جائے گی نہ لہجوں سے رُتِ سرد کبھی بھی
اب سرخ نہیں ہونگے گلِ زرد کبھی بھی
تم اپنے دلاسوں کو وہیں پاس ہی رکھو۔۔۔۔
دشمن نہیں ہو سکتے ہیں ہمدرد کبھی بھی
جب وقت اڑاتا ہے یہاں خاک جنوں کی۔۔۔۔۔
ہٹتی نہیں چہروں پہ پڑی گرد کبھی بھی
کیسے میں قبیلے کو ترے حق میں مناوں ؟
راضی نہیں ہونگے یہ سبھی فرد کبھی بھی
سب تیری ہی بے فیض محبت کی عطا ہیں
تو سمجھا نہیں دل میں اٹھے درد کبھی بھی
حاضر ہے مرا شانہ ، مگر ضبط کرو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔
اے دوست ! نہیں روتے جوانمرد کبھی بھی
اب سرخ نہیں ہونگے گلِ زرد کبھی بھی
تم اپنے دلاسوں کو وہیں پاس ہی رکھو۔۔۔۔
دشمن نہیں ہو سکتے ہیں ہمدرد کبھی بھی
جب وقت اڑاتا ہے یہاں خاک جنوں کی۔۔۔۔۔
ہٹتی نہیں چہروں پہ پڑی گرد کبھی بھی
کیسے میں قبیلے کو ترے حق میں مناوں ؟
راضی نہیں ہونگے یہ سبھی فرد کبھی بھی
سب تیری ہی بے فیض محبت کی عطا ہیں
تو سمجھا نہیں دل میں اٹھے درد کبھی بھی
حاضر ہے مرا شانہ ، مگر ضبط کرو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔
اے دوست ! نہیں روتے جوانمرد کبھی بھی