shaam poetry

  1. Tariq Iqbal Haavi

    لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی

    لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی بنا کر دے ذرا اِک جام ساقی پِلا وہ جام جو مدہوش کر دے مِلے دل کو بھی کچھ آرام ساقی چلا آیا ہوں تیرے پاس جو میں نہیں مرنے سوا کچھ کام ساقی نہ اُس کا اور نہ اپنا بنا میں نہیں مجھ سا کوئی ناکام ساقی یونہی گِر کے سنبھلنا سیکھنا ہے سہارا دے مجھے نہ تھام ساقی دَورِ...
Back
Top