tariq iqbla haavi

  1. Tariq Iqbal Haavi

    اس عید پہ میں نے سوچا ہے

    اس عید پہ میں نے سوچا ہے کچھ الگ سا مجھ کو کرنا ہے کچھ الگ سا مجھ کو دِکھنا ہے کچھ الگ سا اب سنورنا ہے میں نے پوری کیں ہمیشہ ہی اپنی دولت سے اُمیدیں اپنی گزاری ہیں پہلے کتنی ہی نئے کپڑوں میں عیدیں اپنی مگر اب جو دَورِ وبا آیا تو مجھے بھی یاد خدا آیا فکریں جو حد سے بڑھ جائیں جب قرضے سر پر چڑھ...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    میرے مولا صدا سن لے

    بڑے مجبور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے غموں سے چور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے مولا معاف کر دے تو، ہماری سب خطاؤں کو بہت رنجور بیٹھے ہیں، میرے مولا صدا سن لے (طارق اقبال حاوی)
Back
Top