Shehryar Ahmad

tariq warraich

Member
New Member
تمہارے غم، مرے سینے میں رہنا چاہتے ہیں
عجب وحشی قرنطینے میں رہنا چاہتے ہیں

سن اے مجذوب، وہ اہل تظاہر ہم نہیں ہیں
جو خرقے اور پشمینے میں رہنا چاہتے ہیں

ہماری روح ملنا چاہتی ہے روحِ حق میں
یہ آئینے بھی آئینے میں رہنا چاہتے ہیں

کبھی فرقت، کبھی قربت کے قصے چھیڑ کر ہم
کبھی مرنے، کبھی جینے میں رہنا چاہتے ہیں

ترے دامن پہ گرنا چاہتے ہیں میرے آنسو
مرے موتی بھی گنجینے میں رہنا چاہتے ہیں

ہمیں اپنی وفا کے شہر میں واپس بلالو
کہ ہم گلزار ہیں دینے میں رہنا چاہتے ہیں

ہم ایسے شہریاراں بھی کہاں ملتے ہیں صاحب
جو کشکول اور کشکینے میں رہنا چاہتے ہیں

احمد شہریار​
 
Back
Top