Iftikhar Haider.

ch adeel

Member
New Member
جو مدعی تھا کبھی ساتھ جینے مرنے کا
اب اس کے پاس نہیں وقت بات کرنے کا

ہم ایک بار نہیں بار بار مارے گئے
ہمیں جنون چڑھا تھا کسی پہ مرنے کا

وہ پہلے دل میں اترنے کے فن میں طاق ہوا
پھر اس نے سیکھا ہنر بات سے مکرنے کا

جو گفتگو کے بہانے تلاش کرتا تھا
جواز ڈھونڈتا رہتا ہے اب بگڑنے کا

جسے گوارا نہیں ہوں میں بزم ہستی میں
وہ انتظار کرے چار دن گزرنے کا

یہ عشق و عاشقی مطلق ہمارے بس میں نہیں
بس اک وسیلہ ہے مٹی خراب کرنے کا​
 
363
 
Back
Top