور رکھیں گے تو یہ ان کی حق تلفی ہے۔ قابلیت ،اسکلز اور صلاحیتوں میں آپ کے بچے انتہائی ماڈرن اور جدت پسند ہونے چاہییں مگران کاانداز اورطرزِ زندگی اوریجنل( دیسی)ہو،ان میں نرم مزاجی ہو، وہ کہیں بھی بیٹھ کر کھاپی سکیں ۔اپنے بچوں کو یہ بات ضرور سکھائیں کہ بہت ساری چیزوں کونظر اندا ز کرنا ہوتا ہے ،بہت ساری چیزوں کو بھول جانا ہوتا ہے اوربہت ساری باتوں میں اگرانسان فقط خاموشی اختیار کرلے تو معاملات درست ہوجاتے ہیں او ر وہ بلاوجہ کے غموں اور تفرات سے بچ جاتا ہے۔
والدین کا اپنے بچوں پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ان کی بہترین تربیت کریں اور تربیت نام ہے اچھی عادات اپنا نے کا۔ہر انسان کے پاس اچھائی اوربرائی منتخب کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔اختیار کے استعمال سے رویہ بنتا ہے ،رویے سے عادت اورپھر۔۔۔ عادات ہی انسان کی دین ودنیا کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتی ہیں۔
دنیا کے تمام مشاغل اور کاموں میں اگر کوئی بہترین اور حساس کام ہے تو وہ بچوں کی تربیت ہے ۔تمام والدین کی یہ بھرپور خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ ایک بہترین انسان بنے
جس کی دنیا بھی اچھی ہو اور آخرت بھی۔اس مقصد کے لیے وہ ہرممکن کوشش کرتے ہیں اور اسی فکر میں سرگرداں نظر آتے ہیں ۔گزشتہ آرٹیکل میں ہم نے والدین کی کچھ عمومی غلط فہمیوں کی نشاندہی اور ان کے حل کے بتائے تھے ۔آج کی اس نشست میں ہم ’’عادات ‘‘ کے بارے میں اہم عوامل سپردِ قلم کریں گے۔
عادات کیا ہوتی ہیں :
انسان کا ذہن دو چیزوں کی بنیاد پر کام کرتاہے ، ایک کو شعور اور دوسرے کو تحت شعور کہتے ہیں ۔شعور وہ ہے جس کے ذریعے انسان اندازہ ،احتیاط اور حساب کتاب کا کام کرتا ہے جبکہ تحت شعور میں انسان کی عادات ،نظریات ، طرزِ زندگی ، یقین اور بنیادی حافظے کی چیزوں کے ساتھ ساتھ 80فی صد عادات بھی پڑی ہوتی ہیں ۔انسان دن بھر میں جتنی عادات بھی سرانجام دیتا ہے، وہ تحت شعور کی بدولت ہی دیتا ہے جبکہ باقی 20فی صدعادات اسے شعور کی مدد سے بنانی پڑتی ہیں۔اگر یہ 20فی صد کا مارجن نہ ہو تو پھر انسان پولیس یا فوج میں بھرتی نہیں ہوسکتا اور ٹریننگ و تربیت کانتیجہ ہی ختم ہوجائے گا،کیونکہ ٹریننگ کے دوران کوئی بھی انسٹرکٹر اسی 20فی صد کے مارجن میں چیزوں کو رکھتا ہے اور اس کی عادات بناتا ہے ۔اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ جو انسان جبلتاً خراب ہے تو پھر اس کو درست کرنا مشکل ہے۔اس کو صرف ایک ہی ذریعے سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے اور وہ ہے انسپائریشن اور مضبوط قوتِ ارادی ۔خوش قسمتی سے اگراس کی زندگی میں کوئی انسان ایسا آجائے جس سے وہ انسپائر ہوجائے یا اس کی اپنی Will powerاتنی زبردست ہو کہ وہ اپنی عادات کے خلاف کھڑا ہوجائے تو ٹھیک ورنہ ۔۔اس کی عادت بدلنا بڑا مشکل ہے۔
والدین اپنی تربیت میں دراصل اپنے بچوں کو عادت دے رہے ہوتے ہیں۔آپ نے جتنی اچھی عادات اپنے بچوں کو دی ہوتی ہیں اتنے ہی وہ کامیاب ہوتے ہیں۔بھارت کے سابق صدرعبد الکلام کاکہنا ہے کہ ’’آپ اپنے مستقبل کو نہیں بدل سکتے مگر اپنی عادات بدل کر اپنا مستقبل بہتر کرسکتے ہیں۔‘‘اسی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عادات کی ترقی کا نام تربیت ہے ۔
