دِل، واپس لیں
روئے زمین پر موجود انسانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو ڈوبنا چاہتا ہو مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جودنیا کے اس سمندر میں ڈوبنا چاہتے ہیں۔زندگی کے سمندر میں انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا کو اپنے اندر جانے نہ دے مگر بعض اوقات یہ مشکل ہوجاتاہے اور سمندر ہمارے اندر داخل ہو ہی جاتا ہے۔دنیا ہمارے دِل میں جھانک لیتی ہے اور پانی کی طرح۔۔ جو کشتی کو تباہ کردیتا ہے ، دنیابھی جب دل میں داخل ہوجائے تو یہ دِل کو ڈبودیتی ہے۔مجھے وہ کشتی یاد آرہی ہے جو کہ ایسی ہی تباہ ہوگئی تھی ۔انسان جب اپنے دل کی کشتی میں سب کچھ جانے دیتا ہے تو معلوم ہے پھر کیا ہوتا ہے؟مجھے پتا ہے کیونکہ ایک انسان کو میں نے ڈوبتے دیکھاہے۔میری طرح وہ بھی زندگی کی محبت میں بہت زیادہ ڈوبا ہوا ،زندگی تلاش کررہا تھا ۔معلوم ہے بحردنیا نے اس کے ساتھ کیا کیا؟اس کی کشتی کو تباہ کرڈالا،جیسا کہ اس نے میری کشتی کے ساتھ کیا تھا،وہ کشتی پانی میں ڈوب کر بے حد نیچے چلی گئی ۔ اسے کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کس قد ر اوپر آسکے گی یا کوئی چیز اس کو تھام لے گی کہ نہیں۔
وہ ڈوب گئی۔
اگر آپ دنیا کو اپنے دل میں جانے کی اجازت دیتے ہیں تو دنیا آپ کے دِل پر قابض ہوجائے گی اور آپ۔۔۔ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں جاڈوبیں گے۔تب آپ کو معلوم ہوجائے گاکہ آپ کن گہرائیوں جاپڑے ہیں۔دنیاوی محبت او ر گناہوں کے اثر انداز ہونے کی وجہ سے آپ خود کو ٹوٹا ہوا اور تاریکیوں میں گھرامحسوس کریں گے ۔یہی ایک خوفناک بات ہے کہ جب انسان سمندر کی تہہ میں چلا جاتا ہے تووہاں کی تاریکیوں میں روشنی کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔بہرحال ،سمندر کی گہرائی انسان کا ’’انجام‘‘ نہیں ہے۔
یاد رکھیں رات کی تاریکی اگرچہ صبح کے اجالے سے پہلے ہوتی ہے مگر جب سورج نکلتا ہے تو پھراندھیرے کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔ایسا ہی جب تک آپ کادِل دھڑکتا ہے تو یہ زندہ ہے ،مرا نہیں ۔کبھی کبھار سمندر کی تہہ تک ڈوبنا، سفر کا ایک وقفہ ہوتا ہے اور آپ جب ان گہرائیوں میں ہوتے ہیں تو آپ کے پاس ایک انتخاب کا اختیار بھی ہوتاہے۔آپ چاہیں تو وہیں رُک جائیں یہاں تک آپ کی رہی سہی سانس بھی ختم ہواور آپ زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھیں اور۔۔۔یا وہاں موتیوں کوتلاش کریں اور انہیں ڈھونڈکر اپنے ساتھ واپس اوپرلے آئیں ۔یہ کام تیراکی سے سخت مگرجواہرات سے قیمتی ہے۔
اگرآپ اپنے رب کو تلاش کرلیں تو وہ آپ کو بلند کردے گااور سمندر کی تاریکیوں کو اپنی نور کی روشنی سے بدل دے گا۔یار کھیں آپ کی زندگی میں یہ تبدیلی بعض اوقات گرجانے سے ہی شروع ہوتی ہے ۔لہٰذادنیا کے سمندرمیں گرنے کو برا نہ سمجھیں ۔چونکہ یہ ایک اکیلااور نچلا ترین مقام ہے اور یہاں موجود شخص خود کو بے بس تصور کرتا ہے،اس لحاظ سے یہاں عاجزی رہتی ہے ،اس کواپنائیں ،اس کو سیکھیں اس کو اپنے اندر بھریں اور پھر پہلے سے زیادہ مضبو ط ،پرعزم اور اپنی ضروریات سے باخبرہوکر واپس پلٹیں ۔اپنی بے اہمیتی اور رب کی عظمت کو دیکھ کر واپس آجائیں ۔یادرکھیں اگر آپ اس حقیقت کو دیکھ چکے ہیں ،تو آپ بہت کچھ دیکھ چکے ہیں ۔وہ شخص جس نے حقیقتاً دھوکا کھایا، یہ وہ ہے جو اپنے آپ کو تو دیکھتا ہے مگر اپنے رب کو نہیں ۔محروم شخص وہ ہے جس نے خدا کی خاطر اپنی بے بسی کو برداشت نہیں کیا ۔وہ اپنے ہی بنائے ہوئے مقصد پرانحصار کرتا ہے اور رب کے مقصد کو بھول جاتا ہے جو اس کی روح کامقصدہے او ر ہر اس چیز کابھی جو اس کائنات میں تخلیق کی گئی ہے۔
اپنے آپ کو واپس لانے کے لیے خدا کو تلا ش کریں۔ وہ کرم کرتا ہے ،وہ آپ کی کشتی کو دوبارہ جوڑدے گا۔دِل، جس کو آپ ہمیشہ ٹوٹا ہوا محسوس کرتے تھے ،اس کو جوڑ دے گا۔جو بھی کچھ ضائع ہوچکا ہے وہ دوبارہ آجائے گامگر یاد رہے کہ یہ سب کچھ وہ تب کرے گا جب آپ اس کو تلاش کریں۔اور جب وہ آپ کو محفوظ بنالے تو بحرِدنیامیں گرنے پراس سے معافی مانگیں،اپنے اس فعل پر پچھتائیں البتہ مایوس مت ہوں ۔جیسا کہ ابن القیم ؒ نے فرمایاکہ جب حضرت آدم ؑ جنت سے نکلے تو شیطان بہت خوش ہوامگر وہ نہیں جانتا تھا کہ جب ایک غوطہ خور سمندر میں ڈوبکی لگاتا ہے تو وہ ہیروں کو جمع کرکے واپس نکلتا ہے۔
توبہ اور رجوع الی اللہ ایک حیرت انگیز اور طاقتور چیز ہے ،یہ دِل کے لیے ایک پالش ہے ۔یہ اتنا حیرت انگیزپالش ہے کہ یہ صرف صاف نہیں کرتا بلکہ یہ اس چیز کو پہلے والی گندی حالت سے زیادہ چمک دار بناتاہے۔اگر آپ اللہ کی طرف پلٹیں ،اس کی مغفرت کو تلاش کریں اور اپنی زندگی اور اپنے دِل کو دوبارہ اس کی طرف متوجہ کریں تو آپ کے اندر یہ قابلیت پیدا ہوجائے گی کہ پھر آپ زیادہ طاقتور بن جائیں گے اورپھردنیا کے سمندر میں کبھی بھی نہیں گریں گے۔ابن القیم ؒ نے لکھا ہے:
سلف صالحین میں سے کسی کاقول ہے کہ ایک انسان ایک گناہ کرتا ہے جو اس کو جنت میں داخل کردیتا ہے اور دوسرا شخص اچھا عمل کرتا ہے لیکن وہ اس کو جہنم میں لے جاتا ہے۔کسی نے پوچھا:یہ کیسے ہوسکتا ہے تو وہ بولے:گناہ کرنے والا شخص مسلسل اپنے گناہ کے بارے میں سوچتا ہے ۔یہ سوچ اس میں خوف پیدا کردیتی ہے اور اس پر مجبو ر کرتی ہے کہ وہ اس پر پچھتائے ،اس پر روئے اوراس گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سامنے شرمندہ ہو۔پھروہ اللہ کے سامنے ٹوٹے دِل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اس کا سر عاجزی سے جھکا ہوتا ہے۔