زبردست تحریر

ishaal zahra

Member
New Member
دیسی خواتین کو باورچی خانے کے ڈونگے اور ڈبے کس قدر عزیز ہیں اس کا اندازہ صرف وہی لگاسکتے ہیں جن کے گھر ان ڈبوں میں کوئی چیز آتی ہے۔ تعلقات پر ہوسکتا ہے لیکن ڈبے پر نو کمپرومائز ۔۔
1f915.png

فون پہ گفتگو کا محور و مرکز ہی پلاسٹک کے ڈبے ہوتے ہیں
___
اماں : صبح بھائی کے ہاتھ کریلے گوشت بھیج رہی ہوں ، جو پہلے دو ڈبے ہیں نیلے رنگ کے وہ بھی واپس کر دینا یاد سے ۔۔
* تو کیا وہ ڈونگے اور ڈبے لیکر بینک جائے گا ؟
اماں : ڈبے ہی ہیں بم نہیں ، تم بس دے دینا ۔۔
* جی اچھا !
____
* کل ہم اسلام آباد جارہے ہیں اماں
اماں : سفر بخیر ، واپسی پہ انٹر چینج سے گزرتے ہوئے وہ ڈبے پکڑاتی جانا جن میں گجریلا اور اچار بھیجا تھا ۔
* لیکن موٹروے سے آپ کا گھر ستر کلومیٹر دور ہے ۔۔
اماں: تو کیا ہوا ؟ چل کے تھوڑی آنا ہے ۔
* جتنے کا فیول لگے گا اس میں دس نئے ڈبے آجائیں گے
1f915.png

اماں : ٹھیک ہے ، نئے ہی لیتی آنا
___
اماں فلاں جگہ فوتگی ہوگئی ہے، آپ جائیں گی یا ابا ؟
اماں : تمارے ابا ہی جائیں گے ، تم وہ شیشے کا ڈبا لیتی آنا جس میں مربہ بھیجا تھا ۔
* میں تو نہیں آ رہی ، آپ کے داماد ہی آئیں گے ۔
اماں : اچھا تو اس کے ہاتھ بھیج دینا ، کپڑے میں لپیٹ کے شاپر میں ڈالنا ، ٹھیس نہ لگے ۔
* وہ دیں گے کس کو ؟
اماں: تمہارے ابا جنازہ گاہ میں ہونگے، ان کو ۔۔۔
__
* یہ لیں اس بار میں خود ہی لے آئی آپ کے دونوں ڈبے !
اماں : اچھا کیا، لیکن اس کا توڈھکن نیلے رنگ کا تھا ، بدل لائی ہو تم ؟
* کوئی بات نہیں ، ڈھکن لگا تو ہوا ہے نا ۔
اماں: نہیں تم ڈھکن لیتی جاو ، اور وہی نیلا ڈھکن بھیجنا میرا پورا سیٹ خراب ہوتا ہے ۔
___
اماں : آم کا مربہ بنایا تھا ، کل تمہارے بھائی کا شاید چکر لگے میں بھیج دوں گی ۔
* شاپر ڈبل کر دیجے گا ، ڈبے سے شیرہ نہ گرجائے گاڑی میں۔
اماں: میں اس بار شاپر میں ڈال کے ہی بھیج رہی ہوں ، اپنے ڈبے میں ڈال لینا۔ واپس تو تم کرتی نہیں ہو۔
 
Back
Top