بچوں کو عادت کیسے دی جاتی ہیں؟
والدین مندرجہ ذیل عوامل کی بناء پر اپنے بچوں کو عادات دے سکتے ہیں:
(۱)Pain & pleasureپرنسپل :
انسان کا دل ہمیشہ اس چیز کو پسند کرتا ہے جس میں اس کو مزہ آتا ہے اور اس کو ناپسند کرتا ہے جس میں اس کو تکلیف ملتی ہے ۔ انسان کی عادات بھی وہی بنتی ہیں جن میں اس کو سرور مل رہا ہو اور جن کاموں میں تکلیف ہو تو وہ اس کو عادت نہیں بناتا۔
بچوں میں نئی عادات پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان عادات کو دلچسپ بنایا جائے۔
(۲)حوصلہ افزائی :
والدین اپنے بچوں کی جس کام پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں ،وہ آہستہ آہستہ ان کی عادت بن جاتی ہے۔آج سے آپ ایک لسٹ بنائیں کہ کن کن چیزوں پر آپ نے شاباشی اور حوصلہ شکنی کرنی ہے۔دراصل حوصلہ افزائی اور تنقید دو ایسے اوزار ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے بچوں کی عادات بنارہے ہوتے ہیں ۔مثال کے طورپر آپ کے بیٹے نے آپ سے کہا:’’بابا آپ نے جوپیسے دیے تھے ،وہ میں نے خرچ کردیے ۔‘‘ آپ نے پوچھا کہ کہاں خرچے؟وہ بتاتا ہے کہ ’’ بابا! چھوٹی بہن کی سالگرہ تھی میں نے اس کے لیے گفٹ لے لیا۔‘‘ اب یہ وہ مقام ہے جہاں آپ کاکوئی بھی ردِعمل بچے کو اچھایا برا بناسکتا ہے ۔ اگرآپ نے کہا :’’ بہت خوب! بہنوں کے لیے ایسا ہی کرنا چاہیے۔‘‘ تو آئندہ وہ دوسروں کی مدد کرے گا،لیکن اگر آپ نے کہا: ’’ میں نے تمہیں دیے تھے ،تم نے بہن پر خرچ کردیے،تمہیں ضرورت ہی کیا تھی ؟؟‘‘تو یہ الفاظ سننے کے ساتھ ہی اس کے ذہن میںیہ بات بھی بیٹھ جائے گی کہ’’ احساس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘
یاد رکھیں !برائی کی شاباشی بڑی برائی کو پیدا کرتی ہے اور اچھائی کی شاباشی بڑی اچھائی کو پیدا کرتی ہے۔
بچوں کو ایک ہدف دیں اور ان سے مستقل وہ کام کروائیں ،کرتے کرتے وہ ان کے شعورمیں موجو د عادات ، نظریات اور ایقان میں تبدیل ہوجائے گا۔ مثلاً آپ نے ان سے کہا :’’بیٹا! معاف کرنا
چاہے ۔‘‘ وہ شاید کہہ دے کہ یہ مشکل کام ہے مگر آپ نے اس سے کئی بار معاف کرایا اور وہ معاف کرنا اس کی عادت بن گئی تو پھر اس کی زندگی بدل جائے گی ،کیونکہ پھر اس کومعاف کرنے پر زور نہیں لگانا پڑے گا،بلکہ لاشعوری طورپر وہ اس کو کرگزرے گا۔
بہترین عادات میں سے ایک عادت Proactivenesبھی ہے یعنی وقت سے پہلے تیار ہونا،اس کے ساتھ ساتھ کچھ چیزوں سے بے فکری بھی دے دیں ۔ہم نے بچوں کو سب سے بڑی فکر یہ دی ہے کہ’’ لوگ کیا کہیں گے؟‘‘حالانکہ یہ سوچ اس معاشرے کے سینکڑوں اور ہزاروں بیماریوں کی جڑ ہے۔
ہر بچے کو اللہ نے کوئی نہ کوئی انرجی دی ہوتی ہے، جس کو ٹیلنٹ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کو دریافت کرنا اور اس کے مطابق اس کو مصروفیت دینا یہ والدین کی اہم ذمہ داری ہے ۔
کسی بھی انسان کواگر پیشن کے ساتھ پروفیشن نہ ملے تو وہ ضائع ہوجاتاہے۔بچے کی انرجی معلوم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کو سنا کریں،اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اورپھر اس کے بعد ان کو سہولت بھی دیں ،یعنی ان کے پیشن کے مطابق ان کو ماحول دیں اور ان کو اپنے ٹیلنٹ کے مطابق رول ماڈلز سے ملوائیں ۔اس کے خوابوں کے شہزادے سے ان کی ملاقات ضرور کروائیں ۔جب بچوں کو آپ نے مختلف شخصیات سے ملوایا ہوتا ہے تو ان کے لیے اپنا آپ ڈھونڈنا انتہائی آسان ہوجاتاہے۔بچوں کو اچھا بنانے کے لیے ضروری ہے کہ والدین خوداچھے بنیں۔جدید ریسرچ کے مطابق والدین کی 65فی صدعادات بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔وہ تمام خوبیاں جو آپ اپنے بچوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے اپنے اندر پیدا کریں ۔