لہٰذ ا یہ گناہ اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے بہ نسبت زیادہ نیکیاں کرنے سے ،نیز یہ کہ یہ ندامت اس کی عاجزی اور انکساری کا باعث بھی بنتا ہے جو کہ انسان کو خوشی اور کامیابی کی طرف لے کرجاتی ہے اور بالآخر یہ گناہ اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتا ہے۔جبکہ نیک عمل کرنے والا،وہ اس بات پر غور نہیں کرتا کہ یہ نیکی اس کے رب کی طرف سے اس پر احسان ہے ،بلکہ وہ یہ کہتے ہوئے تکبر اور اپنی ذات کے گھمنڈمیں مبتلا ہوجاتا ہے کہ :میں نے اتنی اتنی اتنی اور اتنی نیکیاں کیں ۔یہ خصلت اس کی ذات کی برتری ،تکبر اور فخرکو بڑھاتی ہے ،اس طرح یہ چیز اس کے جہنم میں داخلے کا باعث بن جاتی ہے۔
اللہ ہمیں قرآن میں یاددلاتا ہے کہ اپنی امید کو کبھی مت کھونا۔وہ فرماتاہے: کہہ دو ،اے میرے بندو!جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ،اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہونا، بے شک وہ مہربان اور معاف کرنے والا ہے۔ (القرآن:39:53)
یہ ان تمام لوگوں کے لیے پکار ہے جو اپنے نفس کے ظلم کے غلام ہیں ،جو نفس اور خواہشات کے جیل کے قیدی ہیں ۔یہ پیغا م ہے ان تمام لوگوں کے لیے جو دنیا کے سمندر میں ڈوب چکے ہیں ، اس کی تہہ تک جا چکے ہیں اور اس کی خوب صورت لہروں سے دھوکا کھاچکے ہیں ۔
اوپر آجاؤ، پاکیزہ ہوا کی طرف آجاؤ،سمندری جیل کے اوپرموجودحقیقی دنیا کی طرف واپس آجاؤ۔اپنی آزادی اور اپنی زندگی کی طرف واپس آجاؤاپنی روح کی موت کو پیچھے چھوڑدو۔آپ کا دِل پہلے سے زیادہ طاقتور ،زیادہ مخلص اور زندہ ہوسکتا ہے ۔کیا توبہ آپ کے دِ ل کو پالش کرکے پہلے سے زیادہ خوب صورت نہیں بناتا؟
اس پردے کو ختم کردیں جو آپ نے اپنے گناہوں کی نحوست سے بنایا ہوا ہے۔یہ پردہ آپ کے اورزندگی کے درمیان ، آپ کے اور آزادی کے درمیان ،آپ کے اور روشنی کے درمیان اور آپ کے اور خد ا کے درمیان لٹک رہا ہے۔اس کو ختم کریں اور اوپرآجائیں۔اپنے آپ کی طرف واپس آجائیں ۔واپس آجائیں اس مقام پر جہاں سے آپ نے آغاز کیا تھا۔گھر کی طرف واپس آجائیں۔یاد رکھیں کہ جب آپ کے سامنے باقی تمام دروازے بند ہوجائیں تو ایک دروازہ ایساہے جو ہمیشہ کھلا رہتاہے ۔اس کو تلاش کریں تو رَب آپ کوسمندر کی ظالم لہروں کی چنگل سے اپنے سورج کی مہربانی میں پناہ دے دے گا۔
یہ دنیا آپ کو توڑ نہیں سکتی جب تک کہ آپ اس کو اجازت نہ دیں۔ یہ آپ پر قبضہ نہیں کرسکتی جب تک آپ اس کواپنی چابیاں نہ دیں۔۔اپنا دِل نہ دیں اور اگر۔۔۔ ایسا ہوچکا ہے کہ آپ نے اپنی چابیاں دنیا کو دے دی ہیں تو اب ان کو واپس لے لیں ۔یادرکھیں یہ دنیا آپ کا انجام نہیں ہے بلکہ ایک سفر ہے ۔آ پ یہاں اس لیے نہیں ہیں کہ مر جائیں ۔اپنے دِل کو واپس لے لیں اور اس کو اپنے مالک حقیقی کے پاس رکھیں ،اللہ کے پاس،جس کواپنی محبت سے لبریز دِل بہت پسند ہے۔
