کاش کہ خوشیاں بکتی ہوتیں

Abdul Hadi

Member
New Member
کاش کہ خوشیاں بکتی ہوتیں
اور دکھوں کا ٹھیلا ہوتا
ایک ٹکے میں آنسو آتے
اور محبت چار ٹکے میں
(پانچ ٹکے میں ساری دنیا)
مفت ہنسی اور مفت ستارے
چاند بھی ٹکڑے ٹکڑے بکتا
خواہش نام چیز نا ہوتی
ہاتھ بڑھا کے سب ملتا
ہم چاہتے تو مر جاتے ناں
جی چاہتا تو جیتے رہتے
اونچے نیچے شہر نا ہوتے
پانی پر بھی گھر ہوتے
(کاش کے اپنے پر ہوتے)
اور وہ گہرا نیلا امبر
سات سمندر پار کے ساحل
جنگل، ندیاں، گرتا پانی
سب کچھ اپنا دھن ہوتا
کسی بھی چیز کی حد نا ہوتی
وہ کرتے جو من ہوتا
چاند کی کرنیں پہن کے جگتے
اور خاموشی اوڑھ کے سوتے
راتیں دن بھر رکتی ہوتیں
کاش کے خوشیاں بکتی ہوتیں....
 
بہت خوب
1f44c.png
 
Back
Top