آپ کا بچہ درست ٹریک پر ہے ؟
آپ کابچہ درست ٹریک پر چل رہا ہے یا نہیں ،یہ معلوم کرنے کے لیے تین چیزیں دیکھنا ضروری ہیں۔
(۱)ملنسار ی اورسماجی ذہانت:
آپ دیکھیں کہ اس میں ملنساری اور سماجی ذہانت (سوشل جینیس)کتنی ہے ؟اس موضوع پر ایک کتاب Get to the top کے نام سے موجود ہے جس میں ان لوگوں کی ترقی کے بارے میں معلومات ہیں جن کے اندر سماجی ذہانت اچھی تھی ۔اگرآپ کے بچے میں سوشل جینییس موجود ہے تو آپ مطمئن ہوجائیں۔زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے اور جس بچے میں سماجی ذہانت ہوگی تو یقینی طورپر وہ آگے بڑھ سکے گا،کیونکہ اس کے لیے ٹیم بنانا اور لوگوں کو ساتھ ملاکر چلنا آسان ہوتا ہے۔
میں نے اپنی تدریسی زندگی میں تقریباًچھ سات ہزار بچوں کو پڑھا یا ہے ،جو بچے لوگوں سے دور رہتے ہیں یا جب مہمان آجائیں تو وہ پڑھنا شروع کردیتے ہیں ، ان کوعملی زندگی میں ناکام دیکھا ہے ۔سماجی ذہانت اتنی طاقتور چیز ہے کہ وہ آپ کے گرد میلا لگادیتی ہے ۔اشفاق صاحب کا جملہ ہے کہ ’’انسان اگر سچا ہو اور وہ جنگل میں بھی بیٹھ جائے تو لوگ پگڈنڈیاں بناکراور چل چل کر اس تک پہنچ جاتے ہیں ۔‘‘
(۲)قوتِ ارادی:
آپ کبھی اپنے بچے کے پاس بیٹھ کر اس چیز کی لسٹ بنائیں کہ وہ خود سے کتنا سوچتا ہے اور کتنا کام کرتا ہے ۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اندر قوتِ ارادی موجود ہے ۔اسی قوت کی بدولت وہ نئے اقدامات کرکے زندگی میں آگے بڑھے گا۔
(۳)قربانی:
دیکھیں کہ آپ کابچہ قربانی کتنا دیتا ہے ،بانٹتا کتنا ہے اوراپنے جیب خرچ سے کتنے لوگوں کو کھلاتا ہے؟اگر یہ اوصاف ہیں توپھر اگرچہ وہ اسکول میں نمبرکم لے لے لیکن وہ زندگی میں ترقی کرے گا کیونکہ اس کے اندر قربانی کا جذبہ ہے۔
(۴)سیکھنے کا شوق:
یہ بات معلوم کرنے کے بے شمار طریقے ہیں ۔آ پ ایک انسان کو آزاد چھوڑدیں توجو وہ کرتا ہے اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کوکس چیز کی طلب ہے۔آپ بھی اپنے بچوں کی سرگرمیوں کو نوٹ کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ ان میں کن چیزوں کے سیکھنے کا شوق ہے ۔یہی شوق ہی ان کو آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔
(۵)انسپائریشن :
سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کے بچے کے پاس کوئی انسپائریشن ہے ؟ویسے تو زندگی میں کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے مگر ایک چیز میں نے ضرور دیکھی ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی انسپائریشن ہے تو آپ کامیاب ہوسکتے ہیں۔انسپائریشن کا مطلب ہے کہ کسی کو دیکھ کر ارادہ کرلینا کہ میں نے کچھ بننا ہے ۔