روئے زمین پر موجود انسانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو ڈوبنا چاہتا ہو مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جودنیا کے اس سمندر میں ڈوبنا چاہتے ہیں۔زندگی کے سمندر میں انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا کو اپنے اندر جانے نہ دے مگر بعض اوقات یہ مشکل ہوجاتاہے اور سمندر ہمارے اندر داخل ہو ہی جاتا ہے۔دنیا ہمارے دِل میں جھانک لیتی ہے اور پانی کی طرح۔۔ جو کشتی کو تباہ کردیتا ہے ، دنیابھی جب دل میں داخل ہوجائے تو یہ دِل کو ڈبودیتی ہے۔مجھے وہ کشتی یاد آرہی ہے جو کہ ایسی ہی تباہ ہوگئی تھی ۔انسان جب اپنے دل کی کشتی میں سب کچھ جانے دیتا ہے تو معلوم ہے پھر کیا ہوتا ہے؟مجھے پتا ہے کیونکہ ایک انسان کو میں نے ڈوبتے دیکھاہے۔میری طرح وہ بھی زندگی کی محبت میں بہت زیادہ ڈوبا ہوا ،زندگی تلاش کررہا تھا ۔معلوم ہے بحردنیا نے اس کے ساتھ کیا کیا؟اس کی کشتی کو تباہ کرڈالا،جیسا کہ اس نے میری کشتی کے ساتھ کیا تھا،وہ کشتی پانی میں ڈوب کر بے حد نیچے چلی گئی ۔ اسے کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کس قد ر اوپر آسکے گی یا کوئی چیز اس کو تھام لے گی کہ نہیں۔
وہ ڈوب گئی۔
اگر آپ دنیا کو اپنے دل میں جانے کی اجازت دیتے ہیں تو دنیا آپ کے دِل پر قابض ہوجائے گی اور آپ۔۔۔ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں جاڈوبیں گے۔تب آپ کو معلوم ہوجائے گاکہ آپ کن گہرائیوں جاپڑے ہیں۔دنیاوی محبت او ر گناہوں کے اثر انداز ہونے کی وجہ سے آپ خود کو ٹوٹا ہوا اور تاریکیوں میں گھرامحسوس کریں گے ۔یہی ایک خوفناک بات ہے کہ جب انسان سمندر کی تہہ میں چلا جاتا ہے تووہاں کی تاریکیوں میں روشنی کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔بہرحال ،سمندر کی گہرائی انسان کا ’’انجام‘‘ نہیں ہے۔
یاد رکھیں رات کی تاریکی اگرچہ صبح کے اجالے سے پہلے ہوتی ہے مگر جب سورج نکلتا ہے تو پھراندھیرے کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔ایسا ہی جب تک آپ کادِل دھڑکتا ہے تو یہ زندہ ہے ،مرا نہیں ۔کبھی کبھار سمندر کی تہہ تک ڈوبنا، سفر کا ایک وقفہ ہوتا ہے اور آپ جب ان گہرائیوں میں ہوتے ہیں تو آپ کے پاس ایک انتخاب کا اختیار بھی ہوتاہے۔آپ چاہیں تو وہیں رُک جائیں یہاں تک آپ کی رہی سہی سانس بھی ختم ہواور آپ زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھیں اور۔۔۔یا وہاں موتیوں کوتلاش کریں اور انہیں ڈھونڈکر اپنے ساتھ واپس اوپرلے آئیں ۔یہ کام تیراکی سے سخت مگرجواہرات سے قیمتی ہے۔
