لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی
بنا کر دے ذرا اِک جام ساقی
پِلا وہ جام جو مدہوش کر دے
مِلے دل کو بھی کچھ آرام ساقی
چلا آیا ہوں تیرے پاس جو میں
نہیں مرنے سوا کچھ کام ساقی
نہ اُس کا اور نہ اپنا بنا میں
نہیں مجھ سا کوئی ناکام ساقی
یونہی گِر کے سنبھلنا سیکھنا ہے
سہارا دے مجھے نہ تھام ساقی
دَورِ...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.