دولت کا راز
’’دولت مندوں کی سوچ کے راز مجھ پر اُس وقت کھلے جب میں نے اپنے ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں خودشناسی کے سفر کا آغاز کیا!‘‘
(ٹی ہارو ایکر)
لوگ امیر ہونا چاہتے ہیں، وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کے خواہش مند رہتے ہیں۔ لیکن، حقیقتاً امیر وہ شخص ہے جس نے اپنے اندر کے خزانے کو دریافت کرلیا ہو، جس نے خود کو تلاش کرلیا ہو۔ جس شخص نے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا اور بہتر نتیجہ دیا، وہ شخص امیر ہے۔ امارت کا تعلق بینک بیلنس، پُر تعیش طرزِ حیات، مال و اسباب کی زیادتی، بڑے مکان یا نئی گاڑی کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ اس کاتعلق اپنی تلاش کے ساتھ ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی خواہش کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ ہمارے ہاں نوجوان اس لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ تاکہ وہ امیر ہوجائیں، لیکن وہ تعلیم جو ان نوجوانوں کو خود شناس کردے، اس تعلیم سے وہ محروم ہیں۔دنیا میں انسانوں کی اکثریت اپنے دماغ، اپنی خداد صلاحیتیں استعمال کیے بغیر قبرستان تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ وہ دماغ ہوتے ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو کبھی تلاش نہیں کیا۔
امیر لوگ امیرکیوں تھے؟
ہم قابلیت کے بغیر نتیجہ چاہتے ہیں۔ ہر ٹرینر چاہتا ہے کہ ٹونی رابنس اس کے گھنٹوں کو ہاتھ لگائے۔ ہرکاروباری شخص چاہتا ہے کہ کسی دن بل گیٹس اس سے وقت مانگے۔ ہر دانشور چاہتا ہے کہ لوگ ٹکٹس لے کر مجھے سنیں۔ یہ سب خواہشیں ہیں جو ہر شخص میں پائی جاتی ہیں اور ہر شخص اپنے اندر کے میلینیر کو جانے بغیر یہ خوا ہش پوری کرنا چاہتا ہے۔ وہ جو کہا جاتا ہے کہ دل دریا سمندروں ڈھونگے، یہ اصلی دولت مند ہے۔ اپنی اندر جھاتی مارنے والا امیر ہے۔ اپنے من میں ڈوب کر جو سراغِ زندگی پاتا ہے، وہ دنیا میں خوش حال رہتا ہے۔ تیرے اندر آپ حیاتی ہو کا راز جاننے والا میلینیر ہے۔ اپنے اندر کے اس میلنیر کو
دریافت کیے بغیر ممکن نہیں کہ کوئی بڑا شاعر بن جائے، بڑا دانشور بن جائے، بڑا بزنس مین بن جائے یا بڑا رائٹر بن جائے۔
دولت کا مفہوم
یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ میلینیر کا مطلب یہ نہیں کہ جس کے پاس خوب پیسہ ہو یا بڑی بڑی جاگیریں ہوں۔ اگر آپ کے خیال میں ’’دولت مند‘‘ یا Millionnaire کی تعریف یہی ہے تو آپ غلط فہمی میں ہیں، آپ کو اپنی معلومات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ہر ایک کا راستہ جدا ہے۔ ہر فرد کی منزل الگ ہے۔ کوئی کھیل میں چیمپئن بننا چاہتا ہے تو کسی کیلئے ٹاپ کرنا کمال ہے۔
دنیا میں کام کرنا اتنا اہم نہیں ہوتا بلکہ اہم یہ ہوتا ہے کہ کون سا کام کرنا ہے۔ استقامت میں برکت ہے، مگر اس سے بھی اہم یہ نکتہ ہے کہ آپ وہ کام مستقل مزاجی کے ساتھ کریں جو آپ کی جبلت اور
فطرت کے مطابق ہو۔ یہ وہ کام ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس دنیا میں بھیجا ہے۔ کیا آپ نے اپنے سے کبھی یہ سوال کیا ہے کہ ’’میں جو کام کررہا ہوں، کیا وہ میری جبلت کے مطابق ہے کہ نہیں ہے؟‘‘
خود شناسی طویل عمل ہے
خود کو جاننا ایک لمحے کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک سفر کا نام ہے۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ ایک نشست میں اس سفر کا آغاز ہو اور اس کاانجام پانچ سال بعد آئے لیکن پہلا قدم اٹھانا اور چلنا پہلا کام ہے۔ یہ اہم نہیں کہ مجھے کہیں جانا ہے، بلکہ اہم تر یہ ہے کہ مجھے جانا ’’کہاں‘‘ ہے؟ یہ اہم نہیں ہے کہ مجھے منزل کا انتخاب کرنا ہے بلکہ اہم تر یہ ہے کہ میرے ’’کون سی‘‘ منزل مناسب ہے؟
ان سوالوں کے جواب دو بنیادوں پر تلا ش کیے جاتے ہیں۔ اول، ہمارا دماغ کیا کہتا ہے؛ دوم، ہمارا دل کیا کہتا ہے۔ پاکستانی قوم یہ سنتی ہے کہ دل کیا کہتا ہے، لیکن دماغ کیا کہتا ہے، شاید یہ کبھی نہیں سنا۔ دل سے جنون لینا چاہیے، ہم دل کی سنتے ہیں اور دماغ سے جنون چاہتے ہیں، حالانکہ دماغ کے پاس جنون نہیں ہوتا۔ اگر ان دونوں کا متوازن استعمال کیا جائے اور پھر کسی ماہر مشاور سے مشورہ کرلیا جائے تو آپ زندگی کے بہت سے مسائل سے خود کو بچانے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ آپ اپنے اندر کے خزانوں کو دریافت کرکے اپنی دنیا کے میلنیر بن سکتے ہیں۔
اندر کے خزانے جاننے کی طریقے
1 وارن بفٹ سے کسی نے پوچھا، تم نے کب ڈھونڈا کہ تم دنیا کے اتنے بڑے بزنس مین بنو گے۔ اس نے جواب دیا کہ میں پارک میں لوگوں کو دیکھتا تھا۔ تھوڑے سے پیسے پکڑتا، بوتلیں خریدتا اور تھوڑے سے نفع پروہ چیزیں بیچ کر پلان بناتا تھا کہ مجھے دنیا کا سب سے بڑا بزنس مین بننا ہے۔ وہ لمحہ ہوتا تھا کہ جب میں بوتل پر منافع کا مارجن نکال کر سوچتا تھا کہ میں پڑھوں نہ پڑھوں، ہوں تو میں کاروباری!
