chai shayri

  1. Tariq Iqbal Haavi

    یوں سنگ چاٸے پیتے عمر بیت جاٸے

    بھلے کوٸی کتنی بھی اچھی بناٸے مگر دل کو بھاٸے، تمھاری ہی چاٸے تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگاٸے یہ ٹھنڈی ھواٸیں، بیتابی بڑھاٸیں ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آٸے یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر بھلا کوٸی تنہا یہ کیسے بیتاٸے تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے اک کپ...
  2. Tariq Iqbal Haavi

    اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں

    چلو اک کام کرتے ہیں اس جاتی رت کی کسی شام سنگ چائے پینے کا کوئی اہتمام کرتے ہیں شاید کہ پھر نہ پلٹے یہ حسیں رت شاید کہ پھر نہ لوٹیں یہ حسین پل باقی رہیں نہ شاید خوشگواریاں بھی کل چلو ہم خوشگوار رت میں کچھ لمحے جی لیتے ہیں ٓآﺅ جاناں کسی شام اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں (شاعر: طارق اقبال حاوی)
Back
Top