Wasi Shah.

ch adeel

Member
New Member
دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے

سانس بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت
ہم نے اس کام کو بھی کل پہ اٹھا رکھا ہے

روٹھ جاتے ہو تو کچھ اور حسیں لگتے ہو
ہم نے یہ سوچ کے ہی تم کو خفا رکھا ہے

تم جس کو روتا ہوا چھوڑ گۓ تھے اک دن
ہم نے اس شام کو سینے سے لگا رکھا ہے

چین لینے نہیں دیتا یہ کسی طور مجھے
تیری یادوں نے جو طوفان اٹھا رکھا ہے

جانے والے نے کہا تھا کہ وہ لوٹے گا ضرور
اک اسی آس پہ دروازہ کھلا رکھا ہے

مجھے کل شام سے وہ بہت یاد آنے لگا
دل نے مدت سے جو اک شخص بھلا رکھا ہے

آخری بار جو میرے نام آیا تھا وصی
میں نے اس خط کو کلیجے سے لگا رکھا ہے

وصی شاہ
 
290
 
Back
Top