احساس محبت کا میری ذات پہ رکھ دو

Hamza Abbas

New Member
New Member
احساس محبت کا میری ذات پہ رکھ دو
تم ایسا کرو ہاتھ میرے ہاتھ پہ رکھ دو
معلوم ہے دھڑکن کا تقاضا یہی ہے لیکن
یہ بات کسی خاص ملاقات پہ رکھ دو
یوں پیار سے ملنا یہی مناسب نہیں لگتا
یہ خواب کا قصہ ہے اسے رات پہ رکھ دو
اظہار ضروری ہے تو پھر کہہ دو زباں سے
یہ دل کی کہانی ہے روایات پہ رکھ دو
یہ پیار کی خوشبو میں نیا رنگ بھرے گا
اک پھول اٹھا کر میرے جزبات پہ رکھ دو
ہر وقت تمہارے ہی تصور میں رہوں میں
جادو سا کوئی میرے خیالات پہ رکھ دو
اک میں کہ میرے شہر میں بارش نہیں ہوتی
اک تم کہ ملاقات کو برسات پہ رکھ دو ...
مونوں گی سحر تب ہی کہ جب بات بنے گی
اس بار میری جیت میری مات پہ رکھ دو...
 
Amazing
1f44c.png
 
Back
Top