اگرآپ اپنے رب کو تلاش کرلیں تو وہ آپ کو بلند کردے گااور سمندر کی تاریکیوں کو اپنی نور کی روشنی سے بدل دے گا۔یار کھیں آپ کی زندگی میں یہ تبدیلی بعض اوقات گرجانے سے ہی شروع ہوتی ہے ۔لہٰذادنیا کے سمندرمیں گرنے کو برا نہ سمجھیں ۔چونکہ یہ ایک اکیلااور نچلا ترین مقام ہے اور یہاں موجود شخص خود کو بے بس تصور کرتا ہے،اس لحاظ سے یہاں عاجزی رہتی ہے ،اس کواپنائیں ،اس کو سیکھیں اس کو اپنے اندر بھریں اور پھر پہلے سے زیادہ مضبو ط ،پرعزم اور اپنی ضروریات سے باخبرہوکر واپس پلٹیں ۔اپنی بے اہمیتی اور رب کی عظمت کو دیکھ کر واپس آجائیں ۔یادرکھیں اگر آپ اس حقیقت کو دیکھ چکے ہیں ،تو آپ بہت کچھ دیکھ چکے ہیں ۔وہ شخص جس نے حقیقتاً دھوکا کھایا، یہ وہ ہے جو اپنے آپ کو تو دیکھتا ہے مگر اپنے رب کو نہیں ۔محروم شخص وہ ہے جس نے خدا کی خاطر اپنی بے بسی کو برداشت نہیں کیا ۔وہ اپنے ہی بنائے ہوئے مقصد پرانحصار کرتا ہے اور رب کے مقصد کو بھول جاتا ہے جو اس کی روح کامقصدہے او ر ہر اس چیز کابھی جو اس کائنات میں تخلیق کی گئی ہے۔
اپنے آپ کو واپس لانے کے لیے خدا کو تلا ش کریں۔ وہ کرم کرتا ہے ،وہ آپ کی کشتی کو دوبارہ جوڑدے گا۔دِل، جس کو آپ ہمیشہ ٹوٹا ہوا محسوس کرتے تھے ،اس کو جوڑ دے گا۔جو بھی کچھ ضائع ہوچکا ہے وہ دوبارہ آجائے گامگر یاد رہے کہ یہ سب کچھ وہ تب کرے گا جب آپ اس کو تلاش کریں۔اور جب وہ آپ کو محفوظ بنالے تو بحرِدنیامیں گرنے پراس سے معافی مانگیں،اپنے اس فعل پر پچھتائیں البتہ مایوس مت ہوں ۔جیسا کہ ابن القیم ؒ نے فرمایاکہ جب حضرت آدم ؑ جنت سے نکلے تو شیطان بہت خوش ہوامگر وہ نہیں جانتا تھا کہ جب ایک غوطہ خور سمندر میں ڈوبکی لگاتا ہے تو وہ ہیروں کو جمع کرکے واپس نکلتا ہے۔
توبہ اور رجوع الی اللہ ایک حیرت انگیز اور طاقتور چیز ہے ،یہ دِل کے لیے ایک پالش ہے ۔یہ اتنا حیرت انگیزپالش ہے کہ یہ صرف صاف نہیں کرتا بلکہ یہ اس چیز کو پہلے والی گندی حالت سے زیادہ چمک دار بناتاہے۔اگر آپ اللہ کی طرف پلٹیں ،اس کی مغفرت کو تلاش کریں اور اپنی زندگی اور اپنے دِل کو دوبارہ اس کی طرف متوجہ کریں تو آپ کے اندر یہ قابلیت پیدا ہوجائے گی کہ پھر آپ زیادہ طاقتور بن جائیں گے اورپھردنیا کے سمندر میں کبھی بھی نہیں گریں گے۔ابن القیم ؒ نے لکھا ہے:
سلف صالحین میں سے کسی کاقول ہے کہ ایک انسان ایک گناہ کرتا ہے جو اس کو جنت میں داخل کردیتا ہے اور دوسرا شخص اچھا عمل کرتا ہے لیکن وہ اس کو جہنم میں لے جاتا ہے۔کسی نے پوچھا:یہ کیسے ہوسکتا ہے تو وہ بولے:گناہ کرنے والا شخص مسلسل اپنے گناہ کے بارے میں سوچتا ہے ۔یہ سوچ اس میں خوف پیدا کردیتی ہے اور اس پر مجبو ر کرتی ہے کہ وہ اس پر پچھتائے ،اس پر روئے اوراس گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سامنے شرمندہ ہو۔پھروہ اللہ کے سامنے ٹوٹے دِل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اس کا سر عاجزی سے جھکا ہوتا ہے۔