عینک کتاب پر رکھتے ہوئے میں نے پلٹ کر کہا ہاں! ہاں! کیوں نہیں بولو کیا بات ہے؟
( اس سے پہلے کہ میں چائے پی کر بتاتا کہ کیسی بنی ہے میں نے اس بات کا جاننا زیادہ ضروری سمجھا جو وہ کہنا چاہتی تھی) کیا بات پہلے وہ تو بتا دو؟
ارے! پہلے چائے چکھ کر بتائیے کیسی بنی ہے، بات بھی بتا دونگی کونسا میں کہیں بھاگی جا رہی ہوں
(میں اس کی بات پر مسکرانے کی کوشش کی) کپ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور چائے کا کپ اٹھا کر گھونٹ بھرا لیکن چائے میں کڑواہٹ اس قدر تھی کہ مجھے واپس تھوکنا پڑا اور چلاتے ہوئے پوچھا یہ کیا ہے؟ چائے بنانی نہیں آتی تمہیں؟ یہ کیسی چائے بنائی ہے اتنی کڑوی؟
وہ مسکراتی ہوئی کرسی سے اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی
(اس کا مسکرانا میرے غصے میں اضافہ کر رہا تھا لیکن میں رک گیا)
ایک تو چائے ایسی بنائی اوپر سے ہنس رہی ہو۔ آخر! چاہتی کیا ہو، تم؟
وہ مسکراتی ہوئی پلٹی اور بولی کچھ نہیں
بس اتنا بتانا تھا کہ آپ کا لہجہ اس چائے سے زیادہ کڑوہ ہے اگر آپ اس کڑوی چائے کا ایک گھونٹ حلق سے نہیں اتار سکے تو سوچیں کہ آپ کے لہجے کے ہزاروں کڑوے گھونٹ ایک نازک لڑکی کیسے روز سہہ لیتی ہے؟
اتنا کڑوا...! اتنی کڑواہٹ...؟ کیا سچ میں۔۔۔۔۔؟؟.