آج 21 اپریل علامہ اقبال کی برسی ہے. اس بابت ایک تاریخی دن ہے اور آپ کو سوشل میڈیا کی وساطت سے علامہ اقبال کے ڈھیر اشعار سننے اور پڑھنے کو مل رہے ہیں. علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں نوجوانوں کو اپنا موضوع بنایا. انہیں معاشرے اور امت کے لیے بہترین فرد بننے پر زور دیا. نوجوانوں کو خودداری کا سبق دیا.
لیکن جب آج کے ہی دن میرے عزیزم ناصر محمود شیخ Nasir Mehmood Sheikh نے لاہور سے حادثات کا ریکارڈ لے کر اعدادوشمار اپنی فیس بک وال پر آویزاں کیے تو یقین مانیے کہ ایک لمحے علامہ اقبال کے شاہینوں کی بجائے سڑکوں پر شطر بے مہار کی طرح، تمام تر احتیاط کو بالائے طاق رکھنے والے آج کے نوجوانوں کی بابت روح فرسا خبریں ملیں. جس نے دل کو رنجیدہ کر دیا.
کسی کو پیش آنے والا ایک حادثہ، اس کے پورے خاندان کیلئے پریشانی کا سبب بنتا ہے.
کیا آپ اور میں سڑک پر آنے کے بعد اپنے حواس قابو میں رکھ سکتے ہیں؟
تھوڑی دیر کا سفر ہوتا ہے وہ تھوڑی دیر ہی ہم نے اپنی سپیڈ کو کنٹرول میں رکھ کر چلنا ہے اس سے نہ صرف ہم محفوظ رہیں گے بلکہ ہمارے گھر والے بھی بے وقت کی پریشانیوں سے بچے رہیں گے.
اور ہاں یہ جو گھر والے اپنے بچوں کو دودھ، دہی لینے بھیجتے ہیں اور بچے کے دروازہ چھوڑنے سے قبل اونچی آواز میں کہتے ہیں ناں "بیٹا جلدی آنا" یا پھر "پتر چھیتی آئیں" بس یہ ایک جملہ بھی ہمارے بچوں کو سپیڈ کے گھوڑے پر بٹھا دیتا.
یاد رکھیے!
آپکی سواری انڈرائیڈ یا 4G والا موبائل نہیں کہ اسے تیز ہی چلنا ہے.
کاش کوئی حکومت ایک ایسا قانون پاس کر دے کہ موٹر سائیکل صرف دو گئیر والے بنا کریں.
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات
لیکن جب آج کے ہی دن میرے عزیزم ناصر محمود شیخ Nasir Mehmood Sheikh نے لاہور سے حادثات کا ریکارڈ لے کر اعدادوشمار اپنی فیس بک وال پر آویزاں کیے تو یقین مانیے کہ ایک لمحے علامہ اقبال کے شاہینوں کی بجائے سڑکوں پر شطر بے مہار کی طرح، تمام تر احتیاط کو بالائے طاق رکھنے والے آج کے نوجوانوں کی بابت روح فرسا خبریں ملیں. جس نے دل کو رنجیدہ کر دیا.
کسی کو پیش آنے والا ایک حادثہ، اس کے پورے خاندان کیلئے پریشانی کا سبب بنتا ہے.
کیا آپ اور میں سڑک پر آنے کے بعد اپنے حواس قابو میں رکھ سکتے ہیں؟
تھوڑی دیر کا سفر ہوتا ہے وہ تھوڑی دیر ہی ہم نے اپنی سپیڈ کو کنٹرول میں رکھ کر چلنا ہے اس سے نہ صرف ہم محفوظ رہیں گے بلکہ ہمارے گھر والے بھی بے وقت کی پریشانیوں سے بچے رہیں گے.
اور ہاں یہ جو گھر والے اپنے بچوں کو دودھ، دہی لینے بھیجتے ہیں اور بچے کے دروازہ چھوڑنے سے قبل اونچی آواز میں کہتے ہیں ناں "بیٹا جلدی آنا" یا پھر "پتر چھیتی آئیں" بس یہ ایک جملہ بھی ہمارے بچوں کو سپیڈ کے گھوڑے پر بٹھا دیتا.
یاد رکھیے!
آپکی سواری انڈرائیڈ یا 4G والا موبائل نہیں کہ اسے تیز ہی چلنا ہے.
کاش کوئی حکومت ایک ایسا قانون پاس کر دے کہ موٹر سائیکل صرف دو گئیر والے بنا کریں.
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات