Akbar AB

Abrar

Member
New Member
گل تو اس خاک داں سے آتے ہیں
رنگ ان میں کہاں سے آتے ہیں

ساری چیزیں بدل سی جاتی ہیں
جب یقیں پر گماں سے آتے ہیں

باہر آتے ہیں آنسو اندر سے
جانے اندر کہاں سے آتے ہیں

کون کہتا تھا خاک اڑتی ہے
یہ سمندر جہاں سے آتے ہیں

پھول بھی بھیجتا ہے تحفے میں
تیر جس کی کماں سے آتے ہیں

تم بھی شاید وہیں سے آئے ہو
اچھے موسم جہاں سے آتے ہیں

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
کون سے آسماں سے آتے ہیں
 
282
 
Back
Top