حسن و دولت ہیں عارضی آخر
خاک ہونی ہے دلکشی آخر
نام، منصب، عروج، شہرت بھی
سب یہ ہوتے ہیں موسمی آخر
کیوں رنجیدہ ہو انکے جانے پر
پنچھی ہوتے ہیں ہجرتی آخر
ایک جگنو میرا ہم نفس بنا
چھٹ گئی ساری تیرگی آخر
تلخ گوؤں کی ہار لازم تھی
میں نے سادھی تھی خامشی آخر
شام مجھ سے ادھار مانگی ہے
تم بھی نکلے ہو...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.