بچپن کی زندگی اسپنج کی طرح ہوتی ہے جس میں وصول کرنے کی بھرپور گنجائش ہوتی ہے ۔جن بچوں کو وقت پر کوئی انسپائریشن مل جائے تو وہ زندگی میں بڑا نام کماتے ہیں ،جبکہ بڑی عمر کی مثال پتھرکی سی ہے ۔آپ نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو یہ کہتے ہیں کہ میں فلاں مشہور شخصیت کے ساتھ اتناعرصہ رہا ہوں لیکن ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔وجہ یہ ہے کہ ان میں اثر لینے کی وہ صلاحیت ختم ہوچکی ہوتی ہے جو بچپن میں ہوتی ہے ۔
انسپائریشن کاوقت پر ملنا بہت ضروری ہے ۔اسی وجہ سے میں نے تعلیمی اداروں کوجو مشورے دیے ہیں ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمیں پہلی جماعت سے سولہویں تک سیرت رسول ﷺ کو پڑھانا چاہیے ۔اسی طرح ایڈمنسٹریشن میں حضرت عمر فاروق ؓ کی زندگی ضرور پڑھانی چاہیے ۔محمد علی جناح ، علامہ اقبال ،نواب آف بہاولپور ، حکیم سعید اور عبدالستار ایدھی کوبھی پڑھانا چاہیے۔انہی سے بچہ انسپائریشن لے گا۔
(۴)بچہ اوریجنل (اصلی) کتنا ہے ؟
ہم بچوں کو شروع ہی سے مصنوعی بنالیتے ہیں ۔ہمارے ہاں یہ رجحان بنتا جارہا ہے کہ بچے کو پہلے پہل انگریزی سکھائیں ،اس کو آرٹیفیشل بنائیں ۔وہ کوٹ ٹائی لگاتا ہے ،آدھے ہاتھ سے مصافحہ کرتا ہے اور بات بھی پوری طریقے سے نہیں کرتا۔نہ اس میں خود احساس ہوتا ہے نہ اگلے سے احساس کرواتا ہے ۔بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو بظاہر تو بڑے خوش لباس اور خوش گفتار ہیں مگر اندر سے کھوکھلے ہیں ، نہ ان کی کوئی فکری نشوونما ہوئی ہے نہ نظریاتی ، بس جس طرح حالات ہوتے ہیں اسی کے مطابق خود کو سنوارلیتے ہیں ۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہوکر صرف اپنے اور اپنے بچوں کے لیے جیتے ہیں ،ان کے دل میں ملک،ملت اور قوم کا احساس نہیں ہوتا۔یاد رکھیں جو انسان پل بڑھ کر صرف اپنی ذات کے قابل ہوجائے وہ ناکام ہے ۔ہاں جو اپنی کامیابی کے ساتھ معاشرے کوبھی کچھ دینے لگ جائے، وہ کامیاب ہے ۔
بچوں کو جہاں اپنے اقدار دینا ضروری ہے وہیں اپنے حقیقی رشتوں کے بھی قریب رکھنا ہے ۔میں والدین سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تمام تر اختلافات کے باوجود بھی اپنے بچوں کوان کے دادا،دادی سے دور نہ کریں ۔ اللہ نے جو رشتے دیے ہیں انہیں نبھائیں اور بچوں کو نبھاکر دکھائیں ۔ بچوں کو اللہ نے رشتوں کی جوانرجی دی ہے وہ ان کو ضرور انجوائے کرائیں ۔اگر آپ ان کو بڑوں سے دور رکھیں گے تو یہ ان کی حق تلفی ہے۔ قابلیت ،اسکلز اور صلاحیتوں میں آپ کے بچے انتہائی ماڈرن اور جدت پسند ہونے چاہییں مگران کاانداز اورطرزِ زندگی اوریجنل( دیسی)ہو،ان میں نرم مزاجی ہو، وہ کہیں بھی بیٹھ کر کھاپی سکیں ۔اپنے بچوں کو یہ بات ضرور سکھائیں کہ بہت ساری چیزوں کونظر اندا ز کرنا ہوتا ہے ،بہت ساری چیزوں کو بھول جانا ہوتا ہے اوربہت ساری باتوں میں اگرانسان فقط خاموشی اختیار کرلے تو معاملات درست ہوجاتے ہیں او ر وہ بلاوجہ کے غموں اور تفرات سے بچ جاتا ہے۔
والدین کا اپنے بچوں پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ان کی بہترین تربیت کریں اور تربیت نام ہے اچھی عادات اپنا نے کا۔ہر انسان کے پاس اچھائی اوربرائی منتخب کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔اختیار کے استعمال سے رویہ بنتا ہے ،رویے سے عادت اورپھر۔۔۔ عادات ہی انسان کی دین ودنیا کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتی ہیں۔
Last edited: