inqilab poetry

  1. Tariq Iqbal Haavi

    انقلاب دل سے اُٹھتا ہے

    اے میرے دیس کے لوگو کبھی اک لمحے کو سوچو جس انقلاب کی خاطر سر پہ باندھ کر کفنی گھروں سے تم جو نکلے ہو اُس انقلاب کا عنصر کوئی سا اک بھی تم میں ہے؟ بازار لوٹ کے اپنے دکانوں کو جلا دینا ریاست کے ستونوں کو بِنا سوچے گرا دینا تباہی ہی تباہی ہے خرابی ہی خرابی ہے نہیں کچھ انقلابی ہے نہیں یہ انقلابی ہے...
Back
Top