2 زندگی میں ان تمام تعریفوں کی فہرست بنائیے جو زندگی میں اندر کے خزانے کی تلاش کے حوالے سے ملیں۔ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ جب میں نے ممتاز مفتی پر پہلا فیچر لکھا تو مفتی صاحب نے بلا کر کہا کہ تیری تحریر زمانہ پڑھے گا۔ میں نے جب اپنی تحریر کی طرف دیکھا تو سوچا کہ میری تحریر کہاں زمانہ پڑھے گا۔ میں نے تو کبھی لکھا ہی نہیں۔ یہ تو پہلی تحریر ہے، لیکن اسی پیشین گوئی نے مجھے کالم
نگار بنادیا۔ زندگی میں کسی کا جملہ ایسا ضرور ہوتا ہے جو آدمی کو جگا دیتا ہے۔ عین ممکن ہے، آپ کام کوئی کر رہے ہوں، لیکن شاباشی کسی اور کام میں مل رہی ہو۔
3 ایسے کاموں کی فہرست بنائیے جنھیں کرتے ہوئے آپ کو تھکاوٹ محسوس نہ ہوتی ہو ۔ کام تھکانے والی چیز ہے اور اگر کوئی ایسا کام ہے جو تھکاتا نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کام نہیں ہے، وہ محبت ہے اور محبت سے کوئی نہیں تھکتا۔
4 وہ کون سے لو گ ہیں جن میں بیٹھ کر توانائی ملتی ہے۔ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں، میں نے دیکھا کہ بھیڑوں کے ایک گلے میں شیر کا بچہ رہنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی ساری عادات بھیڑوں والی ہوگئیں۔ ایک دن اس نے شیروں کا جھنڈ کو دیکھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے ایک شیر نکلا اور اس نے ایک بھیڑ کو چیر پھاڑ دیا۔ اس عمل سے اس بچے کے اندر کا شیر جاگ گیا۔ دنیا میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ آدمی اگر اُن کے ساتھ ر ہے تو موٹیویشن کا لیول انتہائی بلند ہوجاتا ہے۔
5 ان کہانیوں، ان کتابوں، ان فلموں کی فہرست بنائیے جن سے موٹیویشن ملتی ہے۔
6 ان خواہشوں کی فہر ست بنائیے جن کیلئے دعا مانگتے ہوئے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
7 ان خوابوں کی فہرست بنائیے جن کے بارے میں آپ اکثر سو چتے رہتے ہیں۔
8 ان خیالات کی فہرست بنائیے جو آپ کو اکثر آتے رہتے ہیں۔
9 دنیا میں دوبارہ آنے کا موقع ملے تو کیا کر یں گے؟
10 کس نا م کے ساتھ دنیا میں جینا چاہتے ہیں؟ شناخت کیا ہوگی؟ شناخت انسان کی مجبوری ہے۔ یہ مادہ اللہ تعالیٰ نے صرف انسان کے اندر رکھا ہے، کسی اور مخلوق میں نہیں۔
11 جس شناخت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں، اس کے ساتھ کون سی سروس جوڑنا چاہتے ہیں۔
وہ لوگ جو وسائل کا انتظار کرتے ہیں، وہ غلط کرتے ہیں۔ وسائل کو ئی چیز نہیں ہوتی۔ ارادہ اصل شے ہے۔ جب ارادہ سچا ہوتو جو کچھ اس وقت موجود ہے، اسی کے ساتھ کام شروع کردیجیے۔ ہم لوگ اچھے وقت کا انتظار کرتے رہتے ہیں جبکہ اچھا وقت کبھی نہیں آتا۔ جس وقت میں آپ موجود ہیں، وہی سب سے اچھا وقت ہے۔