لہٰذ ا یہ گناہ اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے بہ نسبت زیادہ نیکیاں کرنے سے ،نیز یہ کہ یہ ندامت اس کی عاجزی اور انکساری کا باعث بھی بنتا ہے جو کہ انسان کو خوشی اور کامیابی کی طرف لے کرجاتی ہے اور بالآخر یہ گناہ اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتا ہے۔جبکہ نیک عمل کرنے والا،وہ اس بات پر غور نہیں کرتا کہ یہ نیکی اس کے رب کی طرف سے اس پر احسان ہے ،بلکہ وہ یہ کہتے ہوئے تکبر اور اپنی ذات کے گھمنڈمیں مبتلا ہوجاتا ہے کہ :میں نے اتنی اتنی اتنی اور اتنی نیکیاں کیں ۔یہ خصلت اس کی ذات کی برتری ،تکبر اور فخرکو بڑھاتی ہے ،اس طرح یہ چیز اس کے جہنم میں داخلے کا باعث بن جاتی ہے۔
اللہ ہمیں قرآن میں یاددلاتا ہے کہ اپنی امید کو کبھی مت کھونا۔وہ فرماتاہے: کہہ دو ،اے میرے بندو!جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ،اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہونا، بے شک وہ مہربان اور معاف کرنے والا ہے۔ (القرآن:39:53)
یہ ان تمام لوگوں کے لیے پکار ہے جو اپنے نفس کے ظلم کے غلام ہیں ،جو نفس اور خواہشات کے جیل کے قیدی ہیں ۔یہ پیغا م ہے ان تمام لوگوں کے لیے جو دنیا کے سمندر میں ڈوب چکے ہیں ، اس کی تہہ تک جا چکے ہیں اور اس کی خوب صورت لہروں سے دھوکا کھاچکے ہیں ۔
اوپر آجاؤ، پاکیزہ ہوا کی طرف آجاؤ،سمندری جیل کے اوپرموجودحقیقی دنیا کی طرف واپس آجاؤ۔اپنی آزادی اور اپنی زندگی کی طرف واپس آجاؤاپنی روح کی موت کو پیچھے چھوڑدو۔آپ کا دِل پہلے سے زیادہ طاقتور ،زیادہ مخلص اور زندہ ہوسکتا ہے ۔کیا توبہ آپ کے دِ ل کو پالش کرکے پہلے سے زیادہ خوب صورت نہیں بناتا؟
اس پردے کو ختم کردیں جو آپ نے اپنے گناہوں کی نحوست سے بنایا ہوا ہے۔یہ پردہ آپ کے اورزندگی کے درمیان ، آپ کے اور آزادی کے درمیان ،آپ کے اور روشنی کے درمیان اور آپ کے اور خد ا کے درمیان لٹک رہا ہے۔اس کو ختم کریں اور اوپرآجائیں۔اپنے آپ کی طرف واپس آجائیں ۔واپس آجائیں اس مقام پر جہاں سے آپ نے آغاز کیا تھا۔گھر کی طرف واپس آجائیں۔یاد رکھیں کہ جب آپ کے سامنے باقی تمام دروازے بند ہوجائیں تو ایک دروازہ ایساہے جو ہمیشہ کھلا رہتاہے ۔اس کو تلاش کریں تو رَب آپ کوسمندر کی ظالم لہروں کی چنگل سے اپنے سورج کی مہربانی میں پناہ دے دے گا۔
یہ دنیا آپ کو توڑ نہیں سکتی جب تک کہ آپ اس کو اجازت نہ دیں۔ یہ آپ پر قبضہ نہیں کرسکتی جب تک آپ اس کواپنی چابیاں نہ دیں۔۔اپنا دِل نہ دیں اور اگر۔۔۔ ایسا ہوچکا ہے کہ آپ نے اپنی چابیاں دنیا کو دے دی ہیں تو اب ان کو واپس لے لیں ۔یادرکھیں یہ دنیا آپ کا انجام نہیں ہے بلکہ ایک سفر ہے ۔آ پ یہاں اس لیے نہیں ہیں کہ مر جائیں ۔اپنے دِل کو واپس لے لیں اور اس کو اپنے مالک حقیقی کے پاس رکھیں ،اللہ کے پاس،جس کواپنی محبت سے لبریز دِل بہت پسند ہے۔