چلو اُس شہر جاتے ہیں
چلو تقدیر کو پھر آزماتے ہیں
چلو ہم ریت سے پیروں کے جا کر نقش چُنتے ہیں
ہواؤں پر لکھی سرگوشیوں کو آج سُنتے ہیں
چلو پلکوں سے ، نیلے اورسنہرے ریشمی سے خواب بُنتے ہیں
چلو اُس شہر جاتے ہیں
جہاں پر وصل کو زنجیر سے باندھا نہیں جاتا
جہاں تدبیر کو تقدیر سے باندھا نہیں جاتا
معانی کو جہاں تحریر سے باندھا نہیں جاتا
جہاں دل کوکسی جاگیر سے باندھا نہیں جاتا
جہاں پر چاند،تاروں سے مزّین رات ہوتی ہے
جہاں پر چاہتوں کی ہر طرف برسات ہوتی ہے
محبت کی جہاں پر جیت ہوتی ہے،
جہاں پر دل کے سارے دُشمنوں کو مات ہوتی ہے
چلو اُس شہر جاتے ہیں ....
چلو تقدیر کو پھر آزماتے ہیں
چلو ہم ریت سے پیروں کے جا کر نقش چُنتے ہیں
ہواؤں پر لکھی سرگوشیوں کو آج سُنتے ہیں
چلو پلکوں سے ، نیلے اورسنہرے ریشمی سے خواب بُنتے ہیں
چلو اُس شہر جاتے ہیں
جہاں پر وصل کو زنجیر سے باندھا نہیں جاتا
جہاں تدبیر کو تقدیر سے باندھا نہیں جاتا
معانی کو جہاں تحریر سے باندھا نہیں جاتا
جہاں دل کوکسی جاگیر سے باندھا نہیں جاتا
جہاں پر چاند،تاروں سے مزّین رات ہوتی ہے
جہاں پر چاہتوں کی ہر طرف برسات ہوتی ہے
محبت کی جہاں پر جیت ہوتی ہے،
جہاں پر دل کے سارے دُشمنوں کو مات ہوتی ہے
چلو اُس شہر جاتے ہیں ....